آنکھوں کی ر وشنی اور بھارت کا ویزا سے انکار

آنکھوں کی ر وشنی اور بھارت کا ویزا سے انکار
آنکھوں کی ر وشنی اور بھارت کا ویزا سے انکار

  


بھارت میں برسراقتدار ہندو انتہا پسند تنظیموں کی نمائندہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے نامزد بھارتی وزیراعظم مودی انسانیت سے اتنے دور جا چکے ہیں کہ ان کو مجبور، نہتے، کشمیریوں پر ذرا بھی ترس نہیں آتا، وہ نہ صرف اپنی ظالم فوج کے ذریعے ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں بلکہ ستم پر ستم یہ ہے کہ اس ظلم کے نتیجے میں زخمی اور معذور ہونے والوں کے علاج معالجے میں اتنا بھی تعاون تک نہیں کرتے کہ ان کا سرکاری سطح پر مکمل اور توجہ سے علاج ہو، سری نگر میں ستر بار تو نماز جمعہ بھی ادا نہیں کرنے دی گئی کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت وہ دینی رسوم کی ادائیگی پر پابندی نہیں لگا سکتے، بھارتی فوج نے کشمیری نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے علاوہ چھرے والی پیلٹ گنوں بھی استعمال کیں اور انتہائی بہیمانہ طریقے سے مظاہرین کے اوپر والے دھڑکو نشانہ بنایا، نتیجہ کے طور پر ہزاروں افراد زخمی ہوئے اور کئی نوجوان طالب علم ان پیلٹ گنوں کی وجہ سے جان کی بازی بھی ہار گئے، تازہ اعداد و شمار کے مطابق کشمیر میں ان درندوں نے 1631 افراد کی آنکھوں کا نشانہ بنایا، ان میں طالب علم بچیاں اور بچے بھی شامل ہیں۔ نوجوان، خواتین اور بوڑھے بھی متاثر ہوئے ہیں، ان 1631 میں سے 105 افراد کی بینائی جاتی رہی۔ باقی افراد جو جزوی یا کچھ زیادہ متاثر ہوئے ان کے بارے میں اندازہ ہے کہ علاج سے روشنی کے حامل ہوجائیں گے جبکہ 105 میں سے بھی اکثریت روشنی کے قابل ہو سکتی ہے بشرطیکہ ان کے جدید آپریشن ہو سکیں، لیکن متعصب، حکومت اس سے بھی فرار حاصل کر رہی ہے۔ المصطفے ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل (برطانیہ) ایک رفاہی تنظیم ہے، جو صرف آنکھوں کے علاج کی مہارت رکھتی ہے اور دنیا بھر میں کیمپ لگا کر خدمت کرتی ہے، اس ٹرسٹ میں برطانوی ڈاکٹر، جدید ترین آلات اور موبائل ہسپتالوں سے لیس ہیں جن میں آپریشن تھیٹر بھی ہیں، اس تنظیم نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا، ویزوں کے لئے درخواستیں دیں اور گزارش کی کہ ٹرسٹ کی ٹیموں کو آلات سمیت مقبوضہ کشمیر جانے کے لئے ویزے دیئے جائیں تاکہ ضرورت مندوں کا درست علاج ہو اور ان مظلوم زخمیوں کی آنکھوں میں روشنی واپس آ سکے، بھارتی ہائی کمشنر نے اس درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا حالانکہ ٹرسٹ کی طرف سے یہ بھی گارنٹی دی گئی کہ ٹیموں میں شامل تکنیک کار، ڈاکٹر اور نرسوں کے ساتھ منتظمین بھی برطانوی شہری اور برطانیہ ہی کے حامل پاسپورٹ ہوں گے۔ اس کے باوجود ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کیا۔ ٹرسٹ کی طرف سے برطانوی وزیراعظم تھر یسا مے بھی اپیل کی گئی کہ وہ ویزے دلانے میں تعاون کریں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

اسی حوالے سے برطانوی دارلامرا کے رکن کشمیر نژاد لارڈ نذیر احمد ان دنوں المصطفیٰ ٹرسٹ کے سرپرست حاجی حنیف طیب اور چیئرمین ٹرسٹ عبدالرزاق ساجد کے ساتھ پاکستان کے دورے پر ہیں اور یہ حضرات یہاں اپنا موقف بیان کرکے حمائت چاہتے ہیں کہ مظلوموں کی مدد کے لئے فضا بنائی جائے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ایک پریس بریفنگ کا انتظام کیا گیا اس میں شہر کے قریباً تمام قابل ذکر کالم نویس، تجزیہ نگار، سینئر صحافی اور دانشور موجود تھے، ان میں برطانیہ سے آنے والے صحافی بھی شامل ہیں۔ لارڈ نذیر احمد نے بتایا گزشتہ چار ماہ کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مختلف اضلاع میں کشمیریوں پر پیلٹ گنوں کے ذریعے مسلسل فائرنگ کرکے ہزاروں کشمیری بچے، نوجوان، بوڑھے اور خواتین کو اندھا کر دیا گیا ہے۔ عالمی میڈیا بھی اس سنگین صورت حال کی تصدیق کر رہا ہے۔ کشمیر میں ہزاروں افراد کا بینائی کھو دینا بہت بڑا المیہ ہے۔ دردناک بات یہ ہے کہ پیلٹ بندوقوں کی فائرنگ سے بینائی کھو دینے والے افراد علاج معالجے کی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ اس افسوسناک صورت حال کو دیکھتے ہوئے آنکھوں کے مفت آپریشن کرنے کے شعبے میں عالمی سطح پر خدمات سرانجام دینے والی تنظیم المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل برطانیہ نے کشمیر جا کر بینائی سے محروم انسانوں کو روشنی بانٹنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن بھارتی حکومت ’’المصطفیٰ‘‘ کے ماہرین امراض چشم کو ویزے دینے سے انکار ی ہے۔ ’’المصطفیٰ‘‘ نے برطانوی وزیراعظم، برطانیہ میں تعینات بھارتی ہائی کمشنر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو خطوط ارسال کر دیئے ہیں۔ ان خطوط میں انسانیت کے نام پر اپیل کی گئی ہے کہ کشمیر میں بینائی کھو دینے والے انسانوں کو طبی امداد کے لئے ’’المصطفیٰ‘‘ کی ٹیم کو کشمیر جانے کی اجازت دی جائے اور اس سلسلے میں برطانیہ کے وزیراعظم، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور انسانی حقوق کے ادارے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں اور ’’المصطفیٰ‘‘ کے ماہرین امراض چشم کو کشمیر میں داخلے کا اجازت نامہ جاری کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

