انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئر ز پاکستان کا سالانہ کنونشن

انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئر ز پاکستان کا سالانہ کنونشن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(کامرس رپورٹر)انسٹی ٹیوشن آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئر ز پاکستان کا35 واں سالانہ کنونشن اور اجلاس عام فلیٹیز ہوٹل لاہور میںمنعقد ہواجس میں انسٹی ٹیوشن کے ممبروں، پبلک اور کارپورےٹ سیکٹرسے تعلق رکھنے والے ممتاز انجینئر ز کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔ سالانہ کنونشن کا افتتاح ادارے کے سابق صدر انجےنئر شفےق اے صدےقی نے کےا۔انہوں نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ حکومت نے توانائی کے موجودہ بحران پر قابو پانے کے لئے اہم اقدامات کئے ہیں۔اور ابتدائی طور پراسکے لئے ایک مربوط توانائی پالیسی تشکیل دی ہے انہوں نے کہا کہ 2013ءکی توانائی کی بدولت ملک میں2017-18 تک ایک مضبوط پاور سیکٹر کی بنیاد رکھی گئی ہے۔اس پالیسی کے تحت بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹرانسمیشن لائن میں کمی اور توانائی کے لئے استعمال ہونے والے ایندھن کے مو¿ثر استعمال کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے توانائی کی بچت کے اقدامات کے ذریعے کم ازکم 1000میگا واٹ بجلی بچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انجینئر وں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے بہرہ مند ہونا چاہئے تاکہ وہ ملک کو صف اول کے ممالک میں شامل کر سکیں۔ مہمان خصوصی نے کہا کہ ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے پیشہ وارانہ امور کے ماہرین کو فنی اداروں اور مینجمنٹ میں شامل کرنا ہوگا۔ قبل ازیں انسٹیٹیوٹ کے صدر انجینئر محسن ایم سید نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ ملک کو کم ازکم د س ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے اور 45فی صد پاکستانیوں کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے قومی برقی گرڈ سے منسلک نہیں ہیں۔ ہمیں 2030ءتک کم لاگت والی پچاس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی ایسا متبادلہ ذریعہ توانائی ہے جو ہر پاکستانی اپنے گھر میں1تا 5کلوواٹ نصب کر کے حاصل کر سکتا ہے اس طرح موجودہ ڈسٹری بیوشن سسٹم سے تین ہزار میگا واٹ کا لوڈ کم ہوسکتا ہے جو صنعتی شعبے میں استعمال کر کے روزگار کے مزید مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں اس طرح15سے 20کلوواٹ زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر کے ڈسٹر ی بیوشن سسٹم سے مزید 3000ہزار میگا واٹ لوڈ کم کیا جا سکتا ہے اور کاشت کار کو پانی کے مد میں لاگت کی بچت ہو سکتی ہے انہوںنے توقع ظاہر کی کہ موجودہ حکومت ٹیکنیکل وزارتوں پر فنی ماہرین کو تعینات کرے گی جو درست اور مربوط منصوبہ بندی کر کے وقت کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔ادارے کے اعزازی سیکریٹری جنرل انجینئر ڈاکٹر رانا عبدالجبار خان نے اپنی سالانہ رپورٹ میںانسٹی ٹیوشن کی سرگرمیوں کا جائزہ پیش کیا جس میں سیمینار©،سمپوزیم ،ورکشاپس اور لیکچر شامل ہیںانہوں نے ادارے کے ریسرچ جرنل اور NEW HORIZONS کا حوالہ بھی دیاانہوں نے کہا کہ توانائی کا موجودہ بحران توانائی کے متبادل ذرائع مثلاشمسی توانائی، ہوا سے بجلی بنانے اور بائیوماس کو بروئے کار لانے کا تقاضا کرتا ہے ۔
سالانہ کنونشن

مزید :

صفحہ آخر -