کپاس کی چنائی و فروخت شفاف بناکر 30فیصد زائد منافع حاصل ہوسکتا ہے

کپاس کی چنائی و فروخت شفاف بناکر 30فیصد زائد منافع حاصل ہوسکتا ہے

لاہور(اے پی پی ) کاشتکار کپاس کی چنائی اور فروخت کو شفاف بناکر 30فیصد زیادہ منافع کماسکتے ہیں،محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق کپاس کاشت کے مرکزی و ثانوی علاقوں میں کپاس کی چنائی شروع ہو چکی ہے جو دسمبر کے آخر تک جاری رہے گی ،انہوں نے کہاکہکپاس چننے کا کام صبح 10بجے شروع کیا جائے تاکہ کھلے ہوئے ٹینڈوں کی روئی میں شبنم والی نمی باقی نہ رہے جس سے خشک چنی ہوئی پھٹی کا رنگ اور کوالٹی خراب نہیں ہوتے اور نمی نہ ہونے کی وجہ سے جننگ کے دوران مشکلات بھی نہیں آتیں،انہوں نے کہاکہ کپاس کی چنائی کا درمیانی وقفہ کم از کم 15سے20 دن رکھا جائے جبکہ بارشوں‘ نقصان دہ کیڑوں سے متاثرہ اور آخری چنائی کی کچے ٹینڈوں سے حاصل ہونے والی پھٹی کومارکیٹ میں الگ فروخت کیا جائے،چنائی ہمیشہ پودے کے نچلے حصے کے کھلے ہوئے ٹینڈوں سے شروع کی جائے اور بتدریج اوپر کو چنائی کی جائے تاکہ نیچے کے کھلے ہوئے ٹینڈے خشک پتوں‘ چھڑیوں یا کسی دوسری چیز کے گرنے سے محفوظ رہیں، چنائی تربیت یافتہ سپروائزروں کی نگرانی میں قطار بنا کر ایک طرف سے شروع کروائی جائے، انہوں نے کہاکہ چنائی کے دوران چنی ہوئی پھٹی کو صاف اور خشک سوتی کپڑے پر رکھا جائے اور اس کے بعد صاف اور خشک جگہ پر اکٹھا کیا جائے تا کہ پھٹی آلودگی سے محفوظ رہ سکے، پھٹی کو بوروں میں بھرنے سے پہلے ناکارہ اور نیم پختہ ٹینڈوں کو نکال لیا جائے تاکہ روئی کا معیار بہتر ہو سکے، انہوں نے کہاکہ چنی ہوئی کپاس میں نمی‘کچے ٹینڈے‘ ٹینڈوں کے ٹکڑے‘ رسیاں‘ سوتلی‘ پلاسٹک شاپر‘ سگریٹ کے ٹکڑے‘ٹافیوں کے ریپر اور انسانی بال وغیرہ ہر گز شامل نہ ہونے دئیے جائیں۔

ورنہ پھُٹی کا معیار گر جائے گا جبکہ کپاس کو زیادہ دیر تک سٹور نہ کیا جائے کیونکہ اس سے کپاس کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے، پھٹی کا اونچی جگہ پر ڈھیر لگایا جائے اور ایک ڈھیر میں 100من سے زیادہ پھٹی نہ ہو۔

مزید : کامرس


loading...