شہباز شریف کا چیلنج

شہباز شریف کا چیلنج
شہباز شریف کا چیلنج

  


پاکستان میں الزامات در الزامات کی سیاست نے عوام کو بیمار بنا دیا ہے، لیکن پہلی بار الزامات کے بجائے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے الزامات پر عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے اور انہوں نے واضح طور پر قانونی راستہ اختیار کرنے کا اعلان کر کے مخالفین کو خاموش کر دیا ہے وزیراعلیٰ کی جانب سے بھجوایا گیا ہرجانے کا نوٹس تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مل چکا ہے، اب عمران خان یا تو اس کا جواب دیں گے یا پندرہ دن بعد عدالتی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا ۔عدالتی کارروائی سے ہی اس مسئلے کا حل نکل آئے گا ۔اگر محمد شہباز شریف عدالتی کارروائی میں جیت جاتے ہیں تو موجودہ سیاسی صورت حال میں یہ ان کی سب سے بڑی فتح ہو گی، لیکن اس کے لئے پندرہ دن عوام کو انتظار کرنا پڑے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے مجھ پر کرپشن کے انتہائی گھٹیا ،بے بنیاد او ر جھوٹے الزامات لگا کر جھوٹ اور دروغ گوئی کی انتہا کر دی اور مَیں عمران خان کے خلاف 26 ارب 54 روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتا ہوں اور عدالت سے رجوع کر رہا ہوں ۔میرے حق میں فیصلہ ہو تو یہ رقم پاکستان کے عوام کے حوالے کر دوں گا اور یہ رقم پاکستانی قوم کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو گی۔اگر فیصلہ میرے خلاف آیا تو مَیں اور میرے بچے ہمیشہ کے لئے سیاست کو خیر باد کہہ دیں گے اور اگر فیصلہ جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف آیا تو پھر اس کا فیصلہ قوم خود کرے گی ۔میری عدالت سے استدعا ہو گی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اس کیس کی سماعت کرے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔میرے تینوں ادوار حکومت میں اگر حکومتی امور نمٹانے کے حوالے سے ایک دھیلے کی بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو بیس کروڑ عوام کا مجرم ہو ں گا ۔خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے 2013ء میں بھی اپنی ٹیم کے ہمراہ خود کو احتساب کے لئے پیش کیا تھا اور پنجاب حکومت نے اربوں روپے کی رقم سے مکمل ہونے والے منصوبوں میٹرو بس،لیپ ٹاپ سکیم ،خادم پنجاب اجالا پروگرام کی شفاف انداز میں تحقیقات کے لئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے معاہدہ کیا تھا اور خود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو دعوت دی تھی کہ ان کے گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں اربوں روپے کے پایہ تکمیل تک پہنچنے والے منصوبوں کی شفاف طریقے سے تحقیقات کی جائے ۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ان تینوں منصوبوں کی شفافیت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا اور قرار دیا تھا کہ ان منصوبوں میں بد عنوانی نہیں ہوئی اور تمام مراحل قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہیں ۔

موجودہ دور میں ایسے حکمران پاکستان میں تو نہیں ملتے امریکا اور یورپ میں ایسی مثالیں ضرور ملتی ہیں، جہاں پر حکمران خود کو احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں ، پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اقدام اٹھایا گیا تھا محمد شہباز شریف کے علاوہ کسی بھی حکمران نے خود کو آج تک عوام کے سامنے احتساب کے لئے پیش نہیں کیا ہے۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی کو بھی دنیا بھر میں بھی سراہا جاتا ہے ۔عالمی ادارے بھی اس کے معترف ہیں، جبکہ ورلڈ بینک نے قرار دیا تھا کہ پنجاب دوسرے صوبوں کیلئے رول ماڈل ہے ۔ورلڈ بینک نے پنجاب حکومت کی بہترین کارکردگی اور گڈ گورننس کی وجہ سے متعدد منصوبوں میں تعاون اور فنڈ فراہم کئے ہیں ۔

پاناما لیکس میں محمد شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کے نام یا ذکر کہیں بھی نہیں ہیں ۔عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین اور علیم خان کے نام پاناما لیکس میں شامل ہیں لیکن عمران خان ان سے استعفیٰ نہیں لیتے کیونکہ جہانگیر ترین اور علیم خان پی ٹی آئی کے لئے کروڑوں کے فنڈز دیتے ہیں ۔عمران خان وزیراعظم محمد نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن ان کے اپنے ساتھیوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ ان کی آف شور کمپنیاں ہیں عمران خان کو چاہیے تھا کہ پہلے اپنے ساتھیوں سے استعفےٰ لیتے ۔اسی طرح خان صاحب نے خیبرپختونخوا میں احتساب کمیشن قائم کیا تھا ۔جب احتساب کمیشن نے صوبائی وزیر اور وزیراعلیٰ کے خلاف تحقیقات شروع کیں اور ایک صوبائی وزیر کو گرفتار کیاگیا تو احتساب کمیشن کو بے اختیار کر کے اس کے پر کاٹ دیئے گئے، جس پر احتساب کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل حامد خان احتجاجاً مستعفی ہو گئے ۔پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی نے بھی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور وزراء کے بارے میں کرپشن اور بد عنوانیوں کے الزامات لگائے ۔عمران خان ارکان اسمبلی کی طرف سے صوبائی حکومت پر الزامات کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن قائم کرتے لیکن ابھی تک ان الزامات کے بارے میں کوئی کمیشن قائم نہیں کیاگیا ہے ، جبکہ محمد شہبا ز شریف نے خود کو احتساب کے لئے پیش کر دیا۔

مزید : کالم


loading...