نئی انتظامیہ ک کاوشیں رنگ لائیں،پی آئی سی ایمرجنسی میں طیاروں کا خاتمہ ،مریضوں کو سہولیات کی فراہمی

نئی انتظامیہ ک کاوشیں رنگ لائیں،پی آئی سی ایمرجنسی میں طیاروں کا خاتمہ ...

  

لاہور (رپورٹ جاوید اقبال) پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی نئی انتظامیہ نے ہسپتال کا چارج سنبھالنے کے بعد 100 دنوں میں ہسپتال کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا ہے ایمرجنسی میں مریضوں کی لمبی لائنوں کا خاتمہ کر دیا ہے اینجیوگرافی کی زائد المعیاد مشینوں کو قابل استعمال بنا لیا ہے جس کے بعد انتظامیہ نے پی آئی سی کو صوبے کا ایک ماڈل اور مریض دوست مرکز صحت بنانے کے لئے ایکشن پلان جاری کردیا ہے جس کے تحت مخیر حضرات کے تعاون سے دوسو بستروں پر مشتمل نئی ایمرجنسی بلاک کی تعمیر 30دسمبر 2015تک مکمل کر لی جائے گی اور 2016کے آغاز میں 2سو بیڈز پر مشتمل ایمرجنسی بلاک میں مریضوں کو سروسز دینا شروع کردی جائیں گی جس کے فوری بعد 140بستروں پر مشتمل وارڈ نئی ایمرجنسی کے اوپر بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے ۔ ایکو کارڈیو گرافی ‘ اینجیو گرافی اور سرجری کی ویٹنگ لسٹ ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔اسی طرح پروینٹو کارڈیالوجی سینٹر کا قیام عمل میں لانے کے منصوبے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے مکمل آٹو مشین کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے ان اقدامات پر سپیکر پنجاب اسمبلی مشیر صحت خواجہ سلمان ‘سیکرٹری صحت اور صدر ایف سی پی ایس پاکستان نے پی آئی سی کے حالیہ دورہ کے موقع پر نئی انتظامیہ کی کاوشوں کو بے حد سراہا ۔اس حوالے سے روز نامہ پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی سی میں بین الاقوامی تعلیم یافتہ فیکلٹی اور دیگر سٹاف کے زیر نگرانی امراض قلب کے مریضوں کی تشخیص کی جاتی ہے ہسپتال کے اندر تشخیصی ٹیسٹ سنٹرز ‘ انٹرنیشنل اور سرجیکل وارڈ ‘ سی سی یو اور آئی سی یو شامل ہیں یہ شعبے آئی ایس او سے تصدیق شدہ ہیں اس قومی ادارہ کے اندر سالانہ بنیادوں پر ڈھائی لاکھ مریض آؤٹ ڈور میں،ایک لاکھ بیس ہزارکا ایمرجنسی میں داخلہ ہوتا ہے تیس ہزار مریضوں کی کارڈیوگرافی سولہ ہزار کی انجیو گرافی اور دو ہزار دل کے آپریشن ہوتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق موجودہ انتظامیہ چیف ایگزیکٹو پروفیسر ندیم حیات ملک اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل ثقلین سمیت دیگر ڈاکٹروں نے اپنے سو دنوں کے دوران مریضوں کی بہتری کے لئے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا۔ ہسپتال کا ماحول مریض دوست بنایا گیا ہے مریضوں سے فیڈ بیک لینے کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے دوسری طرف انتظامیہ نے تمام مشینیں جن میں اینجیو گرافی سی ٹی کی اینجیوگرافی کو فعال بنا دیا ہے ایسی مشینیں جو سابق انتظامیہ نے ناکارہ بنا کر رکھ دی تھیں ان پر چند ہزار رو پے لگا کر ان کو بھی قابل استعمال بنا دیا گیا ہے اس طرح جدید ترین پتھالوجی لیب تعمیر کی گئی ہے لیٹرین کی مکمل تعمیر نو کی گئی ہے پورے ہسپتال کی لائٹیں اور وائرنگ کا نظام تبدیل کیا گیا ہے ہسپتال کی فضاء خوشگوار بنانے کے لئے نئے پھل دار پودے اور گھاس لگائی گئی ہے باغبانی کی نگرانی کے لئے ایک ڈی ایم ایس متعین کیا گیا اور اعلی کارکردگی کے حامل عملے کے لئے نقد انعامات سائیکل سلائی مشین رکھی گئی ہیں ۔ہسپتال میں پہلی دفعہ عالمی یوم قلب اور یوم صفائی منایا گیا ہسپتال کا معلوماتی کتابچہ شائع کیا گیا ۔موجودہ انتظامیہ کی کوششوں سے کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان نے پی آئی سی کو ایف سی پی ایس الیکٹرو فیزیالوجی کے لئے منظور شدہ ادارہ قرار دیا یہ اعزاز حاصل کرکے پی آئی سی پاکستان میں پہلا ادارہ بن گیا ہے پی آئی سی کے دو طلباء نے یو ایچ ایس سے بی ایس سی آنرز کے امتحانات میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی ۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی شہرت یافتہ موجودہ انتظامیہ کی درخواست پر بین الاقوامی کارڈیالوجیسٹ ڈاکٹر کرسٹوفرلف ‘ ویانا آسٹیلیا نے پہلی مرتبہ پی آئی سی میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا جس میں انجیو پلاسٹی کے جدید طریقوں کے بارے میں جونئیر ڈاکٹروں کو تربیت دی گئی ۔

