اضلاع میں اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزڈ خدمات فراہم کی جارہی ہیں،اقبال چنٹر

اضلاع میں اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزڈ خدمات فراہم کی جارہی ہیں،اقبال چنٹر

لاہور(خبرنگار)صوبائی وزیر کو آپریٹو ملک محمد اقبال چنڑ نے گزشتہ روز اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے کے لئے آئے مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق صوبے کے 36 اضلاع کی 143 تحصیلوں میں قائم اراضی ریکارڈ سنٹرز سے اراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزڈ خدمات فراہم کی جارہی ہیں ۔ عوام کو خدمات کی موثر اور بروقت فراہمی، سنٹرز کی نگرانی اور عملہ کی کارکردگی جانچنے کیلئے ایک موثر نظام وضع کیا گیا ہے ۔ اس نظام کے تحت ایک جانب تو سنٹرز کے انتظامی اختیارات ضلعی حکومت کو تفویض کیے گئے ہیں تو دوسری جانب ٹیکنالوجی پر مبنی کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں ۔ جہاں سے سنٹرز پر نصب کیمروں اور عملہ کی کارکردگی پر مبنی روزمرہ الیکٹرانک ڈیٹا / ڈیش بورڈ کے ذریعے سنٹر کے معاملات کی ہمہ وقت نگرانی کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں سائلین کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے عملہ کی دوران ڈیوٹی / دفتری اوقات میں اپنی نشستوں پر دستیابی اور موبائل فون کے استعمال پر پابندی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اراضی کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کو اغلاط اور ابہام سے پاک کرنے کیلئے ریکارڈ میں درج مالکان اراضی کے نام کو ان کے شناختی کارڈ پر نام کے مطابق درست کیا جا رہا ہے اور دیگر کوائف کے ساتھ مالک اراضی کا شناختی کارڈنمبر ، تصویر اور نشان انگوٹھا منسلک کر کے حقوق اراضی کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ نام کی درستگی کے عمل کو سائلین کیلئے سیل بنانے کے ساتھ ساتھ اس کی درخواست اور اس پر عملدرآمد کا عمل سنٹر کے ذریعے ہی پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس صورت حال میں کچھ افراد موقع / نام تصیح کا ناجائز فائدہ اٹھانے کیلئے مالکان اراضی کا استحصال کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے عوام کی شکایات کا ازالے کیلئے ضلع کی سطح پر ڈسٹرکٹ کو آرڈنیشن آفیسر کے دفاتر اور صوبائی سطح پر پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں شکایات سیل قائم کیے گئے ہیں جن کے ذریعے تمام جائز شکایات پر فوری کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...