شفقت محمود بمقابلہ ایاز صادق، تحریک انصاف کا فیصلہ، مثبت انداز!

شفقت محمود بمقابلہ ایاز صادق، تحریک انصاف کا فیصلہ، مثبت انداز!

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین:

ملکی سیاست میں بعض اہم تبدیلیاں نظر آئی ہیں جو مثبت اشارے بھی ہیں، متحدہ قومی موومنٹ نے تحفظات کا اظہارکرنے کے باوجود سینٹ کے بعد قومی اسمبلی سے بھی استعفے واپس لے لئے اور اجلاسوں میں شرکت کی ہے جبکہ بڑی خبر تحریک انصاف کے فیصلے کی ہے جس کی طرف سے پارلیمانی کارروائی میں شرکت کا فیصلہ ہی نہیں کیا گیا سپیکر کے لئے امیدوار بھی نامزد کر دیا گیا ہے یوں اب ایوان میں سابق سپیکر ایاز صادق بلا مقابلہ پھر سے سپیکر نہیں بن سکیں گے اور ان کا مقابلہ شفقت محمود سے ہوگا جو تحریک انصاف کی طرف سے امیدوار نامزد کئے گئے ہیں اس کا اعلان شاہ محمود قریشی نے کیا ہے یہ ایک مثبت پیش رفت اور پارلیمانی روایات کو مضبوط کرنے والی ہے، اب یہ بھی توقع کرنا چاہیے کہ خود عمران خان بھی ایوان کی کارروائی میں بھرپور دلچسپی لیں گے اور اجلاسوں میں شرکت کرکے اپنا کردار ادا کریں گے جو ان کو پہلے ہی سے کرنا چاہیے تھا ایوان میں نہ آنا ان کے لئے کچھ مفید ثابت نہیں ہوا۔ اب تحریک انصاف نے یہ فیصلہ کیا ہے تو اسے مختلف کمیٹیوں میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے اس کے لئے ہم گزارش کرتے رہے ہیں کہ انتخابی اصلاحات ہوں یا احتسابی نظام کی مضبوطی ان سب کے لئے آئین اور قوانین میں تبدیلیوں یا نئی ترامیم اور قوانین کی منظوری لازم ہے اور یہ سب ایوان ہی کے ذریعے ہونا ہے، اس لئے تحریک انصاف کو پارلیمنٹ میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اب اگر یہ فیصلہ ہوا تو اس کی تعریف کرنا ضروری ہے۔

تحریک انصاف نے اپنے طور پر فیصلہ کیا، بہتر ہوتا اگر حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جاتا اب بھی ان کو مذاکرات کرنا چاہئیں جہاں تک قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سمیت دوسری جماعتوں کا تعلق ہے تو خورشید شاہ پارلیمانی اجلاس بلا کر خود اپنی جماعت اور پھر متحدہ اپوزیشن کا کوئی متفقہ فیصلہ کریں گے اور امکان ہو سکتا ہے کہ شفقت محمود ہی کی تائید کر دی جائے یا پھر غیر جانبداری اختیار ہو تاہم بہتر عمل وزن کسی ایک پلڑے میں ڈالنا چاہیے۔

تحریک انصاف کے عمل میں ایک اور تبدیلی بھی نظر آئی کہ خود عمران خان کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کرکے شکایات پیش کرنے کا کہا گیا، اگرچہ چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے ملاقات سے مصروفیت کے باعث معذرت کی گئی تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ پہلی ہی فرصت میں ملاقات ہو جائے گی اور تحریک انصاف اپنی شکایات تحریری طور پر بھی دے سکتی ہے۔ چیف الیکشن کمیشن حقیقی طور پر بلدیاتی انتخابات (سندھ+پنجاب) کے دوسرے مرحلے کے لئے مصروف ہیں کہ امن و امان اور غیر تربیت یافتہ عملے کی غلطیاں مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ اب جو مرحلہ ہے اس میں بڑے حساس اضلاع شامل ہیں جہاں اب رینجرز اور فوج کے تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور الیکشن کمیشن ان تمام انتظامات میں مصروف ہے۔ اس لئے اس میں کوئی بُرا منانے والی بات نہیں، اسی لئے چودھری محمد سرور نے کہا کہ شکایات قانون کے دائرہ میں مرتب کرکے دی جائیں گی۔

مزید :

تجزیہ -