ایک تصویر دیکھ کر

ایک تصویر دیکھ کر
ایک تصویر دیکھ کر

  

مَیں ایک تصویر دیکھ کر صبح سے جلا کڑھا بیٹھا ہوں، کیونکہ اس سے پہلے مَیں ایان علی کی تصاویر بھی دیکھ چکا ہوں، جس کروفر سے پولیس کی معیت میں وہ پیشی پر آتی رہی ہے اور جس طرح اسے ایک شہزادی کی مانند پروٹوکول ملتا رہا ہے، اس کی موجودگی میں جب مَیں نے یہ تصویر دیکھی ، جس میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ محمد علقمہ کو نیب کے اہلکاروں نے جپھا ڈال کر عدالت میں پیشی کے وقت ہتھکڑی لگا کر پکڑ رکھا ہے، اس نے مجھے انتہائی شرمندگی سے دوچار کر دیا ہے۔ مجھے اس معاشرے میں رہتے ہوئے شرم آ رہی ہے کہ جہاں ایک استاد کو تو مکمل مجرم بنا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ابھی وہ ملزم ہے، جبکہ دوسری طرف ایک رنگے ہاتھوں پکڑی جانے والی ماڈل گرل کو میک اپ کے ساتھ پورے جمال و جلال سے پولیس کے جلو میں آزادانہ عدالت آنے کی اجازت ہوتی ہے۔ آج صبح یہ تصویر ایک معاصر میں چھپی تو گورنمنٹ ایمرسن کالج کے سٹاف روم میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد علقمہ پر لاکھ الزامات ہوں، مگر ان کی عمر، ان کے سابق مرتبے اور ان کے پیشے کی حرمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ انہیں ذلیل و رسوا نہ کیا جائے۔ ان پر جو الزامات ہیں عدالت میں پیش کئے جائیں اور عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ پروفیسر صاحبان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں ’’اندھیر نگری چوپٹ راج‘‘ کا نظام رائج ہے، وزیروں پر دفعہ 302کے مقدمات درج ہیں، وہ آزاد پھر رہے ہیں۔ اس مقدمے میں جسے بنیاد بنا کر نیب نے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو گرفتار کیا ہے، مرکزی ملزم رجسٹرار منیر ملک آزاد پھر رہا ہے۔

جن لوگوں نے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کا لاہور کیمپس لیا تھا،وہ 10دسمبر تک عدالت سے ضمانت پر ہیں۔ اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایک ایسے آدمی کو ،جو اس معاشرے کے داؤ پیچ نہیں جانتا ،دھر لیا گیا ہے اور اسے جان بوجھ کر نشانِِ عبرت بنایا جا رہا ہے۔۔۔ ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ ایک سابق وائس چانسلر کو ہتھکڑی لگاکر پیش کرنے کی ضرورت کیا تھی‘‘۔ شعبہ پنجابی کے استاد ڈاکٹر رزاق شاہد یہ بات کہتے ہوئے لال پیلے ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر 22ویں گریڈ کا افسر ہوتا ہے، کیا کسی 22ویں گریڈ کے سابق سیکرٹری کو بھی کبھی ہتھکڑی لگاکر پیش کیا گیا ہے۔ پھر ایک ماہر تعلیم اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کیا جا رہا ہے اور اس کی اجازت کس نے دی؟ دوسرے لفظوں میں اس کا سکرپٹ کس نے لکھا ہے۔

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کیمپس کے اس سکینڈل میں زعیم قادری اور رانا مشہود کا نام بھی آ رہا ہے، کیونکہ جس وقت یہ کیمپس دیا گیا، زعیم قادری پنجاب میں تعلیم کے مشیر اور رانا مشہود وزیر تھے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے زیادہ کرداروں کی موجودگی میں صرف سابق وائس چانسلر پر ہی ہاتھ کیوں ڈالا گیا؟ کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ اساتذہ کمیونٹی کو معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ سمجھ لیا گیا ہے اور اس کا سب سے بڑا عہدہ بھی عوام کی نظر میں بے توقیر کر دیا گیا ہے۔۔۔اس میں دورائے نہیں کہ کسی مجرم کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے، لیکن مراعات یافتہ اور سیاسی اشرافیہ کے لوگ اس شق کو اپنے لئے تو استعمال کرتے ہیں کہ جب تک عدالت سزا نہ سنا دے، ہر آدمی معصوم رہتا ہے پھر یہ قاعدہ ایک سابق وائس چانسلر کے لئے کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔ کیوں ان سے مجرموں جیسا سلوک کیا گیا؟ دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ جب ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو عدالت میں پیشی کے لئے لایا گیا تو ان کی آنکھوں میں آنسو موجود تھے ۔انہیں رونا کس بات پر آیا ہوگا؟ ممکن ہے وہ اپنی غفلتوں پر شرمندہ ہوں یا پھر انہیں یہ دیکھ کر افسوس ہو رہا ہو کہ مَیں ایک استاد ہوں، مَیں نے بھاگ کر کہاں جانا ہے؟ پھر یہ مجھ سے چوروں،ڈاکوؤں اور دہشت گردوں جیسا سلوک کیوں کررہے ہیں؟