امیہ ک اکوشیں رنگ لائیں،پی آئی سی ایمرجنسی میں طیاروں کا خاتمہ ،مریضوں کو سہولیات کی فراہمی

لاہور (رپورٹ جاوید اقبال) پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی نئی انتظامیہ نے ہسپتال کا چارج سنبھالنے کے بعد 100 دنوں میں ہسپتال کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا ہے ایمرجنسی میں مریضوں کی لمبی لائنوں کا خاتمہ کر دیا ہے اینجیوگرافی کی زائد المعیاد مشینوں کو قابل استعمال بنا لیا ہے جس کے بعد انتظامیہ نے پی آئی سی کو صوبے کا ایک ماڈل اور مریض دوست مرکز صحت بنانے کے لئے ایکشن پلان جاری کردیا ہے جس کے تحت مخیر حضرات کے تعاون سے دوسو بستروں پر مشتمل نئی ایمرجنسی بلاک کی تعمیر 30دسمبر 2015تک مکمل کر لی جائے گی اور 2016کے آغاز میں 2سو بیڈز پر مشتمل ایمرجنسی بلاک میں مریضوں کو سروسز دینا شروع کردی جائیں گی جس کے فوری بعد 140بستروں پر مشتمل وارڈ نئی ایمرجنسی کے اوپر بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے ۔ ایکو کارڈیو گرافی ‘ اینجیو گرافی اور سرجری کی ویٹنگ لسٹ ختم کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔اسی طرح پروینٹو کارڈیالوجی سینٹر کا قیام عمل میں لانے کے منصوبے کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تعاون سے مکمل آٹو مشین کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے ان اقدامات پر سپیکر پنجاب اسمبلی مشیر صحت خواجہ سلمان ‘سیکرٹری صحت اور صدر ایف سی پی ایس پاکستان نے پی آئی سی کے حالیہ دورہ کے موقع پر نئی انتظامیہ کی کاوشوں کو بے حد سراہا ۔اس حوالے سے روز نامہ پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی سی میں بین الاقوامی تعلیم یافتہ فیکلٹی اور دیگر سٹاف کے زیر نگرانی امراض قلب کے مریضوں کی تشخیص کی جاتی ہے ہسپتال کے اندر تشخیصی ٹیسٹ سنٹرز ‘ انٹرنیشنل اور سرجیکل وارڈ ‘ سی سی یو اور آئی سی یو شامل ہیں یہ شعبے آئی ایس او سے تصدیق شدہ ہیں اس قومی ادارہ کے اندر سالانہ بنیادوں پر ڈھائی لاکھ مریض آؤٹ ڈور میں،ایک لاکھ بیس ہزارکا ایمرجنسی میں داخلہ ہوتا ہے تیس ہزار مریضوں کی کارڈیوگرافی سولہ ہزار کی انجیو گرافی اور دو ہزار دل کے آپریشن ہوتے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق موجودہ انتظامیہ چیف ایگزیکٹو پروفیسر ندیم حیات ملک اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سہیل ثقلین سمیت دیگر ڈاکٹروں نے اپنے سو دنوں کے دوران مریضوں کی بہتری کے لئے بہترین انتظامات کو یقینی بنایا۔ ہسپتال کا ماحول مریض دوست بنایا گیا ہے مریضوں سے فیڈ بیک لینے کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے دوسری طرف انتظامیہ نے تمام مشینیں جن میں اینجیو گرافی سی ٹی کی اینجیوگرافی کو فعال بنا دیا ہے ایسی مشینیں جو سابق انتظامیہ نے ناکارہ بنا کر رکھ دی تھیں ان پر چند ہزار رو پے لگا کر ان کو بھی قابل استعمال بنا دیا گیا ہے اس طرح جدید ترین پتھالوجی لیب تعمیر کی گئی ہے لیٹرین کی مکمل تعمیر نو کی گئی ہے پورے ہسپتال کی لائٹیں اور وائرنگ کا نظام تبدیل کیا گیا ہے ہسپتال کی فضاء خوشگوار بنانے کے لئے نئے پھل دار پودے اور گھاس لگائی گئی ہے باغبانی کی نگرانی کے لئے ایک ڈی ایم ایس متعین کیا گیا اور اعلی کارکردگی کے حامل عملے کے لئے نقد انعامات سائیکل سلائی مشین رکھی گئی ہیں ۔ہسپتال میں پہلی دفعہ عالمی یوم قلب اور یوم صفائی منایا گیا ہسپتال کا معلوماتی کتابچہ شائع کیا گیا ۔موجودہ انتظامیہ کی کوششوں سے کالج آف فیزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان نے پی آئی سی کو ایف سی پی ایس الیکٹرو فیزیالوجی کے لئے منظور شدہ ادارہ قرار دیا یہ اعزاز حاصل کرکے پی آئی سی پاکستان میں پہلا ادارہ بن گیا ہے پی آئی سی کے دو طلباء نے یو ایچ ایس سے بی ایس سی آنرز کے امتحانات میں پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی ۔رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی شہرت یافتہ موجودہ انتظامیہ کی درخواست پر بین الاقوامی کارڈیالوجیسٹ ڈاکٹر کرسٹوفرلف ‘ ویانا آسٹیلیا نے پہلی مرتبہ پی آئی سی میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا جس میں انجیو پلاسٹی کے جدید طریقوں کے بارے میں جونئیر ڈاکٹروں کو تربیت دی گئی ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -