پرائیویٹ ہسپتالوں میں غیر معیاری خون کی فروخت عام، انتظامیہ خاموش

پرائیویٹ ہسپتالوں میں غیر معیاری خون کی فروخت عام، انتظامیہ خاموش

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  لاہور(جنرل رپورٹر)لاہور کے بڑے ہسپتالوں سے بلڈ بیگ بی ۔ٹی سیٹ اور ہیپاٹائٹس اینڈ ایڈزٹیسٹوں کا سامان چوری کرنیوالے مافیا کے پکڑے جانے کے بعد اب خون فروش مافیا میدان میں آگیا ہے یہ مافیا لاہور کے پرائیویٹ ہسپتالوں سمیت دیگر اضلاع میں بھی بلا خو ف وخطر خون کی سرعام فروخت کررہا ہے اس مافیا کے سرغنہ سرگنگا رام ہسپتال کے بلڈ یونٹ کا ملازم جاوید سراج مسیح ہے جو کہ لیڈ ی ایچی سن ہسپتال سے ناظم سلیم ،میوہسپتال کے بلڈ یونٹ سے شاہد خان ،عمران ،گورنمنٹ نوازشریف شاہدرہ سے عابد رشید اور عامر ،نوازشریف ہسپتال یکی گیٹ سے جانسن مسیح ،ڈسٹرکٹ ہسپتال ہیڈکواٹر ہسپتال میاں منشی ہسپتال سے ارشد علی ،لیڈی ولنگڈن ہسپتال سے میاں منظور حسین سیال سے خون کی بوتلیں خرید کرلاہور سے باہر پرائیویٹ ہسپتالوں کو بھاری قیمت پر فروخت کرتا ہے ۔عموما یہ لوگ پازیٹو گروپ کے خون کی بوتل ایک ہزار سے پندرہ سو روپے اور نیگٹیو گروپ کے خون کی بوتل تین ہزار سے چار ہزار روپے میں فروخت کرتے ہیں اور اکثر اوقات نارمل سلائن ڈال کرایک بوتل کی دو بوتلیں بھی بنالیتے ہیں جو کہ انسانی لوگوں میں جاکر انتہائی مضحر اثرات دکھاتا ہے اس کے علاوہ بلڈ بنکوں کا عملہ کئی کئی سالوں سے ایک ہی جگہ تعینات ہے اور آج تک ان کی تبدیلی لاہور سے باہر نہیں ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ یہ عملہ ایک اسٹیشن پر لمباعرصہ نکال کر وہاں اپنی من مانی کرتا ہے ایک اہلکار جو کہ پیڈ آفس میں کام کرتاتھا نے بتایا کہ بلڈ بنک کے بلڈ بیگ اور کٹوں کی خریداری اور میگا یونٹس کی خریداری میں بھاری گھپلے ہیں جو کہ ڈائریکٹربی ۔ٹی ۔ایس اور اکاﺅنٹ آفیسر مل کرکرتے ہیں اور آڈٹ ٹیم کو علیحدہ بھاری رقم دیکر” سب اچھا “ کی رپورٹ لکھوا لیا جاتا ہے اور اس کا خمیازہ غریب عوام کو بلڈ بیگز بازار سے خرید کر بھگتنا پڑتا ہے ۔سرفراز اور منیر علی نے بتایا کہ بلڈبیگز اور گروپنگ ایجنٹ اور میگا یونٹ کی بھاری تعداد ہیڈ آفس سے چوری ہوتی ہے اور اس میں سٹور کیپر اور کلرکس کے علاوہ ایڈیشنل ڈائریکٹرز بھی شامل جب بھی نزلہ گرتا ہے نچلے عملے پر ہی گرتا ہے انہوںنے کہا کہ ہمارے 4اہلکاروں پراینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے اور انکی ضمنت نہیں ہورہی اگر سیکرٹری صحت نے ان سے مقدمہ واپس نہ لیا تو پنجاب بھر کے بلڈ بنک بندکروادیں گے ۔اس سلسلے میں ڈائریکٹر بی ٹی ایس سے رابطہ کیا گیا تو ڈاکٹر عارف نے کہا کہ کرپٹ ملازمین کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے بلڈبنک کا جو ملازم کرپشن کی نشاندہی کرے گا اسے انعام دیں گے اور کرپٹ ملازمین کیخلاف مقدمہ واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