قارئین کو یاد ہوگا کہ مَیں نے خواجہ علقمہ کی گرفتاری پر ’’جہاں وائس چانسلر کو ہتھکڑی لگ جائے‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے ہوئے کہا تھا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے۔ اس میں تمیز بندہ و آقا کسی صورت قبول نہیں، تاہم جس طرح قانون قاتل کو پھانسی پر لٹکانے کی اجازت تو دیتا ہے، اسے تھپڑ مارنے کی نہیں دیتا، اسی طرح ایک وائس چانسلر کی ثبوت اور سزا سے پہلے اس قدر تضحیک کس قانون کے تحت کی جا رہی ہے؟ یہی نیب وزراء کو گرفتار کرتے ہوئے بھیگی بلی بن جاتا ہے،صرف نچلے اور ماتحت افسران کو گرفتار کرکے بے رحمانہ احتساب کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔ 15،15 سال تک کیسوں کی تفتیش چلتی رہتی ہے۔ سپریم کورٹ حکم دے تو اس میں حرکت پیدا ہوتی ہے، آخر وجہ کیا تھی کہ سابق وائس چانسلر کو نیب نے دیواریں پھلانگ کر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرکے گرفتار کیا اور پھر ہتھکڑی لگاکر، بلکہ دبوچ کر عدالت میں لائے، جیسے کوئی بہت بڑا دہشت گرد پکڑ لیا ہو۔ 63برس کے بزرگ کو جو نہ بھاگ سکتا ہے اور نہ ہی اپنی ساکھ کی وجہ سے بزدلوں کی طرح فرار ہو سکتا ہے، اس قسم کے سلوک کا حقدار کیوں قرار دیا گیا؟ میں سمجھتا ہوں اس کی فوری تحقیق ہونی چاہیے ۔ حیرت ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کو جواربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں، ایسے مراحل سے نہیں گزارا جاتا ،مگر ایک استاد کو، ایک سابق وائس چانسلر کو ذلت و رسوائی کے ہر حربے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حیران کر دینے والی بہت سی باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کا لاہور میں جو کیمپس کھولنے کی اجازت دینے پر گرفتار کیا گیا، وہ اب بھی چل رہا ہے اور سینکڑوں طلبہ و طالبات اس کی بندش کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے اس مسئلے کو فوری حل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب یہ کیمپس کھلا تھا تو اس پر گرفت کیوں نہیں کی گئی۔ پنجاب حکومت نے اس کی اجازت دی، تب جا کر اس کو یونیورسٹی کی طرف سے این او سی جاری کیا گیا۔ ایچ ای سی دو سال سے کیوں تماشا دیکھتا رہا، اگر اختیارات کا ناجائز استعمال کرپشن ہے تو اپنے فرائض سے غفلت برتنا کس زمرے میں آتا ہے؟ حیران کن امر تو یہ بھی ہے کہ جس فراڈ پر نیب نے سابق وائس چانسلر کو گرفتار کیا ہے، وہ ’’فراڈ‘‘ تو اب بھی کیمپس کی شکل میں چل رہا ہے، جس میں طلبہ و طالبات کو تعلیم بھی دی جا رہی ہے اور اساتذہ کو تنخواہیں بھی۔ نیب نے کیس یہ بنایا ہے کہ اس کیمپس کے نام پر طلبہ و طالبات سے 90کروڑ روپے ہتھیار لئے گئے، حالانکہ ایسا نہیں کہ کیمپس کا وجود ہی نہیں تھا اور فیسیں لے کر ہڑپ کر لی گئیں، بلکہ کیمپس بھی موجود ہے، طلبہ و طالبات بھی اور اساتذہ بھی پڑھا رہے ہیں، اگر آج ایچ ای سی اس کا الحاق کرے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ پھر ایک سابق وائس چانسلر سے جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا ازالہ کیسے ہوگا؟ مَیں سمجھتا ہوں نیب ملتان نے جلد بازی سے کام لیتے ہوئے اپنے پہلے ہی بڑے کیس میں ایک ایسی روایت قائم کی ہے، جس پر تادیر انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔ یہاں مجھے اردو کے پروفیسر نعیم اشرف کی یہ تجویز یاد آ رہی ہے کہ آئندہ بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کا وائس چانسلر ایان علی کو لگایا جائے، اس کا کم از کم یہ فائدہ تو ہوگا کہ جب وہ گرفتار ہوگی تو اسے ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی اور عدالت میں بھی مکمل پروٹوکول کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ اللہ نہ کرے اس تجویز پر عمل ہو، مگر سوال یہ ہے کہ جہاں ایان علی جیسی ماڈل گرل عدالت اور اس کے باہر عزت و توقیر پائے اور ایک وائس چانسلر کو ذلیل کیا جائے، وہاں ایسی تجاویز کو کون روک سکتا ہے؟

مزید :

کالم -