طاہر القادری پر قاتلانہ حملے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر وزیر اعظم کو طلب کرینگے ، ہائیکورٹ

طاہر القادری پر قاتلانہ حملے کی رپورٹ پیش نہ کرنے پر وزیر اعظم کو طلب کرینگے ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                          لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے طاہرالقادری پر قاتلانہ حملے کی جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی گمشدگی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر آئندہ سماعت پر کمیشن کی رپورٹ پیش نہ کی گئی تو وزیر اعلیٰ پنجاب کو طلب کریں گے ،فل بنچ نے پنجاب اور وفاقی حکومت سے طاہر القادری کے خلاف درج تمام مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کر لیاہے۔مسٹر جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے گزشتہ روز عوامی تحریک پر پابندی اور طاہرالقادری کے خلاف کارروائی کے لئے دائر درخواست کی سماعت شروع کی تودرخواست گزار کے وکلاءنے موقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت طاہرالقادری پر 1990میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ پیش نہیں کر رہی، ایڈیشل ہوم سیکرٹری احتشام انور فل بنچ کے روبرو پیش ہوئے، فل بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پنجاب میں بیوروکریسی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، حیرت ہے کہ 11کروڑ عوام کے صوبے کو کیسے چلایا جا رہا ہے،ایڈیشنل ہو م سیکرٹری نے کہا کہ ہوم سیکرٹری اعظم سلیمان سانحہ واہگہ بارڈ کے سلسلے میں مصروف ہیں جس پر بنچ نے کہا کہ حکومت کی انہی نااہلیوں کی وجہ سے واہگہ بارڈر جیسے واقعات ہوتے ہیں، آئندہ سماعت تک جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ آئی تو وزیر اعلیٰ پنجاب کو طلب کیا جا ئیگا، درخواست گزار کے وکیل نے متفرق درخواست میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ طاہر القادری کے خلاف وفاقی اور پنجاب حکومت نے چالیس سے زائد مقدمات درج کئے ، طاہر القادری نے کسی مقدمے میں ضمانت نہیں کرائی لیکن اس کے باوجود طاہر القادری بیرون ملک فرار ہو گئے ،طاہر القادری کے خلاف مقدمات اور ان میں تفتیش کا ریکارڈ طلب کرنے کا حکم دیا جائے ، جس پر فل بنچ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سرکار اپنی آسانی کیلئے کام کر رہی ہے، دس روپے چوری کرنے والوں کو گرفتار کر لیا جاتا ہے مگر خاص افراد کو نہیں پکڑا جاتا، بنچ نے پنجاب اور وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ طاہر القادری کیخلاف درج تمام مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا جائے، فل بنچ نے مزید سماعت 13نومبر تک ملتوی کر دی۔
حملہ رپورٹ

مزید :

صفحہ آخر -