آئی ایم ایف کا قرض اور مہنگائی کی نئی لہر!

آئی ایم ایف کا قرض اور مہنگائی کی نئی لہر!

  

وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کے دوران عالمی ادارے نے پاکستان کو50.2ملین ڈالر کی قسط ادا کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے، مذاکرات کے دوران پاکستان کو نئی شرائط سے آگاہ کیا گیا، جو مان لی گئیں۔ خبر کے مطابق ٹیکس جمع کرنے کے حوالے سے جو اطلاعات ملی ہیں ان کے مطابق40ارب روپے کے مزید ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالا جائے گا۔ دبئی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس ہوئی جس سے آئی ایم ایف کے پاکستان کے لئے مشن چیف ہیرالڈ فنگر اور اسحاق ڈار نے خطاب کیا۔آئی ایم ایف کی طرف سے کہا گیا کہ پاکستان کو چار شعبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایک ٹیکسیشن، دوسرا توانائی، تیسرا نجکاری اور چوتھا سرمایہ کاری کے لئے ساز گار فضا بنانا،وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ محصولات کی مد میں ہدف پورا نہیں ہوا۔ دوسری طرف آئی ایم ایف نے جن اصلاحات کا ذکر کیا ہے ان سے واضح طور پر مترشح ہوتا ہے کہ حکومت کو ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کرنے کے علاوہ سبسڈی واپس لے کر بعض نئے ٹیکس لگانا ہوں گے، جبکہ بجلی مہنگی کرنے کے علاوہ نجکاری کا عمل بھی تیز کرنا ہو گا۔ ماہرین کے مطابق یہ کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں ہے۔ اب تک حکومت آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کرتی چلی آئی ہے اور اب بھی ایسا ہی کیا گیا ہے، اِسی بنا پر ایک معاصر نے40ارب روپے کے نئے ٹیکسوں کا اندازہ لگایا ہے جبکہ بجلی مہنگی کرنے سے بھی عوام پر مزید بوجھ لادا جائے گا۔ یہ سب عالمی اداروں سے قرض لینے کا نتیجہ ہے، ان ماہرین کے مطابق معیشت کے استحکام کا دعویٰ کرنے والے وزیر خزانہ ہر دم زرمبادلہ کے ذخائر کی بات کرتے ہیں، جبکہ مالی حالت یہ ہے کہ ڈالر روز بروز مہنگا ہو رہا ہے۔ اب106روپے تک پہنچ چکا، اس کے لئے اب تک کچھ نہیں کیا گیا اور قرض کا نیا بوجھ لادا جا رہا ہے۔ یہ قسط بھی دسمبر میں ہونے والے اجلاس میں جاری کی جائے گی۔ اس سے پہلے شرائط پورا کرنا ہوں گی اور ان سے مُلک میں مزید مہنگائی بڑھے گی۔ یہ سب کشکول توڑ نے کے دعوے کرنے والی حکومت کر رہی ہے

مزید :

اداریہ -