ابصار عبدالعلی ایک لوِنگ لیجنڈ!

ابصار عبدالعلی ایک لوِنگ لیجنڈ!
ابصار عبدالعلی ایک لوِنگ لیجنڈ!

  


ممتاز ادیب، شاعر، براڈ کاسٹر، پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی دَور کے مقبول عوام و خواص خوش شکل، خوش آواز، نیوز کاسٹر، صحافی، مُدیر، تجزیہ کار اور کمپیئر ابصار عبدالعلی میرے عزیز و قدیم دوستوں میں سے ہیں۔صحیح معنوں میں ایسے دوستوں میں سے، جن کے لئے کہا گیا ہے:

دوست آں باشد کہ گِیرد دستِ دوست

در پریشاں حالی و دَر ماندگی!

اگرچہ ابھی تک آزمائش کا کوئی ایسا مرحلہ میری زندگی میں نہیں آیا کہ ’’دوست‘‘ کو مندرجہ بالا شعر کی روشنی میں پرکھ سکتا مگر وہ ایک مُدت تک اس طرح میرے کام آتے رہے کہ ماڈل ٹاؤن میں قیام کے دوران روزانہ وہ اپنی فوکس ویگن گاڑی میں(جسے مَیں صابن دانی کہتا تھا) مجھے میرے گھر سے لیتے اور ریگل تک شرفِ ہمسفری بخشتے اور اورباتوں باتوں میں دُنیا جہان کے قصے ہوتے۔ یُوں اُنہیں جاننے، سمجھنے بوجھنے میں خاصی آسانی رہی۔ وہ مجھے ریگل چوک پر اُتارتے اور وہاں سے اپنے دفتر کی راہ لیتے اور مَیں کسی بھی سواری کا سہارا لے کر بیرونِ بھاٹی گیٹ سرکلر روڈ پر اپنے دفتر پنجاب بک ڈپو پہنچتا، جس کے مرکزی دامن میں ماہنامہ ’’ادبِ لطیف‘‘ کا دفتر تھا، جس کا مَیں1966ء سے 1980ء تک بلا شرکتے غیرے ہمہ مقتدر مُدیر رہا۔ یُوں ابصار عبدالعلی سے رسم و راہِ دوستانہ اُستوار ہوئی۔ ’’برادرانہ‘‘ اِس لئے نہیں لکھ رہا کہ فی زمانہ مولانا حالی کی زبان میں:

دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

اور بھائی بھی وہ جنھیں ’’برادرِ یوسف‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔۔۔!

والدین اور دیگر بہت سے اعزاء و اقربا کے ماڈل ٹاؤن میں قیام کے سبب میں تو گویا جدی پُشتی ماڈل ٹاؤنی تھا۔ ابصار عبدالعلی لکھنؤ سے براہِ راست1959ء میں پاکستان میں لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں وارد ہوئے اور پھر جلد ہی ایشیا کی عظیم و منفرد بستی ماڈل ٹاؤن میں منتقل ہو گئے اور پھر لاہور کے ہی ہو کر رہ گئے، بقولِ خود:

اپنی دھرتی سے رہے پیوستہ

چھوڑ کر ماں کو نہ جانا سیکھے

ہمارا ایک دوسرے سے تعارف نجانے کیوں اور کیسے ہُوا؟ اس زمانے میں وہ پاکستان ٹیلی ویژن پر نک سُک سے دُرست ہو کر اُردو خبریں پڑھتے تھے اور مَیں ریڈیو لاہور سے شام کا نیوز بلٹین پڑھتا تھا۔’’اب آپ ناصِر زیدی سے لاہور کی خبریں سُنیئے‘‘۔۔۔ اس نئی شناخت کے باوصف شاعر، ادیب،مُدیر تو پہلے ہی سے تھا۔ اسی دُوران چشتیاں میں ایک مشاعرے میں شریک ہُوا۔ غزل سنانے اسٹیج پر آباد تو سامعین میں سے ایک آواز آئی’’اب آپ ناصِر زیدی سے لاہور کی خبریں سُنیئے‘‘ بس اُسی دن واپس لاہور پہنچتے پہنچتے فیصلہ کیا کہ آئندہ خبریں نہیں پڑھنی۔ اور اپنے شاعر ہونے کی شناخت برقرار رکھنی ہے یا پھر مَیں بھی تابش دہلوی ہو جاتا کہ وہ خبریں پڑھتے ہوئے کہا کرتے تھے ’’اب آپ مسعود تابش سے خبریں سنیئے‘‘۔ یُوں گویا نیوز کا سٹر مسعود تابش الگ تھے اور شاعر تابش دہلوی الگ اپنی شناخت محفوظ رکھتے تھے۔ہم نے سوچا اس کِکھیڑ میں پڑیں ہی کیوں؟ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری، خبریں پڑھنا چھوڑ دیں اور ریڈیو ٹی وی کے ہر ہر شعبے میں کام کیا۔ اناؤنسر، کمپیئر اور خصوصاً پی ٹی وی کے مشاعروں کے نظامت کار کے طور پر برسوں چھوٹی سکرین پر چھایا رہا۔۔۔!

ذکرِ خَیر تھا یارِ عزیز ابصار عبدالعلی کا مگر اپنی یاد نگاری کے سلسلے میں کہاں سے کہاں نکل گیا؟ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔۔۔ ابصار عبدالعلی نے بھی یہی سب کچھ کیا وہ تو لکھنؤ سے بنے بنائے مُدیر آئے تھے۔ اُن کی مُدیرانہ صلاحیتوں سے پاکستان میں بھی کام لیا گیا۔ وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے لکھنؤ میں ’’قومی آواز‘‘ سے وابستہ ہو کر صحافت کے میدانِ خارزار میں قدم جما چکے تھے،اور بچوں کے بعض رسائل میں ادارتی معاونت کا تجربہ بھی رکھتے تھے چنانچہ نیوز کاسٹر ہونے کے ساتھ ساتھ روزنامہ ’’امروز‘‘ میں ’’دیکھی سُنی‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنا اور محکمۂ سوشل ویلفیئر میں افسری کے دوران ماہنامہ جریدے ’’بہبود‘‘ کا اجراء اور اس کی ادارت سنبھال کر لکھنے والوں کو اعزازیہ دلوانا اُن کے ادباء و شعراء کی مالی بہبود کا خیال رکھنے کا عملی اقدام تھا۔ ہاں یہ بتانا بھول گیا کہ لکھنؤ میں دوسروں کے رسائل و جرائد میں مُدیرانہ ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے ابصار کے وزن پر اپنا ذاتی رسالہ ’’سرشار‘‘ بھی جاری کیا جو ظاہر ہے کہ امتدادِ زمانہ کی نذر ہونا تھا سو ہُوا۔

لاہور میں ’’بہبود‘‘ کی مدتوں ادارت کے بعد محکمۂ زکوٰۃ کا نقیب ’’پیامِ زکوٰۃ‘‘ بھی مرتب کرتے رہے۔ ٹی وی کے خوش شکل اور اچھی آواز کے حامل نیوز کاسٹر نے ریڈیو پر مسلسل ساڑھے بائیس سال محترمہ یاسمین طاہر کی نگرانی میں ایک مقبول پروگرام’’کلام آپ کا انتخاب ہمارا‘‘ پیش کیا ہم اُن دِنوں اسلام آبادمیں ’’اسپیچ رائٹر ٹو دی پرائم منسٹرز‘‘ کی حیثیت سے ڈیرے ڈالے رہے۔ ایک بار لاہور آنا ہُوا تو ابصار عبدالعلی نے اور محترمہ یاسمین طاہر نے مائیک پر لا بٹھایا۔ یُوں ’’کلام آپ کا انتخاب ہمارا‘‘ میں ہم بھی منتخبِ روزگار ٹھہرے۔

