پانامہ کیس، سیاسی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ہے

پانامہ کیس، سیاسی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ہے
 پانامہ کیس، سیاسی تاریخ کا اہم ترین مقدمہ ہے

  


ہاکستان کی عدلیہ بھی آجکل ایک امتحان سے گزر رہی ہے۔ پانامہ کیس میں جہاں سپریم کورٹ کو تمام قانونی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے انصاف کرنا ہے وہاں سپریم کورٹ کو اس کیس میں عوامی توقعات پر بھی پورا اترنا ہے۔اگر ایسا انصاف ہوا جسے عوام نے قبول نہ کیا تو بھی عدلیہ کے لئے مشکل ہو گی اور اگر ایسا انصاف ہوا جس میں قانونی تقاضے پورے نہ کئے گئے تو بھی عدلیہ کے فیصلہ کا وقار مجروح ہونے کا خدشہ ہو گا۔ سیاسی مقدمات میں عدلیہ کو یہ مشکل رہتی ہے جب اس کے فیصلوں کو صرف قانونی ہی نہیں عوامی توقعات کے پیرائے میں بھی تولا اور نا پا جا تا ہے۔اسے عرف عام میں یہ بھی کہا جا تا ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہئے بلکہ انصاف ہوتا نظر بھی آنا چاہئے۔ اگر عوام یہ سمجھیں کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو ئے تو اس انصاف کو عوامی قبولیت نہیں ملتی۔

اس ضمن میں بھٹو کے فیصلے کی مثال سب کے سامنے ہے۔ اسمبلیوں کے ٹوٹنے اور ان کو بحال کرنے اور بحال نہ کرنے کے مقدمات بھی سب کے سامنے ہیں۔جسٹس نسیم حسن شاہ نے جب میاں نواز شریف کی حکومت بحال کی تب بھی اس کو چمک کا کمال قرار دیا گیا اور جب جسٹس سجاد علی شاہ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت بحال نہیں کی تب بھی اس کو ذاتی عداوت قرار دیا گیا۔ سیاستدانوں پر کرپشن اور دیگر بد عنوانیوں کے مقدمات شامل ہیں۔ آصف زرداری کو مختلف مقدمات میں بری کرنا بھی اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اسی طرح مختاراں مائی کا مقدمہ بھی اس ضمن میں ایک مثال ہے۔ پوری دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ مختاراں مائی کے ساتھ زیادتی ہوئی اور اس کو ریپ کیا گیا۔ لیکن جب لاہو ر ہائی کورٹ کے جسٹس چودھری اعجاز نے مختاراں مائی پر ریپ کے مبینہ ملزمان کو بری کر دیا اور یہ قرار دے دیا کہ کوئی ریپ یا زیادتی نہیں ہوئی تو ملک میں ایک کہرام مچ گیا۔ پورا میڈیا پریشان ہو گیا۔ جبکہ جسٹس اعجاز چوھری صاحب کا موقف تھا کہ انہوں نے تمام قانونی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کیا۔ یہ ان کا مسئلہ نہیں ہے کہ عوامی رائے عامہ اس فیصلے کے حق میں ہے کہ نہیں۔ انہوں نے انصاف کیا۔ میڈیا میں شور ، این جی اوز کی چیخ و پکار نے اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو مختاراں مائی سے ملاقات پر مجبور کر دیا۔ اور انہوں نے حکومتی اختیارات کے تحت ان ملزمان کی رہائی رکوا دی۔ حالانکہ لاہور ہائی کورٹ انہیں باعزت بری کر چکی تھی۔ اس کے بعد سرکارکی مکمل سرپرستی میں مختاراں مائی کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ اس اپیل کیو جہ سے وہ ملزمان کئی سال مزید جیل میں رہے لیکن پھر سپریم کورٹ نے بھی مختاراں مائی کی اپیل خارج کر دی۔

