سعودی خواتین میں غیر ملکیوں سے شادی کا بڑھتا ہوا رحجان

سعودی خواتین میں غیر ملکیوں سے شادی کا بڑھتا ہوا رحجان
سعودی خواتین میں غیر ملکیوں سے شادی کا بڑھتا ہوا رحجان

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں شادیوں کے تازہ ترین اعدادوشمار سے معلوم ہوا ہے کہ سعودی خواتین کی بڑی تعداد غیر ملکیوں سے شادی کو ترجیح دیتی ہے۔

خبر رساں ادارے  کے مطابق سعودی خواتین معاشرتی پابندیوں سے آزادی، ازدواجی تحفظ اور طلاق کے خطرے سے بچنے کے لئے غیر ممالک کے مردوں سے شادی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ سعودی معاشرے میں مرد عموماً کثیر تعداد میں شادیاں کرتے ہیں اور طلاق کے رجحان میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ایک غیر ملکی سے شادی کرنے والی خاتون صعاد علی نے اس موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ آج کی سعودی خواتین معاشی اور معاشرتی معاملات میں زیادہ آزادی کو پسند کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ غیر ملکی مردوں سے شادی کرنا پسند کرتی ہیں تاکہ انہیں بے جا پابندیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف کلچر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان شادیاں مکہ، جدہ، مدینہ اور طائف میں زیادہ پائی جاتی ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان شہروں میں حج اور عمرہ کی غرض سے آنے والے غیر ملکی بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ دوسری جانب دارالحکومت ریاض اور دیگر جنوبی خطوں کی خواتین میں مضبوط قبائلی روایات کی وجہ سے یہ رجحان کم پایا جاتا ہے۔

ماہر قانون عبدالعزیز دشنان کے مطابق خلیجی ممالک میں سے کویت کے مردوں کی سب سے بڑی تعداد نے سعودی خواتین سے شادی کررکھی ہے جبکہ غیر خلیجی ممالک میں سے یمنی مردوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

سال 2012ءکی اس تحقیق کے مطابق 118 سعودی خواتین نے پاکستانی مردوں سے بھی شادی کررکھی ہے، اگرچہ غیر عرب مردوں سے شادی کا رجحان بہت کم پایا جاتا ہے۔ ملک میں قریبا 7 لاکھ خواتین نے غیر ملکیوں سے شادی کر رکھی ہے جو کہ سعودی خواتین کی کل آبادی کا 10فیصد ہے. یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی شوری کونسل اس وقت سعودی خواتین سے شادی کرنے والے غیر ملکوں کو شہریت دینے کے حوالے سے قانون منظور کرنے پر غور کر رہی ہے.

 

مزید : بین الاقوامی