ابصار عبدالعلی کی ’’صابن دانی‘‘ میں ہمسفری کا طویل دورانیہ اُس وقت اختتام پذیر ہُوا جب وہ شادی شدہ ہو کر ماڈل ٹاؤن سے ریگل چوک کے قرب و جوار میں یعنی مال روڈ پر قیام پذیر ہو گئے۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کے گھر کی طرح وہاں اُس گھر کو بھی سبزہ زار بنانے کے لئے پھول پودوں، گملوں سے سجا، بنا کر آراستہ و پیراستہ کئے رکھا۔ میرا وہاں بھی اکثر آنا جانا رہا، مَیں نے مشاہدہ کیا کہ وہ اچار، آئس کریم، جوس اور کوئی ایسی چیز کھانے پینے سے گھبراتے تھے جس سے اُن کا گلہ خراب ہونے کا امکان ہو۔ اُنھیں خبریں پڑھنا اور وہ بھی اُردو کے صحیح مخرج کے ساتھ خبریں پڑھنا بہت عزیز تھا۔ نزلہ، زکام، کھانسی کے ڈر سے ٹھنڈے پانی سے مُنہ ہاتھ دھونے اور نہانے سے بھی کتراتے تھے۔ عموماً تولیہ گرم پانی سے گِیلا کر کے مُنہ اور گردن تک کی ڈرائی کلیننگ کرلیتے۔ اِس مشاہدے کو مَیں نے اُن پر لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں استعمال کر لیا کہ ’’ابصار عبدالعلی نہانے سے گُریز کرتے ہیں‘‘،بس پھر کیا تھا، اللہ دے اور بندہ لے۔ بقول شفقت کاظمی:

کتنے افسانے اس کے بنے کاظمی

بات کہنے کو تھی مختصر آپ کی

میرے مرحوم دوست مقبول جہانگیر نے روزنامہ ’’امروز‘‘میں اپنے روزانہ کے فکاہی کالم ’’حرف و حکایت‘‘ میں پورا کالم باندھا، لبِ لباب یہ تھا کہ ’’ناصِر زیدی کو کیسے پتا کہ ابصار عبدالعلی روز نہیں نہاتے‘‘؟۔۔۔ یوں اصل بات میں اضافہ در اضافہ ہو کر درفنطنیاں نجانے کہاں تک پہنچیں اور پہنچائی گئیں۔

ابصار عبدالعلی کی موجودہ مصروفیات میں حمید نظامی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائرکٹر شپ اور ہمدرد کی مجلس شوریٰ لاہور کا ڈپٹی سپیکر ہونا قابلِ ذکر ہے۔ تصنیف و تالیف کا سلسلہ اب کم کم ہے کہ وہ بیسیوں کتابیں اپنے شجرۂ ادب کی فہرست میں رکھتے ہیں ان میں بچوں کا ادب بھی کثیر تعداد میں ہے ’’کیسے کیسے لوگ‘‘ اور ’’شہ رگ‘‘ اُن کے ڈراموں کے مشہور مجموعے ہیں بچوں کے لئے لکھی گئی متعدد تصانیف میں ’’خالی ہاتھ‘‘ اور ’’سارا جہاں ہمارا‘‘ نمایاں ہیں کہ ’’سارا جہاں ہمارا‘‘ اور’’خالی ہاتھ‘‘ کو پاکستان رائٹرز گلڈ کے توسط سے یونائیٹڈ بینک ادبی انعام سے بھی نوازا گیا۔ نرسری کے بچوں کے لئے نظموں کی کتاب جو فیروز سنز لاہور سے شائع ہوئی وہ ’’بتاشے‘‘ کے عنوان سے ابصار عبدالعلی کی مقبول کاوش ہے۔ ’’چینی نانی کی میٹھی کہانیاں‘‘ اور ’’گانے والا گدھا‘‘ بھی ان کی بچوں کی نثری کاوش کا شاہکار ہے کہ اس کا تعارف انتظار حسین نے لکھا ہے مختصر یہ کہ ابصار عبدالعلی عہدِ موجود کے ایک لیجنڈ قلمکار، فنکار ہیں۔ اور کیا لکھوں؟ تھوڑے لکھے کوفی الحال زیادہ جانا جائے کہ کالم کو آخر ختم بھی تو کرنا ہے۔

مزید : کالم


loading...