پاکستان کو عوام کی خواہش اور آئین کے مطابق چلائیں گے ،نواز شریف

پاکستان کو عوام کی خواہش اور آئین کے مطابق چلائیں گے ،نواز شریف

  

سیالکوٹ، لودھراں (نمائندگان، مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن، اے پی پی) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا، سب کچھ ہمارے لیے چھوڑ گئیں، کنٹینرز والے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں تھے مگر بڑھی نہیں، پاکستان کو ویسے ہی چلایا جائے گا جیسے عوام چاہیں گے۔ خوشحال پاکستان کا وعدہ ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا، مذہب کے نام پر گلے کاٹنے والوں کے لئے کوئی معافی نہییں۔ وہ سیالکوٹ اور لودھراں میں تقریبات سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا دورۂ سیالکوٹ میں سہولت مرکز کا افتتاح کیا اور انہیں ہوائی اڈے میں توسیع کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کیلئے نہ تو ڈکٹیٹروں نے کچھ کیا نہ ہی کسی اور حکومت نے، سب ہمارے لئے چھوڑ گئے۔ پاکستان کو ویسے ہی چلایا جائے گا جیسے عوام چاہیں گے، سیالکوٹ سالانہ دوارب روپے کماتا ہے آج اسے موٹر وے کا تحفہ دے رہے ہیں، گزشتہ 15سال سے کسی نے بجلی کے مسئلے پر کچھ نہیں کیا۔دہشتگردی ، بجلی بحران ،جگہ جگہ رکاوٹیں ہیں جنہیں عبور کرنا آسان نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کوئلے اور ایل این جی سے بجلی بنائیں گے ،خواہش ہے کہ سب کو سستی بجلی ملے اور2018ء تک ہزاروں میگاواٹ بجلی سسٹم میں لے آئیں گے تو سب کو سستی بجلی ملے گی۔کسان پیکج کے حوالے سے انکا کہناتھا کہ کاشتکار قومی خزانے میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں ، اسی وجہ سے کے لئے کسان پیکج پیش کیا گیا، فی یوریا کھاد کی بوری میں 500روپے کی کمی کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ لودھراں میں ایک بندے سے پوچھا باباجی کسان پیکج کی امدادی رقم سے کچھ بنے گا کہ نہیں تو بابا جی نے کہا کہ "بلے بلے "ہو گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کسان پیکج پر تنقید کرنے والے عدالتوں میں جانے والے پیکج پر عملدرآمد میں تاخیر کا سبب بنے ہیں۔کینٹینر پرکھڑے لوگوں نے اپنی ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں تھے لیکن بڑھی نہیں وہ چاہتے تھے کہ کسانوں تک 341ارب نہ پہنچیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا ناسور ملک بھر میں پھیل چکا تھا۔ہم اللہ کا نام لیکر دہشتگردوں کے پیچھے پڑ گئے۔دہشتگردی سے آنکھوں سے آنکھیں ملا کر سامنا کیا اور الحمداللہ اب اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ فرقہ وارانہ مخاصمت کرنے والوں اور مذہب کے نام پر گلے کاٹنے والوں کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی۔دہشتگردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ کراچی کی کھوئی ہوئی روشنیوں کو بحال کرنے کیلئے کراچی آپریشن کیا جس کی حمایت صحافیوں ،تاجروں اور سیاست دانوں سمیت سب نے کی اور آج کراچی کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔کراچی کی روشنیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔اب ہم لاہور کراچی موٹر وے بنا رہے ہیں۔خارجہ امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں ہمسائیوں سے اچھے تعلقات ہوں لیکن یہ ان کی بھی خواہش ہونی چاہئے۔ افغانستان کے معاملات میں ہر ممکن اور بھرپور مدد کرنا چاہتے ہیں۔دیگر ممالک کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہا ں ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہے نیا پاکستان جو بن رہا ہے ،نیا پاکستان اسے کہتے ہیں ،کیا یہ نیا پاکستان نہیں ہے؟وزیراعظم نے کہا اب کوئی یہ نہ سوچے کہ جو جیسا چاہے گا ویسا ہو گا بلکہ اب پاکستان اس طرح چلے گا جیسے عوام چاہتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان نئے پاکستان سے متعلق ہماری سوچ ہے۔میرا مشن سیاست نہیں خدمت کرناہے۔دنیا ہماری معاشی کارکردگی کی معترف ہے۔لوکل باڈیز الیکشن کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا آپ کا کام صاف ہو گیا۔