آئیں تاریخ دہرائیں

آئیں تاریخ دہرائیں
آئیں تاریخ دہرائیں

  

ہر انسان کی زندگی میں کبھی کبھی ایسا موڑ آتا ہے جو اُس کی زندگی کا رخ موڑ دیتا ہے ۔آج سے تیس سال پہلے میری زندگی میں ایک ایسا حادثہ ہوا جس نے میری زندگی بدل دی۔ میری والدہ کو کینسر ہوگیا، کیونکہ پاکستان میں کوئی کینسر ہسپتال نہیں تھا تو ہمیں والدہ کو علاج کے لئے بیرون ملک لے جانا پڑا۔ مَیں نے اور میرے گھر والوں نے اُن کو بہت تکلیف میں اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھا۔ اس تمام وقت میں سوچتا رہا کہ میں اور میرا خاندان جس تکلیف سے گزر ا ہے، میرے ہم وطنوں کی زندگی میں جب ایسی تکلیف دہ صورت حال آتی ہوگی تو اُن پر کیا گزرتی ہوگی؟ تب میں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان میں کینسر کے لئے ایک ہسپتال ضرور ہونا چاہئے۔

مجھے معلوم تھا کہ یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اور اس کو اکیلے مکمل کرنا ممکن نہ ہوگا۔ تب میں نے عوام سے اپیل کی اور انہوں نے میرا بھرپور ساتھ دیا اور اللہ کی مہربانی سے اکیس سال پہلے ، 29دسمبر1994ء کو شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر لاہور نے اپنے دروازے مریضوں کیلئے کھول دئیے۔ یہ ہسپتال آج بھی اپنے مشن کے مطابق کینسر میں مبتلا مریضوں کو اُن کی مالی حیثیت سے قطع نظر، بلاامتیاز بین الاقوامی معیار کی معالجاتی سہولتیں فراہم کررہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز اور عوام کی تعلیم و تربیت، اور کینسر کی وجوہات اور اس کے علاج پر تحقیق بھی جاری ہے۔ اس کے لئے میں اُن لوگوں اور خصوصاً بچوں اور خواتین کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے ہسپتال کی تعمیر کے لئے چندہ مہم میں بھرپور جذبے کے ساتھ شرکت کر کے اپنی پاکٹ منی اور اپنے زیور تک عطیہ کرکے ایثار، اخوت، اتحادواتفاق اور خیرخواہی کی ایک مثال قائم کردی۔ تمام مشکلات کے باوجودشوکت خانم ہسپتال دُنیا کا ایک ایسا منفرد ادارہ بن گیا جو اپنے 75 فیصدسے زائد مریضوں کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کینسر کے مفت علاج کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ ادارہ اپنی خدمت اور کارکردگی کی بنیاد پر پورے مُلک میں مثال بن چکا ہے اور یہ سب کچھ آپ کے اعتماد اور مستقل تعاون کی بدولت ہی ممکن ہوا۔ مجھے پوری پاکستانی قوم پر فخر ہے کہ یہ ہسپتال کینسر کے ہزاروں مریضوں کے علاج پر اب تک20ارب روپے سے زائد کی خطیررقم خرچ کرچکا ہے۔

پاکستان میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لئے کینسر کا ایک سپیشل ہسپتال کافی نہیں ہوسکتا لہٰذا ہم نے خیبر پختونخوا میں پاکستان کے دوسرے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کی تعمیر کا فیصلہ کیا، جہاں سے پنجاب کے بعد مریضوں کی سب سے بڑی تعداد علاج ک لئے ہسپتال آتی ہے۔ 2011ء میں، خیبر پختونخوا کی اُس وقت کی حکومت نے حیات آباد، پشاور میں ہسپتال بنانے کے لئے 50کنال زمین عطیہ کی۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ آپ کے بے لوث تعاون کی بدولت 4ارب روپے کی لاگت سے 450,000 سکوئر فٹ پر مشتمل سات منزلہ ہسپتال کی عمارت تکمیل کے قریب ہے۔ مریضوں کے لئے ہسپتال کو انشاء اللہ 29دسمبر 2015ء کو کھول دیا جائے گا، لیکن اس سے قبل، ہمیں ہسپتال کو جدید ترین آلات سے آراستہ کرنے کے لئے 80کروڑ روپے کی ضرورت ہے۔

