سانحہ نائن الیون پر جونیئر بش کا شدید ردعمل تمام حدیں پار کر گیا: جارج ایچ ڈبلیو بش

سانحہ نائن الیون پر جونیئر بش کا شدید ردعمل تمام حدیں پار کر گیا: جارج ایچ ...

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) نائن الیون کے سانحے کے بعد جونیئر بش کا شدید ردعمل ساری حدود پار کر گیا جس میں اس کے مشیروں کا گہرا ہاتھ ہے۔ یہ تنقید 91 سالہ سابق صدر سینئر بش (جارج ایچ ڈبلیو بش) کی سوانح عمری میں شامل ہے، جو اگلے ہفتے مارکیٹ میں آجائے گی۔ "Destiny and Power" نامی اس سوانح عمری کو جان میچم نے تحریر کیا ہے جس میں سابق صدر کے کنکٹی کٹ میں گزرے بچپن اور دوسری جنگ عظیم میں ان کی خدمات کے بعد ٹیکساس کی ریاست میں پٹرول کے کاروبار، پھر سیاست میں کانگریس مین کی حیثیت سے آمد، اقوام متحدہ میں امریکی سفیر اور پھر سی آئی اے کے ڈائریکٹر بننے کے بعد امریکہ کے 41ویں صدر بننے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔امریکی تاریخ میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی سابق صدر نے کسی دوسرے سابق صدر کے دور حکومت پر تنقید کی ہو اور وہ بھی ایسے صدر پر جو اس کا اپنا بیٹا تھا۔ اس کتاب میں سینئر بش نے اگرچہ عمومی طور پر اپنے بیٹے جونیئر بش کے دور حکومت کی حمایت کی ہے تاہم انہوں نے نائن الیون کے سانحے پر ان کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس ذمہ داری میں ان کے دو مشیروں سابق نائب صدر رچرڈ چینی اور سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ کو برابر کے شریک قرار دیا ہے۔ جارج ایچ ڈبلیو بش نے اپنے بیٹے اور امریکہ کے 43 ویں صدر جارج ڈبلیو بش کی 2002ء کی تقریر کا خصوصی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے عراق، ایران اور شمالی کوریا کو ’’برائی کا محور‘‘ قرار دیا تھا۔ سینئر بش نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ سے ثابت ہوگیا کہ اس ریمارکس سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ انہوں نے نائن الیون پر ڈک چینی کے ردعمل کو سخت گیر قرار دیا اور رمز فیلڈ کے رویے کو غرور پر مبنی قرار دیا، جس میں عاجز ی کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ یہ سوانح عمری ایسے موقع پر منظر عام پر آرہی ہے جب سینئر بش کا دوسرا چھوٹا بیٹا جیب بش ری پبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار ہے اور اس کی حالیہ مباحثے میں ناقص کارکردگی پر مقبولیت نیچے جا رہی ہے۔سینئر بش کی کتاب کے مندرجات کے سامنے آنے کے بعد جونیئر بش نے اپنی ٹیم کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ ڈک چینی اور رمز فیلڈ نے ان کے ساتھ کام کیا اور میں ان کی قابل مشاورت پر ان کا مشکور ہوں۔ اس دوران رمز فیلڈ نے جواب دیتے ہوئے سینئر بش کو ایک بوڑھا خبطی اور سنکی قرار دیا ہے۔ سینئر بش نے عراق پر حملے اور صدام حسین کو پکڑنے کے جونیئر بش کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ’’قابل فخر لمحے‘‘ تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر انہوں نے جس پرجوش خطابت کا مظاہرہ کیا اس سے اخبارات کی سرخیاں تو بنی لیکن یہ انداز سفارتی سطح پر سود مند ثابت نہیں ہوا۔

بش

مزید :

صفحہ آخر -