آئی سی ٹی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں، انوشہ رحمن

آئی سی ٹی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں، انوشہ رحمن

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)ایشیا میں موبائیل انفراسٹرکچر فراہم کرنے والی بین الاقوامی ایگزیاٹا (AXIATA) گروپ آف کمپنیز (ملائیشیا)سے منسلک ایڈوٹکو کمپنی کے ایک چار رکنی وفد نے اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی مسز انوشہ رحمان سے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت گروپ کے ریگولیٹری ھیڈ مسٹر ریمینڈ ٹان اور سی ای او عارف حسین کر رہے تھے۔ وزیر مملکت نے وفد کے شرکاء کو بتایہ کہ پاکستان کے انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سیکٹر میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کے پاکستان میں ٹیلی کام اور برانڈ بینڈکی نمایاں ترقی نے پوری دنیا میں سرمایہ کارواں کی توجہ اس طرف مبذول کروائی ہے۔ انوشہ رحمن نے کہا کہ ہم پاکستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں ٹیلی کام کی سہولیات کی فراہمی کا مسمم ارادہ رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اربوں روپے کی سبسڈی دی جا رہی ھے۔ تاکہ پاکستان کی سو فیصد آبادی ان سہولیات سے مستفید ہو سکے۔ مزید براں پاکستانی ٹیلی کام سیکٹر میں شرع منافع دوگنا ہونیکی وجہ سے یہ سیکٹر سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ وفد کے شرکاء نے پاکستان کی موجودہ حکومت کی مثبت پالیسیوں کی تعریف کی۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی انتھک کاوشوں کے سبب ٹیلی کام کے سیکٹر میں نمایاں ترقی پر وزیر مملکت کو مبارکباد پیش کی۔ایڈوٹکو کمپنی نے پاکستان میں ٹاور رشیئرنگ بزنس میں 50 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے جبکہ کمپنی دیگر اہم مواقوں بلخصوص آئندہ ہونیوالی 3g/4g سپیکٹرم نیلامی میں سرمایہ کاری پر غور کر رہی ہے۔ انوشہ رحمان نے کہا کہ پاکستان میں براڈبینڈ کی شرع صرف 3 فیصد تھی جسے اپنی کوششوں سے صرف گیارہ ماہ کی محدود مدت میں 15% تک لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں جس نے پاکستان میں انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کا نقشہ تبدیل کر دیا ہے۔ اس ترقی کے مثبت اثرات آئی سی ٹی سیکٹر میں بالخصوص اور مجموعی معاشی صورتحال میں بالعموم دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیر مملکت انوشہ رحمان نے وفد کے شرکاء کو یقین دلایا کہ ہماری حکومت سرمایہ کارون کو ایک ایسا سازگار ماحول مہیا کر رھی ھے جہاں وہ آسانی کیساتھ اپنی سرمایہ کاری کر کے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن مے ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کروائی۔

مزید :

ملتان صفحہ اول -