عدلیہ کی شاندار روایات برقرار رکھنے کا عزم

عدلیہ کی شاندار روایات برقرار رکھنے کا عزم

لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ امتیاز احمد نے قانون کی حکمرانی کے تصور کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ہر ممکن تعاون کریں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ عدلیہ نے ماضی میں بھی قانون کی حکمرانی کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں اور مستقبل میں بھی عدلیہ کی شاندار روایات اور مثالیں برقرار رکھی جائیں۔ چیف جسٹس (ر) خواجہ امتیاز احمد نے ان خیالات کا اظہار لاہور ہائیکورٹ کے قیام کے 150سال پورے ہونے پر خصوصی تقریبات کے حوالے سے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فاضل چیف جسٹس (ر) نے عدلیہ کی شاندار روایات کو قائم رکھنے کو اس لئے ضروری قرار دیا ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کی فراہمی کے معاملے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہئے۔ قانون کی حکمرانی قائم ہونے سے ہی معاشرے میں امن، ترقی اور خوشحالی کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز میں بار بار فوجی حکومتیں قائم ہونے کی وجہ سے عدلیہ کو بہت زیاد ہ دباؤ برداشت کرنا پڑا کیونکہ فوجی آمروں نے اپنی پسند کے فیصلوں کے لئے ججوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ آمرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود عدلیہ نے کسی نہ کسی طرح عدل و انصاف خصوصاً بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کیا۔

ملکی تاریخ میں جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف نے عدلیہ کو آزادانہ طور پر کام سے روکنے کے لئے کئی حربے اختیار کئے فاضل ججوں نے قانون کی حکمرانی قائم رکھنے کے حوالے سے آمرانہ ہتھکنڈوں اور حربوں کو قبول نہیں کیا اور انصاف کے نام پر آمر حکمرانوں کی خواہشات کو پورا کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے عہدے کی قربانی دی۔ یہی وجہ ہے کہ جن جج صاحبان نے فوجی آمروں سے سمجھوتہ نہیں کیا، انہیں قوم آج بھی احترام سے یاد کرتی ہے۔ جسٹس ایم آر کیانی سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری تک بہت سے ججوں نے شاندار اور روشن مثالیں قائم کر کے عدلیہ کی تاریخ کو قابل فخر اور یادگار بنایا۔ جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کے ذریعے عدلیہ کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جن ججوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا، قوم انہیں آج بھی خراج تحسین پیش کرتی ہے اور مستقبل میں بھی ان کے جرأت مندانہ فیصلے پر انہیں سلام پیش کیا جاتا رہیگا۔ عدل و انصاف کی فراہمی بہت مشکل اور انتہائی ذمہ دارانہ فریضہ ہے، اس کی ادائیگی میں بہت سی رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی کمی، حکمرانوں اور پریشر گروپس کی مداخلت، رشوت اور بدعنوانی کی ترغیبات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسے ماحول میں ’’انصاف ‘‘ کے نعرے پر سختی سے قائم رہنا ہی عدلیہ کے بہترین کردار کو شاندار بناتا ہے۔ بلاشبہ یہ کام خوف خدا، مجاہدانہ جذبے اور صحیح معنوں میں انسانیت کی خدمت کو ترجیح دینے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ ہر قسم کی رکاوٹوں، خطرات، ترغیبات اور آزمائشوں کے ہوتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی شاندار روایات کو برقرار رکھنے کی تلقین وقت کا تقاضا بھی ہے۔ عدلیہ کی ایسی قابل فخر تاریخ ہی موجودہ حالات اور مستقبل کے معاشرتی امن، ملکی ترقی اور انفرادی و اجتماعی کردار کی بہترین ضمانت ہو سکتی ہے۔

مزید : اداریہ


loading...