لاہور ہسپتال میں توسیعی منصوبے جاری رہتے ہیں تاکہ مریضوں کو زیادہ سے زیادہ جدید اور معیاری سہولتیں میسر آ سکیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کینسر کے علاج پر ہونے والے اخراجات اور ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کی وجہ سے ہسپتال کا سال 2015ء کا بجٹ 7.2ارب روپے ہے۔ ہسپتال اس بجٹ کا نصف اپنے وسائل سے اور باقی نصف آپ جیسے مخیر حضرات کی دی ہوئی زکوٰۃ، عطیات اور صدقات وغیرہ سے حاصل کرے گا۔پشاور ہسپتال میں نہ صرف مریضوں کا بلاتفریق علاج ہوگا بلکہ ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی بہتر تربیت ہوسکے گی اور لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی میسّر آئیں گے ۔ اس موقع پر میں بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی ڈاکٹروں خصوصاً کینسر کے ماہر ڈاکٹروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پاکستان آئیں اور نہ صرف درد سے تڑپتے اپنے ہم وطنوں کی خدمت کریں، بلکہ اپنی تعلیم اور تجربہ سے پاکستانی ڈاکٹروں اور دیگر طبّی عملہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں، کیونکہ ہنرمند اور تربیت یافتہ عملہ کسی بھی ادارے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

خیبرپختونخوا، شمالی علاقہ جات، قبائلی علاقے (فاٹا) اور دیگر نزدیکی علاقوں کے لوگوں کے لئے پشاور میں کینسر کا ہسپتال بننے سے اُن کے گھر کے نزدیک ایک بڑی سہولت میسر آجائے گی۔ اس سے پہلے انہیں شوکت خانم ہسپتال لاہور میں مفت علاج کی سہولت تو میسر آجاتی ہے، لیکن گھر سے دورہونے کی وجہ سے لمبے سفرکی پریشانی، سفر اور قیام و طعام کے اخراجات بھاری بوجھ ہیں۔ خاص طور پر ان علاقوں کی خواتین کو علاج کیلئے معاشرتی روک ٹوک اور دیگر مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ شوکت خانم لاہور میں افغانستان سے آئے کینسر کے مریض بھی داخل ہیں ، جنہیں علاج کی بین الاقوامی معیار کی سہولتیں پشاور میں ہی مل جائیں گی۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کے معیار اور یہاں پر دی جانے والی سہولتوں کی تعریف ایک دُنیا کررہی ہے۔ یہ ہسپتال پاکستان کا واحد ہسپتال ہے جسے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طبّ کے میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دینے پر خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

پچھلے چند برسوں میں، بنی نوع انسان کی اچھائی بارے میرا یقین مزید پختہ ہوگیا۔اسی بات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے، آج میںآپ سے مدد کی اپیل کررہا ہوں۔ آئیں پشاور میں پاکستان کے دوسرے شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی تکمیل کے لئے دل کھول کر عطیات دیں جو آنے والے برسوں میں ہزاروں قیمتی زندگیوں کو بچانے کا باعث بنے گا۔ آپ نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا اور مجھے مکمل بھروسہ ہے کہ آپ ایک بار پھر دل کھول کر ہسپتال کی بے لوث مدد کریں گے، جس طرح آپ نے ماضی میں کئی بار کی ۔

مَیں جانتا ہوں مجھے بڑے خواب دیکھنے کی عادت ہے، لیکن ان کو پورا کرنے کی عادت بھی آپ ہی نے مجھ میں ڈالی ہے۔

آئیں تاریخ دُہرائیں

شوکت خانم ہسپتال پشاور مکمل کرکے دکھائیں

مزید :

کالم -