میں نے مختاراں مائی کے کیس کا اس لئے حوالہ دیا ہے کہ مختاراں مائی کے کیس کو عالمی پذیرائی ملی۔ مختاراں مائی کے ساتھ زیادتی ہوئی اسی لئے اسے اقوام متحدہ اور دیگر بین الا قوامی فورمز پر خطاب کی دعوت دی گئی۔ حالانکہ قانون کی نظر میں مختاراں مائی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو ئی تھی۔ میں اب بھی کنفیوژ ہوں کہ وہ ملزمان پاکستان کی تمام اعلیٰ عدالتوں سے بری ہونے کے باوجود بھی شاید اپنے ارد گرد کے لوگوں کو یہ یقین نہیں دلا سکے ہو نگے کہ وہ بے قصور تھے۔

اسی طرح سپریم کورٹ کو پانامہ کے مقدمہ کی سماعت کے دوران بہت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ محترم جج صاحبان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ انہیں تو یہ معلوم ہے کہ ریمارکس کوئی فیصلہ نہیں ہو تے بلکہ دوران سماعت جج کی رائے ہے جو حتمی نہیں ہوتی۔ لیکن جج صاحبان کو یہ سمجھنا ہو گا کہ عوام اس باریک فرق کو نہیں سمجھتی بلکہ عوام جج صاحبان کے ریمارکس کو ہی فیصلہ مانتے ہیں۔

اب تک کی سماعت کے دوران جج صاحبان کے جو ریمارکس میڈیا میں آئے ہیں ان سے یہ تاثر مل رہا ہے جیسے جج صاحبان میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ اس ضمن میں سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی مثال سب سے بہترین ہے۔ وہ دوران سماعت ریمارکس دینے کے بہت عادی تھے۔ بلکہ ایک عام تاثر یہی ہے کہ ان کے ریمارکس زیادہ سخت ہوتے تھے جبکہ ان کے فیصلے اتنے سخت نہیں ہو تے تھے۔ اسی لئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ریمارکس اور فیصلوں میں فرق نے ہی جناب افتخار چودھری کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جس کا انہیں آج سامنا ہے۔

اس لئے پانامہ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو اپنی اور عدلیہ کی ساکھ کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ اس لئے وہ کم سے کم ریمارکس دینے کی پالیسی کو اپنائیں۔ ورنہ میڈیا کو یہ ہدایت جاری کریں کہ وہ عدالت میں ہونیو الی کاروائی کو تو میڈیا میں رپورٹ کرے لیکن دوران سماعت دئے جانے والے ریمارکس کو رپورٹ نہ کیا جائے۔ کیونکہ مکمل چپ رہ کر بھی سماعت کو آگے بڑھانا ممکن نہیں۔ تا ہم سلطان راہی والے ریمارکس دینے کی بھی ضرورت نہیں۔ جج صاحبان کی کوشش ہو نی چاہئے کہ وہ عوامی کی بجائے قانونی زبان میں بات کریں تا کہ بات قانون تک ہی محدود رہے۔ عوام ان کے ریمارکس سے ان کا ذہن پڑھنے کی کوشش نہ کریں۔

کیونکہ عدلیہ کو یہ بات سامنے رکھنا ہو گی کہ وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک بڑا اہم مقدمہ سن رہے ہیں۔ وہ جس بھی فریق کے خلاف فیصلہ دیں گے اس نے ان کو اور ان کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ متاثرہ فریق خاموش ہو جائے کیونکہ اگر وہ خاموش ہو جائے گا تو اس کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ اگر عمران خان پانامہ کا کیس ہار جاتے ہیں تو وہ عدلیہ کا وہی حال کر یں گے جو وہ اس سے پہلے مخالفین کا کرتے رہے ہیں۔ اور اگر میاں نواز شریف کے خلاف فیصلہ ہو گیا تو وہ بھی اس کو سیاسی طور پر استعمال کریں گے۔ اس لئے عدلیہ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا۔ کیونکہ عدلیہ کسی سیاسی بحران کا شکار ہو جائے ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

مزید : کالم


loading...