موجودہ حکومت کرپٹ نہیں ہے دیانتداری سے کام کر رہی ہے۔مسائل تیز ہیں ترقی کی رفتار بھی بڑھانا ہو گی۔2018ء میں قوم کے سامنے سرخرو ہوں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میر ے لودھراں جانے پر بھی اعتراض کیا گیا، انہوں نے نام لیئے بغیر تحریک انصاف کو سے کہا کہ سیاسی لڑائی لڑنے کی ہمت نہیں ہے تو حیلے بہانے تو مت کرو۔ آن لائن کے مطابق وزیر اعظم نوازشریف نے لودھراں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 250 ارب روپے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے قوم سے جو وعدہ کیا ہے اسے ہر صورت پورا کریں گے ،کسانوں سے محبت کے دعویدار کرنے والے کسان پیکیج میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں،لودھراں مسلم لیگ (ن) کا قلعہ بن گیا ہے، جھوٹ بولنا ہمارا شیوا نہیں ،صاف اور سچی بات کرتے ہیں،2017 ء ملک کی خوشحالی کا سال ہوگا، بجلی کی قلت کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیں گے،جمعہ کے روز لودھراں میں کسان پیکج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جاتیں تو وہ کام مکمل ہوچکے ہوتے جو آج شروع ہورہے ہیں،ماضی میں کسی حکومت نے کسانوں کیلئے 341 ارب روپے کا پیکج نہیں دیا ،،کسان پیکیج روکنے والے خود کو کسانوں کا ہمدرد کہتے ہیں لیکن سب جانتے ہیں پیکج میں رکاوٹیں کس نے ڈالیں اور نواز شریف کو یہ نیک کام نہیں کرنے دیا گیا ،5 ستمبر کو کسان پیکج کا اعلان کیا تھا مخالفین کی وجہ سے دو ماہ تک کسانوں کو پیکج دینے میں تاخیر ہوئی، کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا، پیکج دے کرکسانوں پراحسان نہیں کررہے، عوام اور کسانوں سے دلی محبت ہے، رقم ادا کرکے کسانوں کو اْن کا حق دیا جارہا ہے، کسانوں کے لئے بجلی مزید سستی کرنا چاہتے ہیں،شمسی توانائی کے ذریعے ٹیوب ویل لگانے کی منظوری دے دی ہے اور شمسی ٹیوب ویلوں کے لیے کسانوں کو قرضے بھی دیں گے،وزیر اعظم نے کہا کہ دیگر شہروں کی طرح لودھراں بھی مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہے ، بلدیاتی انتخابات میں لودھراں کے عوام نے ووٹ دیگر جس محبت کا اظہار کیا ، میں بھی اسی محبت سے ہی عوام سے پیش آؤنگا،لودھراں میں ہمارا چیئرمین ہوگا جو عوام کے مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا،، کم وسائل کے باوجود کسانوں کے لیے 341 ارب روپے کا منصوبہ بنایا، ان کے مسائل کے حل کے لیے مزید اقدامات کررہے ہیں، ہم عبادت سمجھ پرکسانوں کی خدمت کررہے ہیں، جھوٹ بولنا ہمارا شیوہ نہیں،صاف اور سچی بات کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ 2017 میں ملک سے بجلی کی قلت کا خاتمہ کردیا جائے گا اور اس پر بہت تیزی سے کام جاری ہے جس کی تکمیل کے بعد 2017ء ملک میں خوشحالی کا سال ہوگا، سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں بجلی بھی آئے گی، پینے کا صاف پانی اور موٹروے بھی اور لودھراں کو بھی موٹروے سے ملائیں گے جس کے بعد ترقی عروج پر ہوگی،انہوں نے کہا کہ پیکج کے تحت کھاد کی قیمت فی بوری 500 روپے کم کی گئی، سولر ٹیوب ویل کی اسکیم منظور ہوچکی ہے جبکہ شمسی ٹیوب ویل کے لیے بھی قرضے دیئے جائیں گے،ہم نے خوشحال پاکستان کیلئے قوم سے وعدہ کررکھا ہے جو ہر صورت پورا کریں گے،وزیر اعظم نے خطاب کے دوران لودھراں کی ترقی کے لیے بھی ڈھائی ارب کے پیکج، 2 فلائی اوورز، زرعی یونیورسٹی اور کالج کا بھی اعلان کیا بھی کیا ہے،اس سے قبل وزیر اعظم نواز شریف کسان پیکج کے تحت کسانوں میں چیکس تقسیم کے لیے لودھراں پہنچے جہاں انہیں پیکج کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ،بریفنگ میں بتایا گیا کہ پیکج کا پہلا حصہ کسانوں کو براہ راست مالی تعاون فراہم کرے گا، دوسرا حصہ پیداوری لاگت کو کم کرنے میں معاون ہوگا، جبکہ تیسرا حصہ کسانوں کو زرعی قرضے فراہم کرنے سے متعلق ہے، بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کسان پیکج کے تحت کسان اپنی زمین کے لیے دگنی مالیت کا قرض حاصل کرسکیں گے، جبکہ زرعی اجناس، پھلوں، سبزیوں اور مچھلی کی تجارت میں انہیں 3 سال کے لیے انکم ٹیکس پر چھوٹ ہوگی،بعد ازاں کسانوں میں چیک تقسیم کرنے کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی، اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیر اطلاعات پرویز رشید اور وزیر خوراک سکندر بوسن بھی موجود تھے۔