نیوروسرجری شعبے کی ترقی کیلئے جدید طریقوں سے آگاہی ناگزیر ہے،پروفیسر ڈاکٹر انجم

نیوروسرجری شعبے کی ترقی کیلئے جدید طریقوں سے آگاہی ناگزیر ہے،پروفیسر ڈاکٹر ...

لاہور(خبرنگار) نیوروسرجری اورطبی ریسرچ کی شعبے کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ نوجوان ڈاکٹروں کو ہرسال نیوروسرجری کے شعبے میں ہونے والی نت نئی اختراعات اور جدید طریقوں سے آگاہ کیا جائے۔ نیورو سرجری کی ترقی کوتیز تر کرنے کیلئے مستقبل کے چیلنجز کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہو گا جب طب کے شعبے سے وابستہ پروفیشنلز اپنا علم اور تجربہ نئی نسل کو منتقل کرنے کے لئے سنجیدہ ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار 29ویں عالمی نیوروسرجری کانفرنس میں شرکاء نے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 3روزتک جاری رہنے والی اس کانفرنس کی صدارت صدر پاکستان سوسائٹی آف نیوروسرجنزپروفیسر ڈاکٹر انجم حبیب وہرہ نے کی۔کانفرنس کی آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئر مین پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، پروفیسرنذیر احمد،پروفیسر طارق صلاح الدین، پروفیسر رضوان مسعود بٹ، پروفیسر شہزاد شمس اور پروفیسر انور چوہدری سمیت پاکستان و دیگر ممالک سے بھی ممتاز نیورو سرجنز نے کانفرنس میں شرکت کی اور اپنے تجربات اور جدید طریقہ علاج و جراحی سے شرکاء کانفرنس کو مستفید کیا۔دوران کانفرنس نیوروسرجری کے ماہرین نے 65 تحقیقی مقالے پڑھے اور متعددا سٹیٹ آف دی آرٹ لیکچر دیئے ۔کانفرنس کے دوران نوجوان ڈاکٹروں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کیلئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آ ف نیورو سائنسز لاہور جنرل ہسپتال میں بیک وقت تین تربیتی ورکشاپس منعقد ہوئیں ۔پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہو ئے کہا کہ پاکستان کی مجموعی آبادی میں 7لاکھ20ہزار افراد کے لئے صرف ایک نیوروسرجن دستیاب ہے۔ جو مغربی ممالک کے مقابلے میں8سے10گنا کم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں سالانہ صرف 14 نیوروسرجنز بن رہے ہیں جو ہماری تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے بالکل ناکافی ہیں۔ پروفیسر خالد محمود نے پاکستان میں شعبہ نیورو سرجری کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پروفیسر ڈاکٹر اودی جمعہ نے 1952میں کراچی سے نیوروسرجری کا آغاز کیا۔جبکہ پنجاب میں بریگیڈئیر جی ڈی قاضی نے 1956 میں نیوروسرجری شروع کی۔1964میں پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد اس سفر میں شریک ہو گئے۔پروفیسر خالدمحمود نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور امن و امان کی خاطر زیا دہ سے زیادہ دماغی امراض کی علاج گاہیں اور معالجین وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ جن کے ہیلتھ ویژن کے مطابق پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس درسگاہ پر اب تک 2ارب30کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں اور فیز ون کی تعمیرمکمل ہو گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت لاہور جنرل ہسپتال میں ہر سال تقریبا پانچ ہزار دماغ اور حرام مغز کے آپریشن کئے جاتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...