خورشید شاہ کی شاہ محمود سے ملاقات، چیف الیکشن کمشنر کیلئے ناموں پر مشاورت، جمہوریت کیلئے خودمختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں: مشترکہ پریس کانفرنس

خورشید شاہ کی شاہ محمود سے ملاقات، چیف الیکشن کمشنر کیلئے ناموں پر مشاورت، ...
خورشید شاہ کی شاہ محمود سے ملاقات، چیف الیکشن کمشنر کیلئے ناموں پر مشاورت، جمہوریت کیلئے خودمختار الیکشن کمیشن چاہتے ہیں: مشترکہ پریس کانفرنس

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پاکستان تحریک انصاف سے بھی مشاورت کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خورشید شاہ نے تحریک انصاف کے رہنماءشاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس دوران چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے متعلق ناموں پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے باضابطہ طور پر نام بھی دے دیا گیا ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے واضح کیا کہ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے مشاورت کروں اور آج اسی سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کے نام پر مشاورت کیلئے شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اپوزیشن کا حصہ ہے اسی لئے ان سے مشورہ کرنے آیا تھا اور اس دوران انہوں نے جسٹس ناصر اسلم زاہد کا نام دیا ہے جبکہ ہم نے جسٹس تصدق جیلانی اور رانا بھگوان داس کا نام دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کیلئے بہتر ہو گا کہ الیکشن کمیشن کو متنازع نہ بنایا جائے۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 2013ءکے انتخابات ہماری رائے میں شفاف نہیں تھے جبکہ شفاف انتخابات جمہوریت کی ضرورت ہے جن کا دارومدار الیکشن کمیشن پر ہوتا ہے، موجودہ الیکشن کمیشن ہمیں قبول نہیں ہے اور ہم الیکشن کمیشن کی تشکیل نو چاہتے ہیں جبکہ ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر ایسا ہو کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے جسٹس ناصر اسلم زاہد کا نام دیا ہے جن کی ذہانت اور دیانتداری پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر پر دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی قدغن نہیں ہے ، خورشید شاہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمشنر کی تعیناتی آئینی پہلو ہے اور چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی سے بنیادی عمل مکمل ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف عدالت سے لے کر ہر فورم تک گئی لیکن انصاف نہ ملا جبکہ مذاکرات سے تحریک انصاف نہیں بلکہ حکومت اٹھ کر گئی۔ عمران خان نے واضح کیا کہ مذاکرات سے انکار نہیں ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں