وکلاء کی ہڑتالیں کم کرانے کے لئے مثبت قدم

وکلاء کی ہڑتالیں کم کرانے کے لئے مثبت قدم

پاکستان بار کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ وکلا کی جانب سے ہڑتال کے اعلان کا اختیار صرف پی بی سی کو ہوگا اور اگر کسی اور بار کونسل یا ایسوسی ایشن نے ہڑتال کا اعلان کیا تو ضابطہ کے مطابق اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان بار کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ غیر ضروری طور پر وکلا کی ہڑتالوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ پاکستان بار کونسل کے اجلاس میں کیا گیا ہے جس میں کونسل کے رکن 23 ارکان میں سے 13 نے شرکت کی۔ وائس چیئرمین فروغ نسیم سمیت 10 ارکان نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا، فروغ نسیم کو اجلاس میں بار کونسل کے ترجمان کے منصب سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ کامران مرتضیٰ کو ترجمان مقرر کر دیا گیاہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ عدالتوں میں آنے والے سائلین اور ججوں کے ساتھ بدتمیزی اور تشدد کے واقعات میں ملوث وکلا کے خلاف متعلقہ صوبائی بار کونسلیں خود ہی ضوابط کے مطابق کارروائی کریں ورنہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) ان کے خلاف کارروائی کرے گی۔

وکلاء کی ہڑتالوں کا معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور ڈسٹرکٹ یا تحصیل سطح کی بار ایسوسی ایشن اپنے طور پر کسی بھی مسئلے پر مقامی عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیتی ہیں اور اس دوران مقدمات کی سماعت رکی رہتی ہے۔ بعض اوقات ہڑتالیں اتنی طول کھینچ لیتی ہیں کہ کئی کئی ہفتے تک جاری رہتی ہیں اور کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ سائلین پیشی بھگتنے کے لئے دور دراز کا سفر طے کر کے آتے ہیں یا پولیس جیلوں میں بند قیدیوں کو سماعت کے لئے لے کر آئی ہے تو آنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ آج تو سماعت نہیں ہو سکے گی کیونکہ وکیلوں نے کسی نہ کسی وجہ سے ہڑتال کر رکھی ہے۔ یوں مقدمات کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر ہو جاتی ہے اور جو لوگ چھوٹے چھوٹے مقدمات میں ماخوذ ہوتے ہیں جن کی سزا بھی اتنی نہیں ہوتی وہ متوقع سزا سے بھی زیادہ عرصہ مقدمے کی سماعت نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں گزار دیتے ہیں اس لئے پاکستان بار کونسل کا یہ فیصلہ مستحسن ہے کہ ہڑتال کا فیصلہ وکلا کا یہ اعلیٰ ترین ادارہ ہی کرے گا اور اس کی منظوری کے بغیر کوئی بھی بار ایسوسی ایشن ہڑتال نہیں کر سکے گی لیکن بار کونسل کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ ہڑتالوں کے اس کلچر کو بدلنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اکثر و بیشتر وکلاء کی ہڑتالیں مقامی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یا پھر وکلا کسی جج کے خلاف ایکا کر کے ہڑتال کر دیتے ہیں جو وکیلوں کے ناجائز مطالبات کے سامنے سپر انداز ہونے سے انکار کر دیتے ہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی معاملے میں جج سراسر بے قصور اور وکلاء ہی قصور وار ہوتے ہیں پھر بھی وہ جج پر دباؤ ڈالنے کے لئے ہڑتال کر دیتے ہیں اور اس دباؤ کی وجہ سے اُن کا ناجائز مطالبہ مانا بھی جاتا ہے۔

بعض اوقات کسی جج کے تبادلہ وغیرہ کے لئے بھی وکلاء ہڑتال پر چلے جاتے ہیں حالانکہ اگر کسی جج کو ایک شہر سے تبدیل کر کے کسی دوسرے شہر میں متعین کر دیا جائے تو وہاں بھی وکلاء برادری ہی سے اس کا واسطہ پڑے گا اب فرض کریں کہ یہ جج امانت دار اور با اصول ہے اور وکیلوں کے ناجائز مطالبات کے سامنے نہیں جھکتا تو وہاں بھی اس کا وکیلوں کے ساتھ تنازعہ شروع ہو جائے گا اس لئے تبادلے کر کے تو یہ سلسلہ کسی جگہ بھی نہیں رُکے گا۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی مخصوص مقدمے میں کسی وکیل نے اپنے موکل کو کسی خاص ریلیف کی امید دلا رکھی تھی اور اسی امید پر موکل سے بھاری فیس بھی وصول کی ہوئی تھی لیکن جب مقدمے کا فیصلہ وکیل کی توقع کے برخلاف ہوا اور اس نے محسوس کیا کہ اس پر تو موکل احتجاج کرے گا چنانچہ وکیل نہ صرف خود جج کے ساتھ بدتمیزی پر اُتر آیا بلکہ اپنے موقف کو مبنی برحق ثابت کرنے کے لئے وکلاء کی بڑی تعداد کو بھی ساتھ ملا لیا اور بار ایسوسی ایشن کے تعاون سے ہڑتال کرکے عدالت کا بائیکاٹ کر دیا۔

بدتمیزی کے واقعات اَب تو بڑے شہروں میں بھی عام ہونے لگے ہیں اور ایک آدھ بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ معاملہ رفع دفع کرانے کے لئے عزت ماب چیف جسٹس کو خود موقع پر جانا پڑا۔ ججوں کے ساتھ بدتمیزی کے یہ واقعات وکلاء برادری کے لئے کوئی اچھا سرٹیفکیٹ نہیں ہے اور اس سے وکیل برادری مجموعی طور پر بدنام ہوئی ہے۔ پچھلے دنوں اسی سلسلے میں ایک وکیل کا لائسنس معطل ہوا تو وکیلوں نے اکٹھے ہو کر ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے خلاف احتجاج شروع کر دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ کمیٹی کو لائسنس معطل کرنے کا اختیار ہی نہیں۔جس وکیل کا لائسنس معطل ہوا تھا اس نے عدالتوں میں پیشی پر اصرار بھی کیا۔ وقتاً فوقتاً بہت سے چیف جسٹس حضرات نے کوششیں کیں اور وکلاء کو تلقین کی کہ ہڑتالیں کرنے سے گریز کریں اور مقدمات کی تیاری پر توجہ دے کر نام پیدا کریں لیکن اب تک یہ سلسلہ کم نہیں ہوا۔ بعض اوقات تو کوئی بار ایسوسی ایشن کسی ایسے معاملے پر بھی ہڑتال کر دیتی ہے جس سے براہ راست بار یا وکلاء کا تعلق نہیں ہوتا۔ اس لئے اس کلچر کو ختم کرنے کی ضرور ت ہے، امید ہے اگر پاکستان بار کونسل نے ہڑتال کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیا تو اس سے لازماً بہتری آئے گی اور بار ایسوسی ایشنیں اپنے طور پر ہڑتال کی کال نہیں دے سکیں گی۔ لیکن پاکستان بار کونسل کو بھی ہڑتالیں کم سے کم اور اگر ممکن ہو سکے تو ختم کرانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ عدالتوں میں طویل عرصے سے چلنے والے مقدمات مزید تاخیر کا شکار نہ ہوں۔ بعض وکلاء کے بارے میں یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان کی ڈگریاں جعلی ہیں ممکن ہے ایسے جعلی وکلاء احتجاج اور ہڑتالوں میں پیش پیش ہوں اور بدنامی نیک نام وکلاء کے حصے میں آتی ہو اس لئے پاکستان بار کونسل کو اس جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مزید : اداریہ


loading...