تھانیدار نے توہین مذہب کا الزام لگا کرزیر حراست ملزم قتل کر دیا

تھانیدار نے توہین مذہب کا الزام لگا کرزیر حراست ملزم قتل کر دیا
 تھانیدار نے توہین مذہب کا الزام لگا کرزیر حراست ملزم قتل کر دیا

  

گجرات (ویب ڈیسک) تھانہ سول لائن کی حوالات میں بند ملزم کو اے ایس آئی نے توہین مذہب کا الزام لگا کر حوالات سے باہر نکال کر کلہاڑی کے وار کر کے قتل کر دیا، ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی پی او کا کہنا ہے کہ ملزم کے معاملے کو توہین مذہب کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، معاملہ مذہبی نہیں توں تکرار سے پیش آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ سول لائن کے اے ایس آئی فراز نوید نے 15کال کی اطلاع پر رات گئے دوران گشت لوگوں سے ہاتھا پائی کرنے کی اطلاع پر عثمان پلازہ جےل چوک کے قریب سے جھنگ کے علاقہ روڈو سلطان کے رہائشی 46 سالہ طفیل حیدر کو علی عمران، انور کو لہولہان کرنے پر پکڑ لیا اور تھانے بند کر دیا جہاں اس نے پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کی۔ اس معاملہ کو پولیس اہلکاروں نے ٹھنڈا کر دیا مگر رات گئے انویسٹی گیشن کے دوران دوبارہ طفیل حیدر ساکن جھنگ نے پولیس سے تلخ کلامی کی جس پر اے ایس آئی فراز نوید نے کمرے میں مسواک کاٹنے کےلئے رکھی گئی کلہاڑی کے وار کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او گجرات رائے اعجاز تھانہ پہنچ گئے اور اے ایس آئی فراز نوید کو گرفتار کروا کر کلہاڑی قبضہ میں لے لی اور نعش عزیز بھٹی شہید ہسپتال پوسٹمارٹم کےلئے منتقل کر دی۔ ڈی پی او گجرات رائے اعجاز نے تھانہ سول لائن کے ایس ایچ او ملک عامر اور محرر مقصود کو معطل کر کے انکے خلاف انکوائری شروع کر دی۔ ڈی پی او نے بتایا کہ یہ قطعی مذہبی معاملہ نہیں ہے تلخ کلامی پر واقعہ رونما ہوا ہے۔ ملزم کا ذہنی توازن بھی درست نہیں بتایا جا رہا ہے۔ اے ایس آئی کا کہنا ہے کہ مقتول طفیل حیدر کو اس لئے قتل کیا کیونکہ اس نے توہین مذہب کی جبکہ اس سے قبل اے ایس آئی کا موقف تھا کہ ہمارے اور مقتول کے درمیان تلخ کلامی اور گالی گلوچ ہو گیا تھا جس پر طیش میں آکر اسے قتل کر دیا گیا۔علاوہ ازیں وزیر اعلی شہباز شریف نے گجرات کے تھانہ سول لائن میں نوجوان کی ہلاکت کے واقعہ کا نوٹس لےتے ہوئے ڈی پی او گجرات سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

مزید : گجرات