شہباز شریف کا اعلان

شہباز شریف کا اعلان
شہباز شریف کا اعلان

  

پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے انٹر نیشنل کانفرنس میں میاں شہباز شریف کا خطاب معنی خیز تھا۔ وہ ماضی کی غلطیوں کی بات بھی کر رہے تھے اور سنہرے مستقبل کا خواب بھی دکھا رہے تھے۔ماضی کی غلطیوں سے ہال میں موجود سرمایہ کاروں کا کوئی تعلق نہیں تھا اور سنہرے مستقبل پر ابھی عوام کے لئے یقین کرنا مشکل ہے۔ بہرحال شہباز شریف کہتے ہیں کہ ہم آج ایک سنہرے مستقبل کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔ چلو شکر ہے کہ حکومت یہ تو کہہ رہی ہے کہ اس نے ماضی کی تمام غلطیوں کو ٹھیک کر لیا ہے اور ایک سنہرے مستقبل کا سفر شروع ہونے والا ہے۔ ورنہ ماضی کی لکیر پیٹتے ہی سارا وقت گزر جا تا ہے۔

ویسے تو میاں شہباز شریف خود بھی کہہ رہے تھے کہ ایم او یو کوئی معنی نہیں رکھتے۔ کمپنیوں کوبا قاعدہ معاہدے کرنے چاہئیں۔ جب تک معاہدہ نہ ہو بات گول ہی رہتی ہے۔ یہ بات بھی میاں شہباز شریف کی کافی حد تک ٹھیک ہے، کیونکہ ماضی گواہ ہے کہ ہماری سب حکومتوں نے ایم او یو تو بے تحاشہ دستخط کئے ہیں، لیکن بعد ازاں ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ اور ایم او یو کے یہ سنہرے خواب حقیقت نہ بن سکے۔

ہمارے مُلک میں بیرونی سرمایہ کاری اس لئے بھی نا کام ہو جاتی ہے کہ ہماری بیوروکریسی کا سرخ فیتہ ان بیچارے سرمایہ کاروں کی پھرکی گھما دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے ملک کا المیہ یہ بھی رہا ہے کہ کرپٹ سیاسی قیادت نے بھی بیرونی سرمایہ کاروں کو اپنی کرپشن میں رنگنے کی کوشش کی جو رنگ گے ٹھیک اور جنہوں نے کرپشن میں خود کو رنگنے سے انکار کیا ۔ وہ بھاگ گئے۔ اس کے ساتھ اقتدار کی میوزیکل چیئر نے بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنا یا۔ ایک حکومت نے جو معاہدے کئے ۔ دوسری آنے والی حکومت نے ان معاہدوں کو نا کام کرنے کے لئے اور ان کو منسوخ کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں بیچارہ سرمایہ کار یا توبھاگ گیا یا اس نے مزید سرمایہ کاری کرنے سے توبہ کر لی اور جو ایک پراجیکٹ لگا یا۔ بس اسی کو بچانے کی کوشش جاری رکھی۔ اس ضمن میں آئی پی پی معاہد ے اور بالخصوص حبکو کی مثال اس ساری تھیوری کو سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ پاکستان کے مخصوص سیاسی حالات ، بیوروکریسی کا مخصوص انداز پاکستان میں بیرونی سرمایہ کا ری کی نا کامی کی وجوہات سمجھنے کے لئے کافی ہے۔

