والد حمید گل نے عمران سے کہا ”ریحا م بر طا نو ی خفیہ ایجنسی کی آلہ کا ر ہے ،اس سے بچو“ عبداللہ گل

والد حمید گل نے عمران سے کہا ”ریحا م بر طا نو ی خفیہ ایجنسی کی آلہ کا ر ہے ،اس ...
والد حمید گل نے عمران سے کہا ”ریحا م بر طا نو ی خفیہ ایجنسی کی آلہ کا ر ہے ،اس سے بچو“ عبداللہ گل

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جنرل حمید گل کے صاحبزادے عبداللہ گل نے کہا ہے کہ میرے والد نے عمران خان کو تنبیہ کی تھی کہ ریحام خان برطانوی ایجنسی کی آلہ کار ہے اس سے دور رہو۔ ریحام سے شادی نہ کرنا لیکن عمران نے ان کی بات کو نظر انداز کیا۔ برطانیہ سے پہلے جمائما آئی اور عمران خان سے شادی کی۔ الیکشن میں ہارنے پر چھوڑ کر چلی گئی۔ عمران خان کو دوبارہ عروج ملا تو اب پھر برطانوی نژاد پہنچ گئی اور شادی کر لی۔

اخبار روزنامہ خبریں کے مطابق جب ریحام خان پاکستانی میڈیا پر آئیں تو مختلف پروگرامز کرنا شروع کئے جن کا زیادہ فوکس کے پی کے، اس کے علاوہ افغانستان اور فاٹا کی صورتحال ہوتی تھی۔ اس بارے کچھ پاکستانی حلقے جن کو آئیز (آنکھیں) اور ایئرز (کان) کہا جاتا ہے، انہوں نے معاملات کو آگے پھیلانا شروع کیا۔ تحقیق کو بڑھانا شروع کیا۔ اسی اثناءمیں ریحام خان نے پی ٹی وی کو جوائن کر لیا جس کا کنٹریکٹ 2 سال کا تھا۔ مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد ہی ریحام خان کو وہاں سے برخاست ہونا پڑا۔ پی ٹی وی کو ان کی 2 سال کی تنخواہ وغیرہ بھی دینی پڑی۔ لیکن جو محب وطن حلقے تھے انہوں نے ریحام خان کو برخاست کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک سوال کے جواب میں عبداللہ گل نے بتایا کہ اس کے بعد ریحام خان کا رابطہ دھرنوں میں عمران خان کے ساتھ بڑھا۔ وہ دیر گئے تک وہاں موجود ہوتی تھیں اور رات 3-3 بجے تک بھی ان کو وہاں دیکھا گیا۔ جنرل حمید گل صاحب کو پاکستان ہی کیا پوری دنیا میں ہنری کسنجر آف پاکستان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبداللہ گل نے کہا کہ جنرل صاحب نے 2 ذرائع سے عمران خان کو آگاہ کیا تھا۔ ایک تو ذاتی طور پر، دوسرے میڈیا کے ایک بہت بڑے صحافی ہیں جن کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ یہ اس سے کنارہ کریں۔ تیسرے ایک وکیل جو تحریک انصاف کے چیئرمین کے وکیل ہیں۔ ان کے ذریعے بھی پیغام عمران کو بھجوایا گیا میرے خیال میں عمران خان نے اس کو نظر انداز کر دیا۔ جو بھی اس کی وجوہات ہوں مگر یہ بات مصدقہ ہے کہ جنرل صاحب نے ان کو گزارش کی تھی کہ تھوڑی احتیاط برتیں۔ عبداللہ گل نے مزید بتایا کہ عمران خان ہو سکتا ہے اس کو سنجیدگی سے نہ لیتے مگر جب جنرل حمید گل جیسی شخصیت ان کو تنبیہ کر رہی تھی تو ان کو ضرور اس بارے خیال رکھنا چاہئے تھا اور غوروفکر کرنا چاہئے تھا۔

عبداللہ گل نے کہا کہ آپ سمیت سب کو پتہ ہے کہ میرے والد نے جو کہنا ہوتا تھا وہ برملا کہہ دیتے تھے۔ وہ اشاروں کنایوں میں گفتگو نہیں کیا کرتے تھے۔ ایسی باتوں کے عادی نہ تھے۔ تھوڑا سا بیک گراﺅنڈ یہ دوں گا کہ عمران خان کی جب جمائما سے شادی ہوئی تب بھی میرے والد نے عمران کو کہا تھا کہ آپ ان سے اجتناب کیجئے۔ ان کو یہ سب کچھ جمائما بارے کچھ معلومات حاصل ہونے کے بعد کہنا پڑا تھا۔ مگر اس کے ایک ماہ بعد ہی عمران خان نے جمائما سے برطانیہ جا کر شادی کر لی۔ محمد علی درانی جو وزیراطلاعات بھی رہ چکے ہیں، وہ بھی اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تب بھی جمائما بارے کوشش کی جاتی تھی کہ ان کو پاکستانی سیاست کے ابھرتے ہوئے روشن ستارے عمران خان بارے استعمال کیا جائے اور جمائما کے ذریعے اپنی پالیسی پر عملدرآمد کیا جاتا۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ صرف جنرل حمید گل کے تحفظات تھے یا وہ اپنی اطلاع کے اوپر یہ بات کر رہے تھے کہ آپ کو احتیاط کرنی پڑے گی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جنرل صاحب جو بھی بات کرتے تھے اس کی اطلاع ضرور رکھتے تھے۔ سب کو معلوم ہے کہ وہ ”ملٹری انٹیلی جنس کے باپ“ تھے، کور آف ملٹری انٹیلی جنس کے بھی فاﺅنڈنگ فادر کہا گیا۔ جب اطلاعات ان کے پاس آئیں تو  انہوں نے یہ متعلقہ اداروں تک پہنچائیں تو تحقیقات ہوئیں۔ انہی تحقیقات کی بنیاد کے اوپر ریحام خان کو پاکستان ٹیلی ویژن سے فارغ ہونا پڑا۔ جب جمائما والا معاملہ تھا تب ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عمران خان کو الیکشن میں شکست ہوئی۔ تو آپ نے دیکھا کہ جمائما نے ان کو چھوڑ کر علیحدگی اختیار کر لی۔ گو کہ یہ بہت مشکل اور قابل افسوس بھی تھی۔ لیکن پھر دوبارہ عمران خان کا ایک عروج آتا ہے اور کے پی کے میں ان کی پارٹی حکومت بناتی ہے۔ پھر ایک مرتبہ برطانیہ سے ہی برطانوی نژاد خاتون آتی ہیں۔ اس کے بعد ان کو تنبیہ بھی کی جاتی ہے۔ عمران خان کی قربت حاصل کی جاتی ہے۔ پھر سے شادی تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔ اور جب شادی ہو جاتی ہے تو میرے والد نے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ میں نے بھی ایسا ہی پیغام بھجوایا۔ لیکن ریحام خان ہم سے کچھ اس بات پر نالاں تھیں کہ 11 اکتوبر 2014ءکو ان کو جنرل صاحب نے کافی کھری کھری باتیں سنائی تھیں۔

مزید :

لاہور -