ایاز صادق پھر بھاری اکثریت سے سپیکر قو می اسمبلی منتخب ہو جائیں گے

ایاز صادق پھر بھاری اکثریت سے سپیکر قو می اسمبلی منتخب ہو جائیں گے

  

لاہور(رپورٹ :شہزاد ملک ) مسلم لیگ (ن) کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی کے لئے نامزد امیدوار سردار ایاز صادق 9نومبر کو ایک بار پھر بھاری اکثریت کے ساتھ سپیکر منتخب ہو جائیں گے کیونکہ اس وقت قومی اسمبلی میں اکثریت حکمران جماعت کی ہے جبکہ حکومتی امیدوار کو اسمبلی کی دوسری بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی ‘ ایم کیو ایم‘ آزاد ارکان اور جے یو آئی (ف) کی بھی حمائت حاصل ہے اور جماعت اسلامی کا بھی امکان ہے کہ وہ بھی حکومتی امیدوار کو ووٹ دے گی تاہم ابھی تک جماعت اسلامی نے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ۔دوسری جانب تحریک انصاف کے نامزد امیدوار شفقت محمود کی جماعت کے 30ووٹ ہیں اور انہیں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اور ملتان کے ضمنی الیکشن کے نتیجے میں کامیاب ہونے والے رکن قومی اسمبلی مٹھو ڈوگر کے ووٹ کی بھی حمائت حاصل ہے اس طرح سے تحریک انصاف کے پاس ٹوٹل ووٹوں کی تعداد صرف 32 ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125ہے اسی طرح سے پیپلز پارٹی کے 32ووٹ بھی حکومت کے نامزد امیدوار کو ملیں گے اور ایم کیو ایم کے 17ووٹ بھی سردار ایاز صادق کو ملیں گے جبکہ 30آزاد ارکان کے ووٹ بھی حکومتی امیدوار کو ملنے کے روشن امکان ہیں ۔ اسی طرح سے جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے 10ووٹ بھی حکومتی امیدوار کو ملیں گے جس کا جے یو آئی باقاعدہ اعلان آج کل میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کر کرے گی۔پاکستان مسلم لیگ فنگشنل کے 4ارکان کے ووٹ بھی حکومتی امیدوار کو ملنے کا امکان ہے اور جماعت اسلامی کے 4ووٹ بھی حکومتی امیدوار کو پڑ سکتے ہیں لیکن جماعت اسلامی کی طرف سے بھی با ضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا ہے کہ وہ کس امیدوار ک ووٹ کرے گی تاہم آج اجلاس بلا کر جماعت اسلامی کی طرف سے اس کا باقاعدہ اعلان متوقع ہے ۔اسی طرح سے پختنوانخواہ ملی عوامی پارٹی کے 3ووٹ ہیں ۔ اے این پی کے دو ووٹ ہیں اور این پی پی کے بھی دو ووٹ ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے غلام بلور جو کہ پشاور میں عمران خان کی نشست سے رکن بنے ہیں ان کا ووٹ بھی حکومتی امیدوار کے حصے میں ہی آنے کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت 329ارکان اپنے ووٹ کا حق رائے دہی استعمال کریں گے الیکشن کمیشن کی طرف سے اثاثے جمع نہ کروانے کی وجہ سے 11ارکان کی رکنیت معطل ہے جبکہ دو نشستوں پر ابھی ضمنی الیکشن ہونا ہے جس کی وجہ سے یہ ووٹ کاسٹ نہیں ہو سکیں گے۔

مزید :

علاقائی -