انور علی قریشی کا شعری مجموعہ’’ بانگ سرافیل‘‘ شائع ہو گیا

انور علی قریشی کا شعری مجموعہ’’ بانگ سرافیل‘‘ شائع ہو گیا

  

لاہور( پ ر)سابق ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ سنٹرک ماڈل ہائی سکول لوئر مال لاہور و سابق اسسٹنٹ انسپکٹر آف سکولزلاہور ڈویژن انور علی قریشی کا شعری مجموعہ’’بانگ سرافیل ‘‘شائع ہو گیا ہے، کتاب کو انتہائی خلوص و اہتمام کے ساتھ مرتب کرنے والے مسعود احمد قریشی جو دیوان کے صاحبزادے بھی ہیں کے مطابق انور علی قریشی تاریخ کے استاد تھے اور اپنے شاگردوں میں انقلابی روح بیدار کرنے کی سعی کرتے رہے۔ تاہم انہوں نے اپنے مرشد روحانی اقبال کے تتبع میں مقصدی شاعری کا بیڑا اٹھایا۔کتاب شرکت پرنٹنگ پریس نے شائع کی جو تمام معروف بکس سٹالز پر بھی موجود ہے۔جبکہ مسعود احمد قریشی ہاؤس نمبر53،گلی نمبر122 ویشنو گلی، نسبت روڈ نذد دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔

انور علی قریشی 1913میں جالندھر شہر(مشرقی پنجاب) میں پیدا ہوئے انکے والد کا نام مولوی برکت علی تھا جو جالندھر میونسپل کمیٹی کے میونسپل کمشنر اور پیشے کے اعتبار سے سکول ٹیچر تھے۔ شعری مجموعہبانگ سرافیل انور علی قریشی کے مطالعاتی سفر کی کہانی ہے اُن کا سیاسی شعور برطانوی نو آبادیاتی معاشرے میں پروان چڑھا تھا۔ان کے مجموعہ کلام طانوی سامراج سے نفرت کا اظہار اور قرانی تعلیمات کے مطابق مسلمان نوجوانوں کی اسلامی تربیت کے دو دھارے صاف نظر آتے ہیں ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -