کشمیر۔۔۔صائبِ فکر بھارتیوں کا مثبت رد عمل

کشمیر۔۔۔صائبِ فکر بھارتیوں کا مثبت رد عمل
کشمیر۔۔۔صائبِ فکر بھارتیوں کا مثبت رد عمل

  


مسئلہ کشمیر، نہ تو دو فریقی مسئلہ ہے، نہ ہی یہ دوملکوں پاکستان اور بھارت کے مابین کوئی علاقائی تنازعہ ہے۔ یہ سہ فریقی مسئلہ ہے کشمیری اس کے اصل فریق ہیں۔ بھارت غاصب ہے، پاکستان کشمیریوں کا وکیل ہے۔ یہ دو ملکوں کے مابین کسی خطۂ زمین جیسے سر کریک، سیاچن وغیرہ کی طرح کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہ کروڑوں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کا مسئلہ ہے، افسوس کہ ماضی کی کئی حکومتوں نے بھارت کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے اسے دو ممالک کے تنازعے تک محدود کردیا ہے۔۔۔ میں نہیں سمجھتا کہ اگر اس مسئلے پر اقوام متحدہ کی قرار دادیں ’’ فرسودہ‘‘ اور دور ازکار قرار دی جاسکتی ہیں تو پھر تاشقند معاہدہ، شملہ معاہدہ وغیرہ کیوں فرسودہ قرار نہیں دیئے جاسکتے کیونکہ ان معاہدوں کے تحت دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے لئے ایک انچ بھی پیش رفت نہیں ہو سکی نہ ہی بھارت نے کبھی سنجیدگی سے دو طرفہ مذاکرات کو کوئی اہمیت دی ہے۔ تو پھر ان حالات میں کاغذ کے ان پرزوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟

گزشتہ چار ماہ سے کشمیر میں سو سے زائد جانیں چلی گئی ہیں۔ پندرہ ہزار سے زائد عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔ جن میں سے ساڑھے چار ہزار شدید زخمی ہیں۔ اور کم و بیش سات ہزار عام شہری راہ میں گولیوں سے زخمی ہوئے ہیں، آٹھ سے دس ہزار تک کشمیریوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا لگا کر گرفتار کیا گیا ہے۔ چار سو، ساڑھے چار سو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید ہیں۔ یہ اعدادوشمار 30اکتوبر 2016ء تک کے ہیں اور بھارت کی ایک ویب سائٹ پر سول سوسائٹی نے جاری کئے ہیں۔ یہ ویب سائٹ ایک کرسچین بھارتی کی ہے، بھارت میں مسلمان، دلت،سکھ اور عیسائی سب اقلیتیں مظلوم ہیں، اس لئے اس ویب سائٹ کا ایڈیٹر بینو میتھیو بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی حمایت کرتا رہتا ہے۔

بینو میتھیو سے مجھے جیکسن ہائٹس نیو یارک کا بھارتی کرسچین وکیل اسٹیسنلے کا لاتھارا یاد آتا ہے، کالاتھارا نے سٹی کونسل کا الیکشن لڑنا چاہا۔ ایک دن مجھے فون کیا اور کہا کہ بھارت سے تعلق ہے لیکن میں بھی بھارتی مسلمانوں کی طرح مظلوم طبقے سے تعلق رکھتا ہوں کیا آپ میری مدد کریں گے؟بھارتی ہندو ہوں یا بھارتی ہندو سیاست دان، کشمیر کو کوئی مسئلہ ہی نہیں سمجھتے ہیں۔ وہ یا تو سارے کشمیریوں کو علیحدگی پسند قرار دے کر مار دینے کی سفارش کرتے ہیں یا پھر رعایت کریں تو یہ کہیں گے کہ حکومت کشمیریوں کے مسائل پر توجہ دے۔ انہیں نوکریاں دی جائیں، تعلیم کے حصول کے لئے انہیں داخلے دیئے جائیں۔ اور اگر ہوسکے تو پہلے انہیں مارا جائے پھر انہیں معاوضہ دیا جائے۔ ان کے بیٹوں کے عوض انہیں بھاری رقوم دی جائیں اور خوش کردیا جائے۔ ان کو چھروں سے اندھا کر کے ان کی بینائی کی قیمت ادا کردی جائے، ان کی بہنوں ،بیٹیوں ،ماؤں کی عزتیں برباد کر کے بھارتی کرنسی سے ان کے منہ بند کر دیئے جائیں۔ آزادی کے لئے اُٹھنے والی آوازوں کو بھارتی روپے کی چمک سے دبا دیا جائے، بھارت میں کشمیر سے ہمدردی جتانے والوں کی ایک بڑی اکثریت کشمیریوں سے ایسی ہمدردی کا تقاضا کرتے پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو صرف بھارتی بندوقوں میں استعمال ہونے والے چھروں کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان چھروں سے کچھ زیادہ چوٹ لگتی ہے۔ اس لئے کچھ نرم قسم کے چھرے استعمال کئے جائیں یا شاید پھر گولیاں استعمال کی جائیں تاکہ مرنے والے مرجائیں لیکن آنکھیں اندھی ہونے سے بچ جائیں۔

بھارت کے مظلوم طبقے کشمیریوں کے درد کو سمجھتے ہیں اور ان طبقات کے معدودے چند ہندو بھی۔ بھارتی سول سوسائٹی کے نام سے بینو میتھیو کی ویب سائٹ پر ایسے ہی لوگوں نے ایک پر زور اپیل کی ہے اور کشمیریوں کے اصل مسئلے یعنی آزادی کی طلب کو جائز قرار دیا ہے۔ اور بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اِدھر اُدھر کی باتیں اور پاکستان پر الزامات لگانے کی بجائے کشمیریوں سے ان کی آزادی کے مطالبے پر بات کی جائے۔ اس کے علاوہ کشمیر کا اور کوئی حل نہیں ہے۔ اس اپیل پر دستخط کرنے والوں نے اس امر کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا ہے کہ کشمیر میں آزادی کی جدوجہد کی حالیہ لہراٹھتے ہی بھارتی حکومت نے سب سے پہلا کام یہ کیا ہے کہ ’’کرفیو‘‘نافذ کردیا ہے، میڈیا کو خاموش کردیا گیا ہے، کتنے ہی مقامی کشمیری اخبارات کے دفاتر پر چھاپے مارے گئے اور اخبار کی کاپیاں ضبط کرلی گئیں۔ ان اخبارات کے مدیروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ رپورٹنگ کرنے والوں پر حملے کئے گئے ۔ صحافیوں کو پناہ دینے یا مدد کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور حال ہی میں سری نگر سے شائع ہونے والے روز نامے ’’کشمیر ریڈر‘‘ کو بند کردیا گیا۔ یہی نہیں، پوری ریاست میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی، کشمیر سے باہر کشمیریوں کے حق میں اُٹھنے والی سوشل میڈیا کی آوازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گویا خبروں اور اطلاعات کو کشمیر کے اندر آنے دیا جاتا ہے، نہ کشمیر سے باہر جانے دیا جاتا ہے، اس پر ستم بالائے ستم، کہ اشیائے ضروریہ کی سپلائی بھی بلاک کردی گئی۔ باہر سے خوراک اور دوائیں نہیں آسکتیں اور کشمیر کا پھل باہر نہیں جاسکتا۔ انگوروں کے باغ گل سڑ گئے ہیں۔اپیل کنند گان کا کہنا ہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ، فوجیوں کو حاصل خصوصی اور لا محدود اختیارات (AFSPA) ڈسٹربڈ ایریاایکٹ (DAA)سارے کالے قوانین ہیں۔ اور ان کے ہوتے ہوئے مسئلے کا حل نہیں نکل سکتا۔۔۔ کوئی کشمیریوں کے حق آزادی کو تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن کوئی معقول شخص ان قوانین کی حمایت نہیں کرسکتا۔

