گیس وارفیئر: چند تاثرات!(1)

گیس وارفیئر: چند تاثرات!(1)
گیس وارفیئر: چند تاثرات!(1)

  


گزشتہ کالم میں لاہور اور پاکستان کے دوسرے کئی شہروں پر چھائی ہوئی دھند کا ذکر کیا گیا تھا اور قارئین کی خدمت میں فاگ (Fog) اور سماگ (Smog) کے معانی اور نیز اس کے مضر اور منفی استعمال کے سلسلے میں بھی چند ایک معروضات پیش کر کے گیس وارفیئر کا حوالہ دیا تھا۔ کئی دوستوں نے ٹیلی فون کر کے پوچھا کہ یہ گیس وارفیئر کیا چیز ہے، اس پر مزید روشنی ڈالیں۔

اس موضوع پر بات آگے بڑھانے سے پہلے میں جو ایک سادہ سا اصول قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج تک انسان نے جنگ و جدل کے جتنے بھی طریقے اور اسلحہ جات استعمال اور ایجاد کئے ہیں وہ کسی نہ کسی ضرورت کا جواب تھے۔ چنانچہ پہلا سوال یہ ہوگا کہ ا نسان کو گیس وارفیئر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا مروجہ ہتھیار اور سلاحِ جنگ کافی نہ تھے کہ انسان نے گیس کا رخ کیا؟۔۔۔ جی ہاں اس سوال کا جواب یہی ہے کہ انسان کی ہوسِ جنگ نے اسے گیس کے استعمال کا آئیڈیا سجھایا۔ حریف کو مارنا اور خود زندہ رہنا، انسان کی جبلت میں ودیعت کر دیا گیا ہے، اس لئے ہم نے ساری تاریخِ جنگ میں یہی پڑھا ہے کہ انسان، انسان کو مارنے کے لئے نت نئے طریقے اور ہتھیار ایجاد کرتا رہا ہے، کرتا رہتا ہے اور کرتارہے گا۔ اس جبلت پر اگرچہ اگست 1945ء کے جوہری حملے نے بندش لگا دی تھی لیکن پھر بھی یہ انسانی جبلت اس کی مجبوری بنی رہی۔ ویسے تو نیو کلیئر وارفیئر کی تباہی کا سکوپ اتنا وسیع و عریض ہے کہ اس کے بعد کسی نئے طریقۂ جنگ کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا لیکن ہم آئے روز یہ تماشا دیکھتے ہیں کہ انسان، قتلِ انسان سے باز نہیں آتا۔ جوہری دہلیز تک پہنچ جانے کے بعد اب انسان ایک بار پھر پیچھے کی طرف بھاگنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گیس وارفیئر جو آج سے ٹھیک ایک صدی اور جوہری دھماکے سے 30 سال پہلے آزمائی گئی، وہ نیوکلیئر وار فیئر کا پیش خیمہ تھی۔ اس حوالے سے دیکھیں تو گیس وارفیئر کو ایک منی (Mini) نیو کلیئر وار فیئر بھی کہا جا سکتا ہے۔

ہوا یہ تھا کہ جب یورپ میں اگست 1914ء میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تھی تو اس کا آغاز معمول کی ایک جنگ کی طرح ہوا تھا۔ اس وقت کسی کو بھی خبر نہ تھی کہ یہ چار سال تک طول کھینچ جائے گی اور اس میں لاکھوں انسان لقمۂ اجل بن جائیں گے۔ چونکہ اس میں ہلاکت اور بربادی کا سکیل بہت گریٹ تھا اس لئے اسے ’’گریٹ وار‘‘ کا نام دیا گیا۔ 1945ء سے پہلے اور 1918ء کے بعد جتنی بھی تواریخِ جنگ لکھی گئیں اس میں 1914ء سے لے کر 1918ء تک کی اس جنگ کو ’’گریٹ وار‘‘ ہی لکھا جاتا رہا۔ یہ تو جب دوسری بار یہ جنگ گریٹ سے گریٹر (Greater) ہو گئی اور چار کی بجائے چھ برسوں تک پھیل گئی اور لاکھوں کی بجائے کروڑوں انسان موت کی نیند سلا دیئے گئے تو پہلی بڑی (Great) جنگ نے جنگ عظیم اول اور اس دوسری عظیم تر (Greater) جنگ نے جنگ عظیم دوم نام پایا۔۔۔ اب اگر تیسری جنگ ہوئی اور اس کا دورانیہ چھ سال سے بھی بڑھ گیا اور ہلاکت انگیزی بھی گزشتہ سارے ریکارڈ توڑ گئی تو اس کا نام شائد عظیم ترین (Greatest) عالمی جنگ یا تیسری عالمی جنگ رکھا جائے۔۔۔ تاہم ماہرین جنگ اس بات پر متفق ہیں کہ اس تیسری بڑی جنگ کو ’’قیامت‘‘ سے منسوب کرنا پڑے گا۔ اور اگر بفرض محال انسان اس میں بھی بچ نکلا تو پھر اسے شائد قیامتِ صغریٰ کا نام دے اور آنے والی چوتھی عالمی جنگ کو قیامت کبریٰ یا اصل قیامت سے موسوم کرے۔۔۔ لیکن یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس قیامت کبریٰ سے اگر انسان کی کوئی نسل باقی بچی تو تبھی نام دینے کی نوبت آئے گی ناں۔۔۔ آنے والے کل کا حال تو خداوندِ کریم کو ہی معلوم ہے۔۔۔ 1945ء میں دوسری عالمی جنگ ختم ہونے کے بعد اگر آج تک 70 برسوں (1945ء تا 2015ء) میں مختلف ممالک کے درمیان جو علاقائی جنگیں ہو چکی ہیں، ان کی بربادی کا مجموعی حساب لگایا جائے تو اس 70 سالہ دور کو بھی ایک ’’آہستہ رو دورِ قیامتِ صغریٰ‘‘ سے یاد کیا جا سکتا ہے اور وہ جو ہزاروں جوہری بم اور میزائل وغیرہ انسان نے جمع کر رکھے ہیں، ان کو جب یکبارگی استعمال کیا گیا تو اس کو دنیا کی آخری جنگ (The Last war) کا نام دیا جائے گا۔ خیال یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس نام کو Coin کرنے والے وہ چند سو انسان ہوں گے جو کرۂ ارض سے نکل کر دوسرے سیاروں میں بس رہے، ہوں گے!۔۔۔ اللہ بس باقی ہوس!!

ہم گیس وارفیئر کا ذکر کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس طرزِ جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی۔۔۔ ہوا یہ تھا کہ اگرچہ 20 ویں صدی کے پہلے عشرے میں ہوائی جہاز اور ٹینک ایجاد ہو چکے تھے لیکن ان کوہنوز کسی جنگ میں استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ جنگجو اقوام کے پاس لے دے کر صرف ایک ہی بھاری ہتھیار تھا جسے ’’توپ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اور توپخانہ چونکہ میدان جنگ کی پچھلی صفوں میں ڈیپلائے کیا جاتا ہے اس لئے اگلے مورچوں میں میدانِ کار زار میں لڑنے والی سپاہ کے پاس رائفل، گرنیڈ اور مشین گن ہی وہ تین ہتھیار تھے جو اختتامِ جنگ تک (1918ء تک) برقرار رہے اور استعمال ہوتے رہے۔ اسی دوران انسان نے گیس وارفیئر کا تجربہ بھی کیا جو اتنا مہنگا ثابت ہوا کہ اسے ترک کرنا پڑا۔۔۔ لیکن اس تجربے کی ضرورت کیوں پڑی، یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔

