سندھ کے آزادی معلومات کے قانون میں ترمیم کا عمل شروع ہو گیا ہے ،نثار کھوڑو

سندھ کے آزادی معلومات کے قانون میں ترمیم کا عمل شروع ہو گیا ہے ،نثار کھوڑو

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان میں حق حصول معلومات‘‘ کے موضوع پر آج منعقد ہونے والے ایک روزہ بریفنگ سیشن میں خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے انفارمیشن کمشنروں نے ارکان صوبائی اسمبلی سندھ اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد پر زور دیا کہ وہ صوبے کے آزادی معلومات کے فرسودہ قانون 2006 کو موجودہ عالمی معیار کے مطابق لانے کی کاوشیں کریں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کی جانب سے منعقدہ اس بریفنگ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی‘ پاکستان مسلم لیگ۔فضل الرحمن گروپ اور ایم۔کیو۔ایم سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی حضرات نے شرکت کی۔ سیشن کی صدارت نثار احمد کھوڑو‘ صوبائی وزیر اطلاعات‘ سندھ نے کی جبکہ پینل میں مختار احمد علی‘ پنجاب انفارمیشن کمشنر اور عبدالمتین خان‘ خیبرپختونخواہ انفارمیشن کمشنر شامل تھے۔صوبائی وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو نے شرکا کو بتایا کہ سندھ کے آزادی معلومات کے فرسودہ قانون 2006 میں ترمیم کا عمل پہلے ہی شروع ہے اور انہوں نے اس کی جلد منظوری کی یقین دہانی بھی کروائی۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ترمیم شدہ حق حصول معلومات کے قانون میں اہم دفعات شامل ہیں جو اس قانون کو حکومتی شفافیت اور عوامی احتساب کے حوالے سے عوامی مطالبات پورا کرنے کیلئے مزید فعال اور موثر بنا دیں گی۔خیبرپختونخواہ کے انفارمیشن کمشنر عبدالمتین خان نے کہا کہ ملک میں حق حصول معلومات کا پہلا ترقی پسند قانون ہونے کے ناطے خیبرپختونخوا کا حق حصول معلومات کا ایکٹ 2013‘ حق حصول معلومات کے فرسودہ قوانین رکھنے والے صوبوں کیلئے ایک مثبت مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ باوجود اس امر کے کہ اس قانون کو منظور ہوئے ابھی دو سال سے کم عرصہ ہوا ہے‘ خیبرپختونخواہ کے حق حصول معلومات کے قانون کو عوام نے وسیع پیمانے پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ انفارمیشن کمشنر نے قانون میں شامل کی گئی متنازعہ ترامیم واپس لینے کیلئے خیبرپختونخواہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے میڈیا کی اہمیت پر بھی زور دیا اور سندھ کے ذرائع ابلاغ سے کہا کہ وہ پاکستان میں جاری حق حصول معلومات کی اصلاحات میں شریک ہوں۔اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب انفارمیشن کمشنرمختار احمد علی نے کہا کہ دنیا بھر میں ہونے والی ٹیکنالوجی کی حالیہ ترقی اور حق حصول معلومات کو وسیع پیمانے پر اپنائے جانے کے بعد پاکستان کے شہریوں کو عالمی طور پر تسلیم شدہ حصول معلومات کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کے بجٹ کے اجراء میں تاخیر کے باوجود حق حصول معلومات نے صوبے میں اپنی جگہ بنا لی ہے اور اسے شہری اور میڈیا‘ عوام کے پیسے کے استعمال میں بدعنوانی اور بدانتظامی کو بے نقاب کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ پنجاب انفارمیشن کمشنر کا ماننا تھا کہ حق حصول معلومات کے ترقی پسند قانون میں سندھ میں گورننس اور شہریوں اور حکومت کے تعلقات بہتر بنانے کی صلاحیت موجود ہے ‘لہذا‘ انہوں نے اس قانون کی جلد از جلد منظوری پر زور دیا۔بریفنگ سیشن کا آغاز کرتے ہوئے آسیہ ریاض‘ جائنٹ ڈائریکٹر پلڈاٹ نے شرکت کرنے والے ارکان اسمبلی پر زور دیا کہ وہ حق حصول معلومات کے معاملے کو جلد از جلد اٹھائیں اور میڈیا سے کہا کہ عوامی مفاد کے معاملات کی رپورٹنگ کرتے وقت حق حصول معلومات کے قانون کا زیادہ باقاعدگی سے استعمال کریں۔ حکومت کی کارکردگی میں تبدیلی لانے میں حق حصول معلومات کی طاقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے محترمہ آسیہ ریاض نے ارکان قومی اسمبلی کی حاضری کے حوالے سے آزادی معلومات کے آرڈیننس 2002 کے تحت پلڈاٹ کی جانب سے معلومات کے حصول کیلئے دی جانے والی درخواست کی مثال دی جس کے نتیجے میں آج پاکستان کی ہر اسمبلی میں اس ریکارڈ کی پیشگی فراہمی کی روایت قائم ہو چکی ہے۔اس موقع پر پلڈاٹ نے شرکا کو حق حصول معلومات پر مختلف مطبوعات فراہم کیں جن میں ’’حق حصول معلومات اور نیوز میڈیا‘ جنوبی ایشیاء میں حق حصول معلومات کا اجراء‘‘ کے عنوان سے بریفنگ پیپر‘ ’’حق حصول معلومات پر موثر قانون سازی‘‘ کے موضوع پر پالیسی بریف‘ ’’سندھ میں حق حصول معلومات کی قانون سازی‘‘ کے موضوع پر خلاصہ قانون سازی اور ’’حق حصول معلومات پر میڈیا کیلئے اہم پیغام‘‘ اور ’’حق حصول معلومات پر ارکان اسمبلی کے لئے اہم پیغام‘‘ شامل ہیں۔پاکستان میں حق حصول معلومات کی صورتحال کے موضوع پر ارکان سندھ اسمبلی اور نیوز میڈیا کے لئے اس ایک روزہ بریفنگ سیشن کا اہتمام پلڈاٹ نے ’’ وفاقی اور صوبائی سطح (سندھ اور پنجاب)پر زیادہ موثر حق حصول معلومات منصوبہ‘‘ کے تحت کیاجسے Enhanced Democratic Accountability and Civic Engagement Project کے تحت Development Alternatives Inc. کا تعاون حاصل ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -