تقدیر کی حکمرانی

تقدیر کی حکمرانی
تقدیر کی حکمرانی

  

عمران خان کی شادی ہوئی تو بہت سے لوگوں کو ریحام خان میں مستقبل کی خاتون اول نظر آئی۔ بعض لوگوں نے ان میں مستقبل کی خاتون وزیراعظم کو دیکھنا شروع کر دیا، مگر طلاق کی اچانک خبر نے ہر طرف افسردگی کی فضا قائم کر دی ہے۔ عمران خان اس طلاق کے متعلق کسی قسم کا سوال برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں، جبکہ ریحام خان کہہ رہی ہیں کہ چھکا مارنا نہیں لمبی پارٹنر شپ کرنا اصل کامیابی ہے اور خواتین کا احترام کئے بغیر معاشرے میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ عمران خان اور ریحام خان دونوں کھل کر طلاق کی وجوہات بیان کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ تجزیہ نگار اور اینکر پرسن اس طلاق کی جتنی زیادہ وجوہات بیان کر رہے ہیں اتنی وجوہات ہم نے مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب میں بھی نہیں پڑھی تھیں۔ ریحام خان کا اصرار ہے کہ انہوں نے نہ تو شادی پیسوں کے لئے کی تھی اور نہ ہی طلاق کی وجہ پیسے بنے ہیں۔ ریحام خان کی جلسوں میں پرجوش شرکت اور دھواں دار تقریروں کی فوٹیج دیکھ کر دکھ سا ہوتا ہے کہ کس طرح قسمت انسان کے بڑے بڑے خوابوں کو چکنا چور کر دیتی ہے۔یہ دُنیا عجب مقام عبرت ہے یہاں کچھ لوگ اقتدار اور شہرت کے لئے سب کچھ کر گزرتے ہیں مگر کچھ حاصل نہیں ہوتا جبکہ کچھ لوگوں کے سامنے اقتدار اور شہرت ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ انہیں قبول کرنے میں باقاعدہ ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ریحام خان کی طلاق کی خبروں اور تبصروں کو دیکھ کر ہمیں جاویر مورو کی کتاب "The Red Saree" یاد آ رہی تھی جو بھارت کی اطالوی نژاد رہنما سونیا گاندھی کی سوانح حیات ہے۔

سونیا نے انگریزی زبان سیکھنے کے لئے کیمبرج میں داخلہ لیا تھا، مگر ان کے اس فیصلے نے اس کی غیر معمولی اقتدار اور شہرت سے ملاقات کرا دی۔ سونیا اٹلی کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے باپ نے اپنی محنت سے مالی معاملات کو بہتر بنایا اور وہ ایک قصبے میں منتقل ہو گئے۔ کنسٹرکشن کے کاروبار سے اس خاندان نے مالی آسودگی تو حاصل کی تھی، مگر انہیں امیر نہیں کہا جا سکتا تھا۔ سونیا کے باپ نے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے پر غیر معمولی توجہ دی تھی۔ سونیا کی خواہش پر اسے انگریزی زبان سیکھنے کے لئے کیمبرج بھجوایا گیا۔ ان دنوں راجیو گاندھی بھی کیمبرج میں تھا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی اور چند ملاقاتوں میں ہی دونوں نے محسوس کیا کہ انہیں قدرت نے ایک دوسرے کے لئے بنایا ہے۔ سونیا کو بالکل احساس نہیں تھا کہ راجیو گاندھی کا تعلق کتنے بڑے سیاسی خاندان سے ہے۔ بھارتی حکومت نے مُلک سے زرمبادلہ بھجوانے پر کڑی پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ اس کی والدہ اندرا گاندھی وزیر اطلاعات تھیں، مگر ان کے پاس اتنی دولت نہیں تھی کہ ان کا بیٹا کیمبرج میں فراخدلی سے خرچ کر سکتا۔ راجیو اپنے دوست سے کار ادھار لیتا تھا اور اس کے علاوہ چھٹیوں میں چھوٹے موٹے کام بھی کرتا تھا۔

