حکومت واٹر پالیسی بنانے میں ناکام ملک میں پانی کی صورت حال انتہائی گھمبیر

حکومت واٹر پالیسی بنانے میں ناکام ملک میں پانی کی صورت حال انتہائی گھمبیر

اسلام آباد (آن لائن) حکومت تاحال واٹر پالیسی بنانے میں ناکام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملک میں پانی کی صورت حال انتہائی گھمبیر ہونے لگی ذرائع کے مطابق اگر پانی کی صورت کو سیریس ہو کر نہ دیکھا گیا تو آئندہ دس سال میں پاکستان میں شدید قسم کا پانی بحران پیدا ہو جائے گا تفصیلات کے مطابق ملک میں پانی کی صورت حال پر گزرتے سال کے ساتھ ہی انتہائی گھمبیر ہوتی جا رہی ہے اور اس وقت ملک میں فی 1000 کیپتا پانی موجود ہے جو کہ 20 برس پہلے 5000 فی کیپتا موجود تھا لیکن حکومتی توجہی کے باعث ملک میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ بڑھ گیا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ دنیا میں موسمیاتی تبدیلی اور ملکی آبادی کا حد سے زیادہ بڑھ جانا ہے ذرائع کے مطابق حکومت نے پانی کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے ایک اجلاس بھی طلب کیا ہے تاکہ اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے اور رواں ماہ کے آخر میں تمام صوبوں آزاد کشمیر گلگت بلتستان سمیت ایک اجلاس بلایا جائے گا جس میں واٹر پالیسی بنانے بارے مشاورت کی جائے گی ۔ملک میں 97 فیصد پانی ایگری کلچر پر استعمال ہوتا ہے بلکہ تین فیصد پانی عوام اور فصلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ ملک میں تین دن کا پانی موجود ہوتا ہے جو کہ دنیا کے مقابلے میں انتہائی کم ہے رواں سال کے بجٹ میں فیڈرل نے پانی کے لئے تین ارب روپے رکھے تھے جس میں پندرہ ارب روپے واپڈا کے لئے ہوتے ہیں اور پندرہ ارب روپے صوبوں کے لئے ہوتے ہیں جبکہ 18 ویں ترمیم کے بعد اس میں خاطر خواہ کمی آئی ہے وزارت پانی و بجلی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ ڈرپ ایری گیشن پر کام کر رہی ہے تاکہ کم پانی استعمال کر کے زیادہ فصل حاصل کی جا سکے ۔

زیادہ تر پانی کا مسئلہ صاف پانی ہے اور یہ ایک انتہائی سیریس ایشو ہے اگر صوبے اور فیڈرل ایک جگہ اکٹھے ہو گئے اور ایک واٹر پالیسی بنا دی گئی تو پانی کے حوالے سے مسائل ہو جائیں گے ۔ #/s#(جاوید)

مزید : کامرس


loading...