وزیراعظم کا لودھراں میں انتخابی جلسہ غیر قانونی ہے،عوامی تحریک

وزیراعظم کا لودھراں میں انتخابی جلسہ غیر قانونی ہے،عوامی تحریک

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نوازگنڈاپور اور این اے 154 سے عوامی تحریک کے ٹکٹ ہولڈر خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن کے موقع پر وزیراعظم نے غیر قانونی طور پر لودھراں میں انتخابی جلسہ سے خطاب کیا۔ اربوں روپے کا ترقیاتی پیکیج، فلائی اوور اور زرعی یونیورسٹیوں کے منصوبے ضمنی الیکشن کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش اور قومی خزانے کا سیاسی استعمال ہے۔افسوس کے ساتھ کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن ن لیگ کا دم چھلہ بنا ہوا ہے ،الیکشن کمیشن اگر ایک آزاد آئینی ادارہ ہے تو وزیراعظم کے اس غیر قانونی دورے اور قومی خزانے کے سیاسی استعمال کا نوٹس لے۔ رہنماؤں نے کہا کہ وزیراعظم کو لودھراں کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں کا اڑھائی سال بعد خیال آگیا۔ان کے دل میں لودھراں کے عوام کا درد تھا تو ضمنی الیکشن کے شیڈول آنے سے پہلے یہ لودھراں میں کیوں نہیں آئے ۔خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا کہ لودھراں کے عوام اور کسانوں نے وزیراعظم کی سیاسی رشوت کو مسترد کر دیا ۔گو نواز گو کے نعروں سے استقبال اس کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیکیج پری پول دھاندلی اور قومی خزانے کا سیاسی استعمال ہے۔ عوامی تحریک کے ٹکٹ ہولڈر اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل خواجہ عامر فرید کوریجہ نے وزیراعظم کے دورہ لودھراں اور انتخابی جلسے سے خطاب کے خلاف چیف الیکشن کمشنر کے نام خط بھی لکھا ہے ۔ خرم نوازگنڈاپور نے کہا کہ وزیراعظم لودھراں کے عوام کے ساتھ مخلص ہوتے تو فلائی اوورز اور یونیورسٹی بنانے کے منصوبوں کا اعلان 4 ماہ قبل بجٹ میں کرتے۔

مزید :

علاقائی -