جب اگست 1914ء میں یہ پہلی عالمی جنگ یا گریٹ وار شروع ہوئی تو اس کا سارا فوکس یورپ میں فرانس اور جرمنی پر تھا۔ جرمنی اور فرانس آپس میں جنم جنم کے اُسی طرح کے دشمن تھے جیسے آج پاکستان اور بھارت ہیں۔ دونوں کے درمیان صدیوں سے جنگیں جاری تھیں۔ جن میں کبھی فرانس کو فتح حاصل ہوتی اور کبھی جرمنی کو۔ ان باہمی جنگوں میں انسانی ہلاکتوں کی شرح اتنی حیرت انگیز ہے کہ اس کا مقابلہ اگر اسلامی جنگوں (صلیبی جنگوں کو شامل کر کے)سے کریں تو کفر و اسلام کے تمام مجموعی معرکے ان کے سامنے ہیچ نظر آئیں گے۔ 20 ویں صدی کا آغاز ہوا تو اقوامِ یورپ کی باہمی دشمنیاں اس قدر بڑھ گئیں اور ان اقوام نے اپنے پاس اس دور کے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے اتنے ذخائر جمع کر لئے کہ ان کو ’’ہضم کرنا‘‘ مشکل نظر آنے لگا۔ برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، آسٹریا اور اٹلی اس جنگ عظیم کے بڑے بڑے شرکا شمار ہوتے ہیں۔ اور چونکہ ان سارے یورپی ممالک نے ایشیاء اور افریقہ میں اپنی اپنی کالونیاں بنا رکھی تھیں اس لئے جب یورپ میں یہ جنگ شروع ہوئی تو اس کا محاذ صرف یورپ (بالخصوص فرانس اور جرمنی) ہی رہا اور ایشیا اور افریقہ میں اس محاذ کی توسیع برائے نام رہی۔ لیکن یہ کالونیاں پھر بھی ازراہِ مجبوری اس جنگ میں اپنے اپنے ’’آقاؤں‘‘ کے ساتھ شریک جنگ رہیں۔۔۔۔ ہمارا ہندوستان بھی ان میں سے ایک تھا۔۔۔ برٹش انڈین آرمی ایک کثیر التعداد آرمی تھی اس لئے جب جنگ شروع ہوئی تو ہندوستان سے ہزاروں کی تعداد میں ٹروپس یورپ بھیجے گئے۔ ان میں بعض نے عراق، فلسطین اور افریقہ کا رخ بھی کیا جہاں مقابلتاً کم گرم محاذ، مصروفِ پیکار تھے۔ یورپ کے محاذوں کو مغربی محاذ بھی کہا جاتا ہے۔ جنگ عظیم اول زیادہ تر فرانس کے ان علاقوں میں لڑی گئی جو میدانی تھے، زرخیز تھے اور ان میں رہنے والی آبادیاں گنجان تھیں۔ ایپرس (Ypres)، سوم (Somme) اور فلینڈرز (Flanders) کے محاذ وہ محاذ تھے جن میں ایک ایک ہفتے میں بارہ بارہ، چودہ چودہ لاکھ ٹروپس لقمہ اجل بنتے رہے۔ ایک طرف فرانس، برطانیہ اور امریکہ تھے (امریکہ 1917ء میں شامل ہوا) اور دوسری طرف جرمنی، آسٹریا اور ہنگری تھے۔ ہر روز لاکھوں سپاہی ہلاک ہو رہے تھے اور لاکھوں کو قیدی بنایا جا رہا تھا۔ توپ، مشین گن اور رائفل کے علاوہ ایک چوتھا ہتھیار بھی متعارف ہوا جس کو ’’خاردار تار‘‘ کا نام دیا گیا!چونکہ اس جنگ میں نہ ٹینک تھا، نہ ہوائی جہاز اس لئے طرفین نے خندقیں کھود لیں۔ یہ خندقیں (Trenches) سینکڑوں میلوں پر پھیلی ہوئی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس جنگ کو اول اول، خندقی جنگ کا نام بھی دیا گیا۔