سول سوسائٹی کے ان نمائندوں کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اس سلسلے میں نہایت گھناؤنا کردار ادا کررہا ہے۔ یہ میڈیا بھارتی حکومت اور سیاست دانوں کی طرح جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے۔ اور اگر یہ پراپیگنڈہ کا میاب ہے تو یہ بھارتی سول سوسائٹی کی ناکامی کی علامت ہے۔ دستخط کنند کان نے قارئین ،حقوق انسانی کی تنظیموں اور صائب فکر رکھنے والے بھارتیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’’کشمیر کے محاصرے‘‘ کے خلاف آواز اٹھائیں۔کشمیر کی موجودہ صورت حال میں ایسے سنجیدہ ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جو کشمیریوں کی اس ’’مانگ‘‘ کو تسلیم کرے، جو سترسال سے جاری ہے۔ اگر کشمیریوں کے مطالبے کو نظر انداز کر کے کوئی حل تلاش کیا جائے گا تو ستر سال سے ہونے والی ناکامی سے ہر گز مختلف نہیں ہوگا۔ کشمیریوں کا اصل مطالبہ آزادی ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ یا دو فریقی مسئلہ نہیں ہے۔ بھارتی حکومت اس سلسلے میں خواہ کوئی سا موقف رکھتی ہو، کشمیریوں کا ایک ہی مطالبہ ہے’’آزادی‘‘ اور صرف آزادی اس لئے ایسی فضا کی تیاری کی ضرورت ہے جس میں کشمیریوں کے اس مطالبے پر اصل فریق یعنی کشمیریوں کے ساتھ مثبت بات چیت ہو۔

بھارتی سول سوسائٹی کے ان صائب فکر خواتین و حضرات نے اس سلسلے میں سات مطالبات بھی پیش کئے ہیں۔ (1)فوری طور پر کرفیو ختم کر کے کشمیریوں کے خلاف پر تشدد کارروائیوں کو بند کیا جائے۔ (2)سیاسی مذاکرات کے لئے ایسی راہ ہموار کی جائے جس کے تحت مکمل آزادی (خود مختاری) حاصل ہو جیسی کشمیر کو 1953ء سے پہلے حاصل تھی۔ اور خاص طور پر استصواب رائے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ (3)کشمیری میڈیا پر کریک ڈاؤن بند کیا جائے۔ (4) حقوق انسانی کے سرگرم کارکنوں اور عام شہریوں کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیں اور جنہیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا ہے انہیں آزاد کیا جائے۔ (5)حقوقِ انسانی کی پامالی کی تحقیقات کے لئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کو بلا روک ٹوک اور مکمل رسائی دی جائے۔ (6)بھارت اور پاکستان کے مابین کنٹرول لائن پر فوجوں کی تعداد کم کی جائے۔کشمیر سے بھارتی فوج نکالی جائے اوربھارت کی طرف سے کشمیر میں نافذ کالے قوانین AFSPA ،PSA اور DAA کوختم کیا جائے۔ (7) کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے احتساب کے لئے ایک میکنزم وضع کیا جائے۔ گویا بین الاقوامی کریمینل کمیشن قائم کر کے گزشتہ تین دہائیوں سے ہونے والی پامالی کا احتساب۔ یہ کمیشن ماورائے عدالت قتل، تشدد، قید و بندجنسی حملوں، لوگوں کی بھاری تعداد کو گم کرنے اور اجتماعی قبروں کے معاملات کی غیر جانب دارانہ اور آزادانہ چھان بین کرے۔اس اپیل پر کاؤنٹر کرنٹ کے ایڈیٹر بینو میتھیو سمیت ایک سو بہتر(172)دستخط ہیں، جن میں آٹھ دس مسلمان باقی عیسائی اور ہندو ہیں۔

ان افراد کے علاوہ تیرہ اداروں نے بھی اس اپیل کی حمایت کی ہے۔ جن میں جریدہ آغاز، آل انڈیا سیکولر فورم، ساؤتھ ایشیا سالیڈیرٹی گروپ کی طرف سے امریتاولسن، باستر سالیڈیرٹی نیٹ ورک، سینٹر فار ڈیویلپمنٹ ریسرچ اینڈ ایکشن، سینٹر فارسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم ممبئی،فیم پازیٹو(Fem Positive) ، فورم اگینسٹ اوپر یشن آف ویمن، LABIAایل بی ٹی کی مشترکہ تنظیم ممبئی، ریڈیکل سٹڈی سرکل (Tiss) ، رہائی منچ لکھنؤ، سہیلی دہلی(خواتین کی تنظیم) اور ٹامل ناڈو ویمن فورم شامل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس آئینے میں وہ لوگ اپنا چہرہ دیکھ لیں جنہیں ایک دن کی آنسوگیس کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے زیادہ بڑا ظلم محسوس ہوئی۔ اور ان بھارتیوں کی کشمیریوں کی حمایت کی میزان پر اپنے اس بیان کو بھی تول لیں جو شرما شرمی دیا گیا اور وہ بھی محض اتنا کہ عمران خان کی قیادت میں ہمارا بچہ بچہ کشمیریوں کے ساتھ ہے۔

مزید : کالم


loading...