میاں شہباز شریف بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کے اس مخصوص ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں بیرونی سرمایہ کاروں کو اپنا آقا سمجھتا ہوں، یعنی Investors are my masters کہہ رہے تھے۔ وہ اعلان کر رہے تھے کہ ہم ان بیرونی سرمایہ کاروں کا ریڈ کارپٹ استقبال کریں گے۔ ان کو بیورو کریسی کے سرخ فیتہ سے بچائیں گے۔ جب میاں شہبا ز شریف یہ سب اعلان کر ر ہے تھے ۔ ہال میں امریکہ یورپ ترکی اور چین سے آئے ہوئے سرمایہ کار بیٹھے تھے۔ چین اور ترکی کے سفیر سٹیج پر بیٹھے ۔ یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اس وقت جس قدر اقتصادی ترقی نظر آرہی ہے اس کی بنیادی وجہ پاک چین اقتصادی راہداری ہے۔ جس کے تحت ملک میں 46 بلین دالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے،لیکن یہ بات زیادہ خوش آئند ہے کہ حکومت اس پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کی بر وقت تکمیل میں سنجیدہ نظر آرہی ہے۔ اس کی ایک مثال اس کانفرنس میں نظر آئی جب بہاولپور میں سولر ٹیکنالوجی پارک میں منصوبہ لگانے والی کمپنی زونل انرجی کے چیف ایگزیکٹو نے بتا یا کہ ایک چارٹرڈ جہاز کے ذریعے جب اس کا سارا سامان پاکستان پہنچ گیا تو پاکستان میں عید کی لمبی تعطیلات ہو چکی تھیں۔ وہ بہت پریشان تھا کہ جہاز اتنے دن کیسے کھڑا رہے گا۔ بہت نقصان ہو جائے گا تو تب حکومت پنجاب نے معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے عید کی تعطیلات میں خصوصی طور پر دفتر کھلوا کر مال کو ریلیز کروایا۔ چینی کمپنی کا چیف ایگز یکٹو فخر سے کہہ رہا تھا ۔ کہ میں بہت بڑے نقصان سے بچ گیا۔ اس کے ساتھ وہ یہ بھی اعتراف کر رہا تھا کہ جس طرح پاکستان میں عید کی چھٹیاں ہو تی ہیں۔ اسی طرح چین میں سپرنگ فیسٹیول کی چھٹیاں ہو تی ہیں اور اگر چین میں سرکاری افسران کو کہا جا تا کہ سپرنگ فیسٹویل کی چھٹیوں میں کام کریں تو کوئی نہ کرتا۔ جب وہ یہ واقعہ سنا رہا تھا تو ہال تالیوں سے گونج رہا تھا ۔ اور میں دل میں سوچ رہا تھا کہ ہم ایسے ہی ہر وقت اپنے لوگوں کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں ۔ معاملہ اتنا بھی خراب نہیں ہے۔ اسی طرح ترکی کی کمپنی البراک کے چیف ایگزیکٹو نے بھی پنجاب حکومت کی تعریف کی۔ کہ انہیں یہاں کوئی کرپشن نظر نہیں آئی۔

ترکی کے سفیر نے بتا یا کہ ترکی کی پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے پیش نظر ترکی کی حکومت نے لاہور میں قونصلیٹ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِسی طرح لاہور سے روزانہ فلائٹس بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ اِسی طرح چین پہلے ہی لاہور میں قونصلیٹ کھول رہا ہے۔ یہ سب اس بات کی نشانیاں ہیں کہ ان ممالک سے سرمایہ کاری پاکستان اور پنجاب آرہی ہے۔ اور جن ممالک سے سرمایہ کاری پاکستان سے جا رہی ہے ان کے کھلے ہوئے قونصلیٹ بھی بند ہو رہے ہیں۔

اس کانفرنس میں بے شک امریکہ اور یورپ کی کمپنیوں کے نمائندے شریک ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے یہ اعلان بھی کیا کہ پاکستان اپنے وسائل سے گیس کے بجلی کے جو منصوبے لگا رہا ہے ۔ اس کا ٹینڈر امریکہ کی کمپنی جی ای نے ایک چینی کمپنی کے ساتھ مل کر جیتا ہے۔ اس میں امریکی ٹیکنالوجی استعمال ہو گی۔ اسی لئے انہوں نے تقریر کے اختتام پر ترکی ، چین کے ساتھ امریکہ کے ساتھ دوستی زندہ باد کا نعرہ بھی لگا یا، لیکن اس کانفرنس سے یہ تاثر مکمل طورپر اُبھر کر سامنے آیا ہے کہ فی الو قت پاکستان کے جس سنہرے معاشی مستقبل کی نوید با ر بار سنائی جا رہی ہے۔ اس کا سارا انحصار چین اور ترکی پر ہے۔ اور خدا کا شکر ہے کہ طیب اردوان کی جماعت ترکی میں انتخاب جیت گئی ہے۔ خدانخواستہ اگر وہ ہار جاتی تو ترکی بھی غائب تھا۔ اس لئے ہمیں ترکی اور چین کی حفاظت کر نی چاہئے اور مزید ملکوں کی تلاش کرنی چاہئے جو پاکستان میں اپنی کمپنیوں کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیار ہوں، کیونکہ صرف دو ملکوں کی بنیاد پر یہ خواب ذرا مشکل ہے۔

مزید :

کالم -