راجیو گاندھی اس وقت برطانیہ میں ہی تھا جب اسے خبر ملی کہ اس کی ماں کو وزیراعظم بنایا جا رہا ہے۔ راجیو اس خبر سے خوش نہیں تھا۔ اس نے سونیا گاندھی کو خط میں لکھا ’’مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کچھ لوگ میری ماں کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ وہ اس پیش کش کو قبول نہیں کرے گی، کیونکہ ایسی صورت میں اس کہانی کا خاتمہ ان کی موت کی صورت میں ہوگا‘‘۔ برسوں بعد راجیو گاندھی کا یہ خدشہ سچ ثابت ہوا تھا جب اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، مگر جب 48 سالہ اندرا گاندھی کو وزارتِ عظمیٰ کی پیش کی گئی تو وہ خود متذبذب تھیں۔ اپنے انتخاب سے ایک روز قبل اس نے راجیو گاندھی کو لکھا کہ وہ اس وقت جس دوراہے پر کھڑی ہیں وہاں ان کے دماغ میں بار بار رابرٹ فراسٹ کی وہ نظم آ رہی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اس وقت اپنے آپ کو بادشاہت سے دور رکھنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ جب اس کی خواہش آپ کے اندر موجودہو اور حالات بھی اس کے لئے سازگار ہوں‘‘۔

اندرا گاندھی کو وہ کانگریسی رہنما وزیراعظم بنانا چاہتے تھے، جنہیں 1960ء کے عشرے میں کنگ میکر کہا جاتا تھا اور ان کا خیال تھا کہ اندرا گاندھی ایک ایسی کمزور عورت ہے جس کے برائے نام اقتدار کے پیچھے وہ حقیقی اقتدار کے مزے لے سکتے ہیں۔ انہیں اخبارات کے وہ تبصرے یاد نہیں آئے جن میں کہا گیا تھا کہ بوڑھی عورتوں کی حکومت میں وہ واحد مرد ہے۔ اندرا گاندھی کے اندر وزیراعظم بننے کی خواہش تو موجود تھی، مگر اس کا انہوں نے کبھی کسی سے اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے اس عہدے کے لئے اپنے طور پر تیاری کی تھی، مگر اس روز وہ بے چین تھیں۔ وہ مہاتما گاندھی کی سمادھی پر گئیں، جنہیں وہ اپنا روحانی باپ سمجھتی تھیں۔ اس کے بعد وہ اپنے آبائی گھر مورتی بھون گئیں جو اب نیشنل میوزیم بن چکا تھا۔ وہاں اس نے اس کمرے میں کچھ وقت گزارا یہاں پنڈت نہرو نے اپنی زندگی کے آخری سانس لئے تھے۔ اسے نہرو کا وہ خط یاد آ رہا ہے تھا، جس میں اس نے اندرا کو لکھا تھا ’’بہادر بن جاؤ باقی سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔

اندرا گاندھی کو وہ دن یاد آ رہے تھے جب اس کے والد پنڈت نہرو فوت ہوئے تھے اور اس کا دل دنیا سے اچاٹ ہو گیا تھا۔ اس نے لندن میں ایک چھوٹا سا فلیٹ لے کر کوئی چھوٹی موٹی نوکری کر کے زندگی پُرسکون انداز میں گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ نہرو نے وراثت میں کچھ زیادہ نہیں چھوڑا تھا، کیونکہ وزیراعظم کی تنخواہ میں ان کے سیاسی زندگی کے اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے اور وہ اپنے اثاثے فروخت کرتے رہے تھے۔ اور اندرا گاندھی کو اپنے اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے نوکری کی ضرورت تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سیاسی لیڈوں کو سرکاری خزانے لوٹنے کا فن نہیں آیا تھا اور ان کی اولاد شاہانہ زندگی کا تصور نہیں کر سکتی تھی۔ پھر وہ وزیر اطلاعات بنی اور اب وزارت عظمیٰ کی کرسی اس کی منتظر تھی۔ اگلے دن جب وہ وزیراعظم منتخب ہو کر بھارتی پارلیمنٹ میں تقریر کر رہی تھی تو انہیں اپنے والد پنڈت نہرو یاد آ رہے تھے۔

