غیر قانونی تارکان وطن کے پرد ے میں تخریب کار بھی پاکستان بھیجے جا رہے تھے

غیر قانونی تارکان وطن کے پرد ے میں تخریب کار بھی پاکستان بھیجے جا رہے تھے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

یہ بات اب بڑی حد تک پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ گزشتہ دنوں غیر قانونی تارکین وطن کے جو جہاز بھر بھر کر دو یورپی ملکوں نے پاکستان بھیجے، ان کے پردے میں بعض تخریب کار بھی پاکستان آگئے اور یہاں تخریبی کارروائیاں شروع کر دیں، ان تخریب کاروں میں سے بعض پکڑے گئے تو یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا ہے کہ جن لوگوں کو پاکستانی قرار دے کر یہاں بھیجا جا رہا ہے وہ تو پاکستانی ہی نہیں تھے اور جعلی دستاویزات پر پاکستانی بنے ہوئے تھے۔ وزیر داحلہ چودھری نثار علی خان نے ان دویورپی ملکوں کا نام تو نہیں لیا لیکن اتنا بتایا ہے کہ ان ملکوں سے 90 ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چند ممالک کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر یورپی یونین کے ساتھ ری ایڈمشن معاہدہ عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، چودھری نثار علی خان نے کہا کہ پاکستانیوں کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ناقابل برداشت ہے، ان کا کہنا تھا کہ اب صرف ان پاکستانیوں کو واپس آنے دیا جائے گا، جن کے کوائف کی تصدیق ہوگی، سنہرے مستقبل کے خواب دیکھنے والے یہ لوگ انسانی سمگلروں کے ہاتھوں لٹ لٹا کر اگر کسی یورپ ملک میں پہنچ بھی جائیں تو بھی ان کے دکھ کم نہیں ہوتے، یہ لوگ وہاں کی جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں۔ ان کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہوتے، جب وہ واپس آتے ہیں تو ان کے دکھ مزید بڑھ جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرکے انسانی سمگلروں کے حوالے کرچکے ہوتے ہیں، کسی زمانے میں یہ لوگ یوکرائن وغیرہ کے راستے یورپ جاتے تھے، انسانی سمگلر کسی نہ کسی طر ح ان کا یوکرائن وغیرہ کا ویزہ لگوا لیتے اور پھر وہاں سے کنٹینروں میں بھر کر یورپی ملکوں کو پہنچاتے، ان میں صرف پاکستان ہی نہیں دنیا کے اور بھی بہت سے ملکوں سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوتے تھے، انہیں کنٹینروں میں بھر کر باہر سے دروازے ویلڈ کر دئیے جاتے تھے، جو لوگ اندر پیک ہو جاتے تھے ان میں بہت سے لوگ تو دم گھٹنے سے مر جاتے تھے، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ پورے کا پورا کنٹینر زندہ انسانوں کا قبرستان بن گیا، کنٹینر جب پکڑا جاتا اور ڈرائیوروں کو معلوم ہوتا کہ اب سارا راز کھل جائیگا تو وہ موقع سے کھسک جاتے، بعد میں کنٹینر کھولا جاتا تو اندر سے مرے ہوئے لوگوں کی لاشیں نکلتیں، جنہیں کسی مخصوص مقام پر کنٹینروں میں بند کرکے باہر سے سیل کر دیا جاتا،تاثر یہ دیا جاتا کہ اند ر’’مال ‘‘ہے اور بھی بہت سے ملکوں کے روٹ انسانی سمگلروں کے زیر استعمال ہیں، آج کل یہ لوگ پاکستانیوں کو ترکی کے راستے یورپ پہنچانے کا لالچ دے کر وہاں پہنچاتے ہیں شام اور عراق کی خانہ جنگی کے متاثرہ لوگ جب کشتیوں کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش کرتے ہیں تو بعض اوقات راستے میں ہی ان کی اور ان کے بچوں کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی مرنے والے ایک خاندان کے بچے کی ساحل پر پڑی ہوئی لاش نے پورے یورپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اور یورپی ملکوں نے عارضی طور پر اپنی سرحدیں سرحد پر بیٹھے ہوئے لوگوں کے لئے کھول دی تھیں، لیکن ان مہاجروں کا دباؤ اس قدر زیادہ تھا کہ جلد ہی یہ سلسلہ رک گیا، لیکن انسانی سمگلروں نے لوگوں کو یورپ پہنچانے کے نام پر دولت کمانے کا سلسلہ تاحال ختم نہیں کیا۔ ایک اندازے کے مطابق یہ لوگ اب تک اس دھندے سے 20 ارب روپے کما چکے ہیں۔

چودھری نثار علی خان نے پاکستانی سفارتخانوں میں ایسے پاکستانیوں کی قانونی امداد کا انتظام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہوگا کہ انسانی سمگلروں کے ہاتھوں جہنم جیسی زندگی گزارنے والے لوگوں کو کوئی حکومت قانونی امداد فراہم کرے گی، اس وقت ایسے اعداد و شمار جمع کرنے کی ضررت ہے کہ دنیا کے کون کون سے ملکوں کی جیلوں میں کتنے پاکستانی کتنے عرصے سے قید ہیں اور انہیں کس قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی سمگلنگ کا دھندا کم ہونے کی بجائے بڑھتا جارہا ہے اور انسانی سمگلروں کے ہاتھوں لٹنے کے واقعات کم ہونے کی بجائے بڑھتے رہے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -