قائد اعظمؒ کا وژن اور ایک کنفیوژڈ مصنف

قائد اعظمؒ کا وژن اور ایک کنفیوژڈ مصنف
قائد اعظمؒ کا وژن اور ایک کنفیوژڈ مصنف

  


’’قائد اعظمؒ بحیثیت گورنر جنرل‘‘ ۔۔۔ محترم مصنف نے اپنی کتاب میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ’’پوری دیانت داری اور غیر جانبداری کے ساتھ تحریک پاکستان کے سیاسی، معاشی اور مذہبی محرکات اور قائد اعظمؒ کی ذاتی سیاسی زندگی اور ان کے خطبات کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں ان کے تصورات پیش کردیئے ہیں‘‘۔میں اس مصنف کی دیانت داری یا بد دیانتی کے بارے میں تو کوئی رائے دینا مناسب خیال نہیں کرتا،لیکن مجھے ان کے اس تجزیے سے ہر گز اتفاق نہیں کہ قائد اعظمؒ کے مورخین اور تبصرہ نگاروں کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ وہ سیکولر ریاست قائم کرنا چاہتے تھے، جبکہ اقلیت کی نظر میں وہ اسلامی ریاست کے قیام کے حامی تھے۔ مورخین اور مصنفین ملت کے پاسبان اور نظریۂ پاکستان کے ترجمان قائد اعظمؒ کو کس بنیاد پر سیکولر سوچ کا حامل قرار دے سکتے ہیں؟ جن کا یہ فرمان ہے کہ ’’پاکستان سے صرف حریت اور آزادی مراد نہیں، بلکہ اس سے فی الحقیقت مسلم آئیڈیالوجی کا تحفظ مقصود ہے‘‘۔۔۔ جس عظیم لیڈر اور مرد مومن کا یہ ارشاد ہو کہ ’’میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا راز ان سنہرے اصولوں کے اتباع میں ہے، جنہیں ہمارے مقننِ اعظم حضور نبی کریمؐ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیاد حقیقی اسلامی نظریات اور اصولوں پر رکھنی چاہیے‘‘۔کیا یہ نظریہ کسی سیکولر ریاست کے حامی کا ہو سکتا ہے؟ 1945ء میں مسلمانوں کو پیغام عید دیتے ہوئے جب قائد اعظم نے یہ فرمایا تھا:’’ اس حقیقت سے سوائے جہلا کے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی ضابطۂ زندگی ہے جو معاشرت، مذہب، تجارت، عدالت، فوجی امور، دیوانی، فوجداری اور تعزیرات کے ضوابط کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔ مذہبی تقریبات ہوں یا روزمرہ کے معمولات، روح کی نجات کا سوال ہویا بدن کی صفائی کا، اجتماعی حقوق کا سوال ہو یا انفرادی ذمہ داریوں کا، عام اختلاقیات ہوں یا جرائم کے معاملات، دنیاوی سزا کا سوال ہو یا آخرت کے مواخذے کا۔۔۔ ان سب کے لئے قرآن میں قوانین موجود ہیں، اسی لئے نبی کریمؐ نے حکم دیا تھا کہ ہر مسلمان قرآن کریم کا نسخہ اپنے پاس رکھے اور اس طرح آپ اپنا مذہبی پیشوا بن جائے‘‘۔