ہم آج لاہور کی پریس کانفرنس میں بھی ایک بار پھر اپنا یہ مطالبہ دہرا رہے ہیں کہ بھارت ’’المصطفیٰ‘‘ کی رضا کارانہ اور مخلصانہ پیشکش کا مثبت جواب دے اور آنکھوں کی روشنی سے محروم ہو جانے والے انسانوں کی بینائی بحال کرنے کا جذبہ لے کر کشمیر جانے والے ڈاکٹروں کو ویزے جاری کئے جائیں۔ ’’المصطفیٰ‘‘ کا کسی بھی طرح کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ’’المصطفیٰ‘‘ کا نصب العین رنگ، نسل اور مذہب کے امتیاز کے بغیر انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔ ’’المصطفیٰ‘‘ کے خدمت مشن میں رکاوٹیں پیدا کرنا انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ہم عالمی برادری سے بھی یہی اپیل کرتے ہیں ۔ عبدالرزاق ساجد نے کہا ’’المصطفیٰ‘‘ کا سلوگن ’’روشنی سب کے لئے‘‘ ہے۔ یہ تنظیم پچھلے کئی سالوں سے پاکستان، برما، بنگلہ دیش اور افریقہ کے ممالک میں فری آئی کیمپوں کا مشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ہم سری نگر جا کر دکھی، بیمار اور ضرورت مند انسانوں کی بے لوث خدمت کے لئے تیار ہیں۔ ’’المصطفیٰ‘‘ کے ڈاکٹروں کی ٹیم میں برطانیہ کے سینئر ماہرین امراض چشم شامل ہیں۔ اس وقت بھی پاکستان اور آزاد کشمیر میں ’’المصطفیٰ ویلفیئر ٹرسٹ انٹرنیشنل‘‘ کے فری آئی کیمپوں کی مہم 16 اکتوبر سے شروع ہے جو 19نومبر تک جاری رہے گی۔ فری آئی کیمپوں کی یہ مہم سال میں دوبار چلائی جاتی ہے۔ اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد کے آنکھوں کے مفت آپریشن کئے جا چکے ہیں۔ آئی کیمپوں میں مریضوں کے لئے رہائش اور خوراک کی ذمہ داری بھی ٹرست کے سپرد ہوتی ہے۔ ’’المصطفیٰ‘‘ واحد ادارہ ہے جو آئی کیمپوں کے دوران ڈاکٹروں کی فیس اور لینز کی قیمت وصول نہیں کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم آنکھوں کے مفت علاج اور آپریشن کے خدمت مشن کا دائرہ مقبوضہ کشمیر تک پھیلانا چاہتے ہیں۔ اس کام کے لئے ہماری تیاری مکمل ہے۔ ہم ویزوں اور اجازت نامے کے منتظر ہیں۔

لارڈ نذیر احمد نے اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی حکومتی سطح پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر کے شہریوں پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کی کوشش پوری طرح اور منظم طور پر طریق کار کے مطابق نہیں کی گئی۔ تاہم انہوں نے حکومت پاکستان کی طرف سے بیرونی ممالک میں وفود بھجوانے کے عمل کی تعریف کی اور بتایا کہ بعض وفود نے محنت بھی کی لیکن یہ ایک تسلسل نہیں بن پایا اور مختلف وفود کا انداز بھی اپنا اپنا تھا، بہتر ہوگا کہ پاکستان ایک کل وقتی وزیر خارجہ مقرر کرے اور ایک تسلسل کے ساتھ دینا بھر میں جا کر پاکستان اور کشمیر کا کیس پیش کرے ۔ لارڈ نذیر کے ساتھ ڈائیلاگ اور سوال و جواب کا بھی سلسلہ ہوا اس میں انہوں نے برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے دورہ بھارت پر بھی بات کی، ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کے دوران تھریسامے اور بھارتی وزیراعظم مودی دونوں کی کوشش ہوگی کہ وہ کچھ معاہدے کرکے اپنا نام بلند کر سکیں، معاہدے ہو سکتے ہیں۔ اعلان کیا جا سکتا ہے لیکن برطانوی قانون کے مطابق عمل درآمد کے لئے برطانوی پارلیمنٹ(دارالعوام+ دارالامرا) کی توثیق لازمی ہے اور ہم ایوان میں ان کی مخالفت کریں گے۔

مزید : کالم


loading...