اندرا گاندھی وزیراعظم بنی تو صفدر جنگ روڈ کی سرکاری رہائش گاہ میں منتقل ہو گئیں۔ اس عمارت میں چار بیڈ رومز تھے جن میں سے ایک کو دفتر اور دوسرے کو استقبالیہ کمرہ بنا لیا۔ اس نے نہرو کی عوام سے ملنے کی روایت کو جاری رکھا تھا۔ صبح آٹھ بجے سے نو بجے تک وزیراعظم ہاؤس کے دروازے سب کے لئے کھلے ہوتے تھے اور ہر طبقے اور علاقے کے لوگ انہیں ملنے کے لئے آتے تھے۔ اندرا گاندھی نے سب کو حیران کر دیا۔ وہ غیر معمولی طور پر کامیاب حکمران ثابت ہوئی۔ اس نے کسی قسم کے دباؤ کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس وقت بھارت میں گائے کی محبت میں انتہا پسند ہندؤوں نے ہنگامہ بپا کر رکھا ہے اور مودی کھل کر ان کی مذمت کرنے کی جرأت بھی نہیں کر پا رہے ہیں، جبکہ اندرا گاندھی کے دور حکومت میں ایک مرتبہ نانگے سادھوؤں نے بھارتی پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کیا کہ مُلک میں گائے کے ذبح کرنے پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ مطالبہ بھارت کے سیکولو آئین سے متصادم تھا جو تمام مذاہب کی عزت کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ احتجاج اس وقت خونی صورت اختیار کر گیا جب مظاہرین نے تشدد شروع کر دیا اور پولیس نے گولی چلائی۔ اس کے بعد اندرا گاندھی نے جرأت سے کہا ’’ مَیں گائے کا تحفظ کرنے والوں سے خوفزدہ ہونے والوں میں سے نہیں ہوں‘‘۔

اندرا گاندھی امریکہ کے دورے پر گئیں تو اس وقت واشنگٹن میں بی کے نہرو بھارتی سفیر تھے اور وہ اندرا گاندھی کے کزن بھی تھے۔ انہیں علی الصبح امریکی صدر جانسن کا فون آیا انہوں نے کہا کہ میں نے ابھی ابھی ’’نیویارک ٹائمز‘‘ میں پڑھا ہے کہ اندرا گاندھی اپنے آپ کو میڈم پرائم منسٹر کہلانا پسند نہیں کرتیں۔آپ بتائیں کہ ان کے لئے کیا الفاظ استعمال کئے جائیں؟ بی کے نہرو راوی ہیں کہ مَیں نے کہا کہ میں وزیراعظم صاحبہ سے بات کرکے آپ کو فون کرتا ہوں۔ وہ اندرا گاندھی کے کمرے میں گئے اور اس سلسلے میں رہنمائی کی درخواست کی۔’’انہیں کہیے وہ مجھے اپنی پسند سے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ہاں انہیں یہ ضرور بتاؤ کہ میرے کچھ وزیر مجھے سر کہہ کر بھی مخاطب کرتے ہیں۔ اگر وہ پسند کریں تو وہ مجھے سر بھی کہہ سکتے ہیں‘‘۔

