سٹریٹ چلڈرن بحالی سنٹر قائم کئے جائیں

سٹریٹ چلڈرن بحالی سنٹر قائم کئے جائیں

مکرمی! کسی قوم کے بچے مستقبل کے معمار اور قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں کیونکہ کل ان کو اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ڈاکٹر، انجینئر، قانون دان، صحافی، استاد، سائنسدان اور سیاستدان بن کر ملک و قوم کی خدمت کرتا ہے، جبکہ کچھ بد نصیب، گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر آوارہ پھر کر اپنی زندگی بھوک و ننگ میں گزار کر فٹ پاتھوں ، پارکوں، کھلے میدانوں، ریلوے سٹیشنوں اور دکانوں کے تھڑوں پر لیٹ کر رات گزارتے ہیں۔ یہ والدین کے ہوتے ہوئے بھی بے آسرا اور یتیم ہوتے ہیں۔ عموماً یہ بچے والدین کے تشدد، جارحانہ رویے، ناروا سلوک، غربت اور اساتذہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر گھر سے بھاگے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں واضح قانون ہونے کے باوجود آج بھی کم عمر معصوم بچوں کو جسمانی اور جنسی تشدد کا سامنا ہے جو نہایت ہی قابل افسوس اور قابل مذمت ہے یہ بچے سارا دن رات دکانوں، ریستورانوں اور ورکشاپوں میں بہت ہی تھوڑے معاوضے پر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بچے جرائم پیشہ لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہی اور انہیں وہ اپنے مذموم مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں وہ چوری، ڈکیتی، عورتوں کے پرس چھیننے، موبائل فون ہتھیانے کے علاوہ بڑے پیمانے پر گداگری کروا کر دولت کماتے ہیں۔ ان کی خوراک گھٹیا ان کی پرورش ناقابل بیان ہونے کے ساتھ ساتھ منشیات کے عادی لوگوں کی صحبت کی وجہ سے ہیپاٹائٹس، ایڈز اور دیگر مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو روگ لگا کر چلتی پھرتی لاش کی صورت میں سڑکوں، ریلوے سٹیشنوں اور بس سٹینڈ پر دکھائی دیتے ہیں ان کی عمر طویل نہیں ہوتی اور انہیں کوئی بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ حکومت سے اپیل ہے کہ سٹریٹ چلڈرن کی بحال کے لئے سارے ملک میں سروے کیا جائے بعد ازاں ’’سٹریٹ چلڈرن بحالی سنٹر‘‘ میں ان کا نفسیات کے ماہر سے علاج کروا کر انہیں گھر کا ماحول مہیا کیا جائے، یعنی انہیں بہتر خوراک اور تعلیم و تربیت سے اچھا شہری بنایا جائے تاکہ وہ محب وطن بن کر ملک و قوم کی خدمت کر سکیں۔ (رب نواز صدیقی، غلہ منڈی پاکپتن شریف)

مزید : اداریہ


loading...