سیالکوٹ سے بیورورپورٹ کے مطابق ساہوالہ ، سمبڑیال کے قریب کسانوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاک فوج کے زیر نگرانی کامیابی سے جاری آپریشن ضرب عضب سے ملک میں دہشت گردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی کمر اور تمام نیٹ ورک توڑ کے رکھ دیئے ہیں۔ انشاء اللہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر ہی دم لیں گے۔ کراچی کے حالات میں بھی کافی بہتری آئی ہے، ہر صورت میں کراچی کا امن واپس لائیں گے۔ دو سال میں روشنیوں کے شہر کراچی میں تمام روشنیاں اور اس کی رونقیں اب بحال ہو رہی ہیں۔ دہشت گردی اور شدت پسندی کے مکمل خاتمہ تک آپریشن جاری رہے گا۔ نواز شریف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان دیرپا امن کے قیام کا متفقہ منصوبہ ہے جس پر کامیابی سے عملدرآمد جاری ہے۔ ملک میں مذہب کے نام پر دہشت گردی اور فرقہ واریت کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ مذہبی منافرت پھیلانے والی تنظیموں اور گروپوں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹاجائے گا۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کو آئین، قانون اور عوامی امنگوں کے عین مطابق چلایا جائے۔ اصل تبدیلی ہم لا رہے ہیں۔ میرا مشن سیاست نہیں بے لوث عوامی خدمت ہے۔ پاکستان کو زرمبادلہ کی اشد ضرورت ہے۔ سیالکوٹ کی جتنی بھی ہو سکے خدمت کریں گے۔ سیالکوٹ کے ایکسپورٹرز کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں گے تا کہ وہ زیادہ دلجمعی سے ملکی برآمدات میں اضافہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ سالانہ 2ارب ڈالر کا زر مبادلہ کما رہا ہے ملک کے دوسرے شہر بھی سیالکوٹ کی فقیدالمثا ل اقتصادی، معاشی اور برآمدی ترقی کی تقلید کریں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے سیالکوٹ کی عوام کو سیالکوٹ، لاہور موٹروے کے میگا پراجیکٹ کا تحفہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے جس کی تکمیل سے سیالکوٹ ریجن میں سماجی، معاشی اور انسانی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ، کراچی موٹروے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے جس کا اگلے ماہ سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 1999میں ن لیگ کی حکومت کے بعد 16سال کے عرصہ میں کسی بھی حکومت نے کوئی موٹروے نہیں بنائی اب ہماری ہی حکومت ہی نے ہی وسیع تر ملکی مفاد میں موٹر وے کی توسیع کے منصوبے شروع کئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہزارہ، حسن ابدال موٹروے حویلیاں، مانسہرہ سے ہوتی ہوئی پاک چین بارڈر تک جائے گی جبکہ طورخم، جلال آباد سے کابل تک شاہراہ بھی بنائی جائے گی۔ نواز شریف نے کہا کہ ترقی کی راہ پر گامزن یہ ہے نیا پاکستان ایک حقیقی پاکستان جو ہر پاکستانی کا خواب ہے۔ یہ جو نیا پاکستان ہم بنا رہے ہیں یہ میری سوچ و آئیڈیالوجی ہے۔ اب پاکستان دن دگنی رات چگنی اقتصادی و سیاسی ترقی کر رہا ہے۔ پوری دنیا پاکستانی پالیسیوں کو بیحد سراہ رہی ہے۔ بلوچستان اور کے پی کے کو آپس میں ملایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے ضلع سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے 59192کسانوں کی فلاح کے لئے ایک ارب،17کروڑ، 91لاکھ اور65ہزار روپے کے ریلیف پیکیج کا بھی اعلان کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، اراکین قومی اسمبلی صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ،چوہدری ارمغان سبحانی، اراکین صوبائی اسمبلی محمد منشاء اللہ بٹ ، چوہدری محمد اکرام ،رانا لیاقت علی ، ارشد وڑائچ ، طارق سبحانی ،رانا اقبال ہرناہ، صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میجر (ر) منصور احمد بھی اس موقع پر موجود تھے۔

مزید :

صفحہ اول -