اندرا گاندھی نے سیاستدانوں کا جرات مندی سے مقابلہ کیا۔ وہ بنگلہ دیش بنانے کا کریڈٹ بھی لیتی رہیں۔ انہوں نے بھارت کے لئے ایٹم بم بنایا، مگر یہ اندرا گاندھی ہی تھیں جنہوں نے ایمرجنسی نافذ کرکے بھارتی جمہوریت کو آمریت کا مزہ چکھایا۔ اور پھر سکھوں کے خلاف اس کی کارروائیوں نے اس کے لئے خطرات میں اضافہ کر دیا۔ گولڈن ٹمپل پر فوجی چڑھائی اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی اور اس کے سکھ محافظوں نے ہی اسے ہلاک کر دیا۔ راجیو گاندھی نے برسوں پہلے اپنی ماں کے متعلق جس خدشے کا اظہار کیا تھا وہ اس کی موت کی صورت میں پورا ہو گیا تھا۔راجیو گاندھی اندرا گاندھی کے وزیراعظم بننے سے خوفزدہ تھا مگر جب اقتدار کی دیوی اس کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی تو اس نے اس کے سامنے سر تسلیم خم کر لیا۔ یہ عجیب ستم ظریفی تھی کہ راجیو گاندھی سیاست میں نہیں آنا چاہتا تھا۔ وہ کمرشل پائلٹ بننا چاہتا تھا اور اپنی ماں کے وزارت عظمی کے دور میں اس نے اس کے لئے خاصی محنت بھی کی تھی۔ اسے سیاست سے دلچسپی نہیں تھی۔ مگر وہ وزیراعظم بن گیا، مگر راجیو گاندھی کو بھی اپنی ماں کی پالیسیوں پر عمل کرنا تھا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر اسے بھی قتل کر دیا گیا۔

اندرا گاندھی کو سونیا گاندھی سے بہت محبت تھی، کیونکہ وہ اس کی ضرورتوں کی غیر معمولی خیال رکھتی تھی۔ سونیا گاندھی کے والد اس کی راجیو گاندھی سے شادی پر خوش نہیں تھے۔ وہ وزیراعظم بھارت کے بیٹے کو اپنا داماد نہیں بنانا چاہتے تھے۔ نئی دہلی میں سونیا کی راجیو سے شادی ہوئی تو اس وقت اس کے والد نے اس شادی میں شرکت نہیں کی تھی اور دکھی دل کے ساتھ اپنے ایک قریبی دوست سے کہا تھا ’’انہوں نے میری معصوم بچی کو شیروں کے سامنے پھینک دیا ہے‘‘۔ سونیا اپنی ساس اندرا گاندھی کی باتیں توجہ سے سنتی تھی مگر جب سیاست پر کوئی گفتگو ہوتی تو وہ لاتعلق ہو جاتی تھیں۔ راجیو گاندھی کی موت کے بعد کانگریسی لیڈر سونیا کے سامنے دست بستہ کھڑے تھے اور اس سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ کانگریس کی صدارت قبول کرے، مگر وہ اپنے بچوں کے ساتھ اٹلی میں جا کر عام انسانوں کی طرح زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اس نے کانگریس قیادت کو بتایا کہ اسے بھارتی قبول نہیں کریں گے کیونکہ وہ اطالوی نژاد ہے۔ اس پر اسے بتایا گیا کہ اس سے قبل مسز اینی بیسنٹ کانگریس کی صدر رہ چکی ہیں جو آئرش تھیں۔ سونیا گاندھی کو کانگریس کی صدارت قبول کرنے پر آمادہ کر لیا گیا۔ اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سونیا کے سامنے کھڑی تھی۔ مگر سونیا گاندھی نے وزارت عظمی کی کرسی پر من موہن سنگھ کو بٹھا دیا۔ تاریخ عالم میں اقتدار کو اس طرح ٹھوکر مارنے کی مثال کم کم ملتی ہے۔ سونیا گاندھی نے شاید ولیم شیکسپیئر کا وہ قول پڑھا کہ ’’جو لوگ اونچی جگہوں پر کھڑے ہوتے ہیں انہیں گرانے کے لئے بڑی تندوتیز ہوائیں آتی ہیں اور اگر وہ گرپڑیں تو ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ اس نے بھارت کی سب سے اونچی جگہ پر کھڑے ہونے کے لئے من موہن سنگھ کا انتخاب کیا۔ ریحام خان خوبصورت ہیں انہیں خبروں میں رہنا پسند تھا۔ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اقتدار کے خواب بھی دیکھے ہوں۔ مگر وہ اپنی اس خواہش میں یہ بھول گئیں کہ ایشیا میں اقتدار کے فیصلوں میں اکثر قسمت ہی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ *

مزید :

کالم -