قائد اعظمؒ کے صرف اس ایک پیغام ہی کو اگر سمجھ لیا جائے اور دینی اور دنیاوی زندگی میں قرآن کو اپنا امام اور راہبر تسلیم کرلیا جائے تو کیا پھر کوئی ایک بھی صاحب بصیرت شخص قائد اعظمؒ کے اس عقیدہ و ایمان پر شبہ کر سکتا ہے کہ وہ اسلام کو ایک مکمل ضابطۂ حیات نہیں سمجھتے تھے۔ قائد اعظمؒ اگر سیکولر ریاست کے حمایتی تھے تو پھر ایک سادہ سا سوال ہے کہ قائد اعظم ہر مسلمان تک رسول کریمؐ کا یہ حکم نامہ کیوں پہنچا رہے تھے کہ قرآن مسلمانوں کا بنیادی ضابطۂ حیات ہے اور ہر مسلمان اپنی رہنمائی کے لئے قرآن کریم کا ایک نسخہ اپنے پاس رکھے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ قائد اعظمؒ نے اپنے پیغام عید میں کن حضرات کے لئے جہلا کا قدرے سخت لفظ استعمال کیا ہے۔ یہ وہی حضرات ہیں جو قائد اعظمؒ پر یہ بہتانِ عظیم عائد کرتے ہوئے خوفِ خدا محسوس نہیں کرتے کہ قائد اعظمؒ سیاست اور ریاست کے امور کو مذہب سے الگ رکھنا چاہتے تھے۔ قائد اعظمؒ کے زیر قیادت تحریک پاکستان ایک خالص اسلامی تحریک تھی۔ تحریک پاکستان کا سارا منظر نامہ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کے روح پرور اور ایمان افروز نعروں سے جگمگاتا ہوا نظر آتا ہے۔ تحریک پاکستان کا طرۂ امتیاز ہی اسلام تھا۔۔۔ آئیے اسلام اور پاکستان کے رشتے کے حوالے سے قائد اعظمؒ کے ایک فرمان سے رہنمائی لیتے ہیں۔ انہوں نے ارشاد کیا تھا: ’’پاکستان اسی دن وجود میں آگیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے، جب یہاں مسلمانوں کی حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔ مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید ہے، وطن نہیں اور نہ ہی نسل۔ہندوستان کا جب پہلا فرد مسلمان ہوا تو وہ پہلی قوم کا فرد نہیں رہا۔ وہ ایک جداگانہ قوم کا فرد ہوگیااور ہندوستان میں ایک نئی قوم و جود میں آگئی‘‘۔ قائد اعظمؒ کے ارشاد کے مطابق مسلم قومیت کی بنیاد کلمہ توحیدہے، جبکہ قیام پاکستان کی بنیاد مسلم قومیت ہے۔ یہ کتنا مضحکہ خیز نقطۂ نظر ہے کہ پاکستان قائم تو اسلام کے فیض سے ہوا، لیکن پاکستان کی سیاست اور حکمرانی کا رشتہ اسلام کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔(جاری ہے)

قائد اعظمؒ نے خود مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کو اسلام کا بنیادی مطالبہ قرار دیا تھا۔ ان کا ارشاد تھا: ’’آپ غور کریں کہ پاکستان کے مطالبے کا جذبۂ محرکہ کیا تھا؟مسلمانوں کے لئے ایک جداگانہ مملکت کی وجۂ جواز کیا تھی؟ تقسیم ہند کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ نہ ہندوؤں کی تنگ نظری ہے، نہ انگریزوں کی چال۔ یہ اسلام کا بنیادی مطالبہ تھا‘‘۔ یعنی پاکستان کا طلب گار خود اسلام تھا۔ پاکستان اسلام کی ڈیمانڈ تھا۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان حاصل تو اسلام کے نام پر کیا گیا تھا، مگر پاکستان کا تعلق ہرگز اسلام سے باقی نہیں رہنا چاہیے تو یہ کس قدر احمقانہ اور پاگل پن کی بات ہوگی۔ جنرل ایوب خاں کے اقتدار کے زمانے میں جب 1962ء کا آئین بننے کے مراحل میں تھا تو اس دور کے ایک مشہور مسیحی لیڈر جو شوا فضل الدین نے ایک پمفلٹ تحریر کیا ، جس کا عنوان تھا ’’آئین پاکستان کی منطقی بنیاد‘‘۔ اس پمفلٹ میں جوشوا فضل الدین نے یہ موقف پیش کیا تھا کہ مملکت پاکستان کے دو بنیادی ستون ہیں۔ پہلا ستون یہ ہے کہ مملکت پاکستان کی بنیاد مذہب پر ہوگی۔یہی وہ بنیاد ہے، جس پر مشرقی اور مغربی پاکستان کی وحدت قائم رہ سکتی ہے۔ دوسرا ستون اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ جوشوا فضل الدین نے مزید کہا کہ ’’ قائد اعظمؒ کی 11اگست 1947ء کی تقریر سے یہ مطلب اخذ کرنا کہ قائد اعظم،ؒ جو بانی پاکستان ہیں، انہوں نے کوئی ایسی بات کہہ دی تھی جس سے وہ بنیاد ہی ڈھادی گئی جس پر مملکت پاکستان کی عمارت کھڑی کی گئی تھی۔ قائد اعظمؒ کی اس تقریر سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ ایک سیکولر حکومت کا انداز اختیار کرنا چاہتے تھے، بہت بڑی غلطی ہے۔ قائد اعظمؒ نے صرف یہ کہا تھا کہ بلا تفریق مذہب و ملت سب کو مساوی حقوق شہریت حاصل ہوں گے ‘‘۔ غور فرمائیں ایک عیسائی سیاست دان کی دانائی پر اور سیکولر طبقے کی اس ڈھٹائی پر کہ وہ قائد اعظمؒ کی گیارہ اگست کی تقریر کو سیکولر ازم قرار دیتے ہیں۔جو شوا فضل الدین کے اس پمفلٹ اور قائد اعظمؒ کی 22نومبر 1945ء کو پشاور میں تقریر میں گہری مماثلت ہے۔ قائد اعظمؒ نے فرمایا تھا کہ ’’مسلمان ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں، ایک قرآن پر ایمان رکھتے ہیں اور ایک پیغمبرؐ کے ماننے والے ہیں۔ مسلم لیگ کی یہ کوشش ہے کہ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اسلام کے سبز ہلالی پرچم تلے متحد ہو جائیں۔ مسلمان پاکستان چاہتے ہیں، جس کا مطلب ہے مسلمان اکثریت والے صوبوں میں مسلمانوں کی حکومت اور اقلیتوں کے حقوق کی نگہداشت۔ ہمارا مذہب، ہماری تاریخ اور ہماری روایات غیر مسلموں کے سیاسی، مذہبی اور ثقافتی حقوق کے تحفظ کی سب مذاہب سے زیادہ ضمانت دیتی ہیں‘‘۔

قائد اعظمؒ کی اس تقریر میں بھی مملکت پاکستان کے دو بنیادی ستونوں کی وضاحت کی گئی۔ اسلام کے جھنڈے کے سائے تلے مسلمان قوم کو متحد کر کے حصولِ پاکستان کی جدوجہد۔ پاکستان میں مسلمانوں کی حکومت اور دینِ اسلام کی روایات پر عمل کرتے ہوئے غیر مسلموں کے سیاسی، مذہبی اور ثقافتی حقوق کی حفاظت۔ پھر قائد اعظمؒ نے یہ وضاحت بھی فرمادی کہ اسلام سے زیادہ دوسرا کوئی مذہب غیر مسلموں کے حقوق کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ قائد اعظمؒ کے نزدیک غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سیکولر ازم کی نہیں، بلکہ اسلامی روایات پر عمل کی ضرورت تھی۔ قائد اعظمؒ نے اپنی اسی تقریر میں کہا کہ ہمارے مذہب، ہماری تہذیب و تمدن اور ہمارے اسلامی نظریے میں وہ بے پناہ طاقت ہے جو آخر کار ہمیں آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرے گی۔ قائد اعظمؒ نے اپنے اس خطاب میں تقریباً تین بار اسلام،اسلامی نظریے، مسلمانوں کی الگ تہذیب و تمدن اور اسلامی حکومت کا ذکر کیا اور اتنی مرتبہ ہی اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ سلوک اور فیاضانہ برتاؤ کرنے کی بات کی۔ غیر مسلموں کے ساتھ جہاں بھی مثالی سلوک کا انہوں نے ذکر کیا تو اس کے لئے انہوں نے مسلم تاریخ کا حوالہ دیا۔ قائد اعظمؒ نے اپنے گیارہ اگست کے خطاب میں بھی غیر مسلم اقلیتوں کو یہ یقین دلایا تھا کہ ان کو مساوی شہری حقوق حاصل ہوں گے اور ریاست شہری حقوق کے حوالے سے مذہب اور قوم کی بنیاد پر تفریق نہیں کرے گی۔ قائد اعظمؒ نے غیر مسلموں کے ساتھ روا داری اور حسن سلوک سے پیش آنے کے حوالے سے اپنے 14اگست 1947ء کے خطاب میں یہ بھی واضح کردیا کہ اس سلسلے میں ان کے لئے رول ماڈل پیغمبرؐ اسلام ہیں، جنہوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ اس وقت بہترین سلوک کا مظاہرہ کیا جب یہ دونوں قومیں مغلوب اور مفتوح تھیں۔ جب غیر مسلموں کے ساتھ فیاضی کے ساتھ پیش آنے کے لئے حوالہ سنتِ رسولؐ کا دیا گیا ہو تو پھر سیکولر ازم کہاں سے وارد ہوگیا؟

’’قائد اعظمؒ بحیثیت گورنر جنرل‘‘ کے مصنف عجیب طرح کی بدحواسی اور ذہنی الجھن میں مبتلا ہیں۔ وہ کتاب کے صفحہ 105پر تحریر کرتے ہیں کہ ’’قائد اعظمؒ مسلمانوں کے عظیم رہنما تھے۔ انہوں نے اپنے خطبات میں اسلام، قرآن اور حضور اکرمؐ کی عظمت کا اقرار کیا۔ ان کو اس معاملے میں کوئی شک نہیں تھا کہ پاکستان میں چونکہ مسلمان اکثریت میں ہوں گے، لہٰذا ریاست کی قانون سازی قرآن اور سنت کے مطابق ہی ہوگی‘‘۔ پھر اسی صفحے پر محترم مصنف کا یہ نقطۂ نظر ان کے ذہنی انتشار کا کھلا ثبوت ہے کہ ’’قائد اعظم نے اگرچہ کبھی سیکولر کا لفظ استعمال نہیں کیا، البتہ ان کی زبردست خواہش تھی کہ مذہب کو سیاست اور ریاست الگ رکھا جائے۔ ریاست شہریوں پر اسلام نافذ نہ کرے‘‘۔۔۔ ایک طرف مصنف یہ کہہ رہے ہیں کہ قائد اعظمؒ کو اس معاملے میں کوئی شبہ نہیں تھا کہ پاکستان میں قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہوگی۔ دوسری طرف وہ لکھتے ہیں کہ قائد اعظمؒ سیاست اور ریاست سے مذہب کو الگ رکھنے کی زبر دست خواہش رکھتے ہیں۔ ذہن میں فکری انتشار ہو تو خیالات میں تضاد پیدا ہونا ایک فطری نتیجہ ہے۔ یہ مصنف ایک اخبار میں کالم بھی لکھتے ہیں۔ 17۔ستمبر2016ء کو وہ اپنے کالم میں تحریرکرتے ہیں کہ ’’قائد اعظمؒ کا وژن بڑا واضح تھا کہ سیاست کومذہب سے الگ رکھا جائے‘‘۔ان کے 22اکتوبر 2016ء کے کالم کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ’’قرآنی نظام کی بنیاد جزا اور سزا پر رکھی گئی ہے۔ پاکستان کا آئین قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں کے مطابق ترتیب دیا گیاہے۔ حکمران اشرافیہ کا اسلامی، اخلاقی اور آئین فریضہ ہے کہ وہ ریاست کو آئین کے مطابق چلائے‘‘۔ کتاب کی طرح ان کے کالموں میں بھی فکری انتشار موجود ہے۔ کبھی وہ حکمرانوں کو ان کے اسلامی فرائض یاد دِلا رہے ہیں اور ان پر قرآن و سنت کے بنیادی اصولوں پر عمل کرنے کے لئے زور دے رہے ہیں۔ کبھی وہ لکھتے ہیں کہ مذہب کا سیاست میں شامل کیا جانا درست نہیں۔

اپنے ایک اور کالم میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ ’’پاکستان کا آئین تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی ادارے قرآن و سنت کی روح کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیں۔ عدل و انصاف کے بارے میں اسلام کا اصول بڑا واضح ہے‘‘۔ پھر وہ عدل و انصاف کے موضوع پر قرآنی احکامات اور سیرتِ رسولؐ سے حوالے پیش کرتے ہیں۔ ان کے اس عمل کی ہم بھی تحسین کرتے ہیں، مگر جب وہ قائد اعظمؒ پر یہ ’’الزام‘‘ عائد کرتے ہیں کہ وہ مذہب، یعنی اسلام اورریاست کو الگ الگ رکھنا چاہتے تھے تو ہمیں حیرت اور افسوس ہوتا ہے کہ وہ قائد اعظمؒ کے تصور پاکستان کو سمجھ ہی نہیں پائے۔ قائد اعظمؒ کے بارے میں یہ لکھنا کہ انہوں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں مذہب کو ہمیشہ سیاست سے الگ تھلگ رکھا، حقیقت اور صداقت کے صریحاً خلاف ہے۔ قیام پاکستان کی ساری جدوجہد ایک ہمہ گیرنظریاتی تحریک تھی، جس کی بنیاد ہی اسلامی نظریہ تھا۔ کیا کوئی معمولی عقل رکھنے والا شخص بھی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ قائد اعظمؒ کی حصولِ پاکستان کے لئے جدوجہد ایک سیکولر ریاست کے لئے تھی۔ قائد اعظمؒ نے اسلامی نظریۂ حیات کے لئے ایک بیش قیمت عطیے اور خزانے کے لفاظ استعمال کئے تھے۔ قائد اعظمؒ نے مسلمان قوم کی طرف سے پاکستان کے مطالبے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مسلمانوں کے لئے ایک آزاد خطے کا حصول اس مقصد کی خاطر چاہتے ہیں کہ ہم وہاں آزادی کے ساتھ اپنے ضابطۂ حیات،اپنی تمدنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت قائم کرسکیں۔ قائد اعظمؒ اسلام کو انسانی مساوات، انصاف اور ہر ایک کے ساتھ رواداری کا ضامن قرار دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی اصولوں کا عملی زندگی پر آج بھی ویسے ہی اطلاق ممکن ہے، جس طرح تیرہ سو سال پہلے ہوا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی مستقبل میں جو دستور بنائے گی، وہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل ہوگااور جمہوری نوعیت کا ہوگا۔

قائد اعظمؒ نے اسلامی حکومت کو قرآن کے اصولوں اور احکام کی حکمرانی کا نام دیا تھا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہماری سیاست و معاشرت قرآن کے احکام کی پابند ہوگی۔ قائد اعظمؒ اسلام کو صرف مذہبی اصولوں تک محدود نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ان کا وژن یہ تھا کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اگر قائد اعظمؒ کا یہ مقصود ہوتا کہ مذہب اور سیاست الگ الگ ہیں تووہ اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کیوں قرار دیتے تھے؟قائد اعظمؒ نے باقاعدہ طور پر سیاست اور معاشیات کے شعبوں کا حوالہ دے کر یہ فرمایا تھا کہ مسلمان نہ صرف ان شعبوں میں، بلکہ دیگر امور و معاملات میں بھی اسلامی ضابطہ حیات سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ قائد اعظمؒ نے پاکستان کو اسلام کی پشت پناہ اور قلعہ قرار دیا تھا۔ پھر بھی اگر کوئی شخص یہ لکھ ڈالے کہ قائد اعظمؒ مذہب کو سیاست میں شامل کرنے کے مخالف تھے تو ہمارے پاس اس شخص کے ذہنی افلاس اور فکری خلفشار پر اظہار افسوس کے سوا دوسرا کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ایک معاملہ اظہار افسوس سے بھی آگے کا ہے۔ کنفیوژڈ مصنف اپنی کتاب کے صفحہ 106پر رقم طراز ہیں کہ ’’ قائد اعظمؒ کے تصور پاکستان کا فیصلہ ان کی تقریروں کی بجائے ان کی ذاتی و سیاسی زندگی اور ان کے فیصلوں اور اقدامات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے‘‘۔

ہمارے نزدیک قائد اعظمؒ کی تقاریر اور ان کے اقدامات میں کوئی تضاد نہیں تھا۔یہ لکھنا کہ قائد اعظمؒ کی تقریروں کی بنیاد پر ان کے تصورِ پاکستان کا فیصلہ نہ کیا جائے،اس کا مطلب یہ ہے کہ قائد اعظمؒ کا تصور پاکستان ان کی اپنی ہی تقاریر سے مختلف تھا۔ یہ تو قائد اعظمؒ کی عظمتِ کردار اور دیانت پر حملہ ہے کہ ان کا تصور پاکستان کچھ اور تھا اور ان کی تقاریر کچھ اور تھیں۔ ایسا بیہودہ الزام تو تحریک پاکستان کے دور میں قائد اعظمؒ کے کسی بد ترین سیاسی مخالف نے بھی قائد اعظمؒ کی ذات پر نہیں لگایا تھا۔ قائد اعظمؒ کی مدلل اور موثر تقاریر اور استدلال کی طاقت ہی قیام پاکستان کی جنگ میں مسلمان قوم کے وہ ہتھیار تھے جن کا مقابلہ نہ انگریز کی عیاری اور نہ ہی ہندوسیاست دانوں کی مکرو فریب پر مبنی سیاست کرسکی۔ قائد اعظمؒ کے کردار کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل یہی تھی کہ ان کی گفتار اور عمل میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہ مسلمان قوم کے تنہا ترجمان تھے۔ حق گوئی اور بیباکی ان کی تقاریر کا اصل جوہر تھا۔ وہ جو کہتے وہی ان کا مطلب ہوتا، کیونکہ ان کی زبان ان کے دل کی رفیق تھی۔ قائد اعظمؒ کا تصور پاکستان بھی وہی تھا جو انہوں نے انگریزوں اور کانگرس کے سامنے اپنی تقاریر، انٹرویوز اور اخباری بیانات یا تحریری پیغامات کی صورت میں پیش کیا۔ ہمارے خیال میں اگر کوئی شخص عقل سے مکمل طور پر محروم نہیں ہو چکا تو وہ قائد اعظمؒ کی پوری سیاسی زندگی کے ایک طرز عمل یا تقریر کے حوالے سے منافقت کا الزام عائد نہیں کرسکتا۔ میری دانست میں اس بیہودگی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کہ قائد اعظمؒ کی تقاریر کو ان کے تصور پاکستان سے مختلف یا متضاد قرار دیا جائے۔

مزید : کالم


loading...