خندقوں کے آگے خار زار تاروں کا جال بچھا دیا گیا۔ طرفین کی کھدی ہوئی خندقوں کے درمیان چند گز کا فاصلہ باقی چھوڑا گیا جس کو No Man Land کہا جاتا ہے۔ ٹروپس خندقوں میں بیٹھ گئے جو سات سے دس فٹ تک گہری تھیں۔ ان میں راشن، پانی اور گولہ بارود جمع کر لیا گیا، خندقوں کی منڈیروں پر مشین گنیں نصب کر دی گئیں اور سپاہیوں کے سروں پر فولادی ٹوپیاں (Steel Helmets) چڑھا دی گئیں۔ گاہے گاہے مختلف مقامات پر طرفین کے ٹروپس سر باہر نکالتے، فائر کرتے اور پھر خاموشی چھا جاتی۔ ان خندقوں کے پیچھے طرفین کا توپ خانہ موجود رہتا جو دشمن پر گولہ باری کرتا۔ لیکن یہ گولہ باری زیادہ موثر نہ تھی۔ ایک تو کوئی گولہ جب تک عین خندق کے اندر آکر نہ گرتا زیادہ جانی نقصان نہ ہوتا اور دوسرے خندقوں کے اوپر اوور ہیڈ چھتیں (Covers) ڈال دی گئی تھیں جو قریباً بم پروف تھیں اور جن پر توپ کا گولہ زیادہ موثر نہیں ہوتا تھا۔ فائرنگ عموماً دن کے وقت ہوتی، رات پڑتی تو لڑائی بند ہو جاتی۔

اس کیفیت میں طرفین کو خندقوں میں بیٹھے بیٹھے کئی مہینے (بلکہ سال) گزر گئے۔ اس عالم میں مورچہ زن ٹروپس کی حالتِ زار پر اس جنگ پر لکھی جانے والی سینکڑوں کتابوں/ تاریخوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان خندقوں کے اندر بیٹھ کر لڑنے والی سپاہ کو کن کن نا قابلِ بیان مشکلات کا سامنا تھا۔

ایک تو فرانس کی سرزمین (Flanders) کا واٹر لیول صرف چار پانچ فٹ تھا، دوسرے ٹروپس کو رفع حاجات کے لئے خندقوں سے باہر جانے کے مواقع نہیں تھے۔ رات کو اگر کوئی باہر جاتا تھا تو سرچ لائٹوں کی زد میں آکر دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن جاتا۔ اس لئے بیشتر ٹروپس خندقوں کے اندر ہی ’’سب کچھ‘‘ کر لیا کرتے تھے۔ ان علاقوں میں بارشیں عام ہوتی ہیں۔ خندقوں میں پانی بھر جانے کا ’’انتظام‘‘ تو تھا، نکاسی آب کا کوئی انتظام نہ تھا۔ گولہ بارود اور راشن کو خشک رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا۔ علاوہ ازیں اس حد درجہ آلودہ اور بدبو دار ماحول میں رہ رہ کر ٹروپس کو مختلف قسم کی بیماریوں نے آن گھیرا ۔

یہ حالات تھے جن میں طرفین نے سوچنا شروع کیا کہ اس ساکن جنگ کو کس طرح متحرک کیا جائے۔ اس خندقی جنگ نے تو میدانِ جنگ کی حرکیت (Mobility) چونکہ ختم کر کے رکھ دی تھی اس لئے کوئی فیصلہ کن لڑائی لڑنے کا چانس ہی باقی نہ بچا۔۔۔ جنگ کے اس تعطل (Stalemate) کو توڑنے کی سبیلوں پر دن رات غور ہونے لگا تھا۔۔۔ یہی وہ وقت اور یہی وہ صورتِ حال تھی جس میں ’’گیس وار فیئر‘‘ کا خیال ڈویلپ ہوا۔ یہ گویا جنگ کا تعطل توڑنے اور اسے کسی منطقی انجام تک پہنچانے کی ایک نئی صورت تھی۔ (جاری ہے)

مزید : کالم


loading...