دھرنے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 30 ستمبر سے حکمت عملی کا آغازکیا

دھرنے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 30 ستمبر سے حکمت عملی کا آغازکیا

ا سلام آباد (آئی این پی) پی ٹی آئی کے 2 نومبر کے دھرنے سے نمٹنے کے حوالے سے حکومتی فیصلوں اور اقدامات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ، تحریک انصاف کے 2 نومبر کے دھرنے سے نمٹنے کیلئے حکومت نے عمران خان کے 30 ستمبر کے ا علان کے ساتھ ہی حکمت عملی بنانا شروع کر دی تھی‘ وزیر اعظم کی زیر صدارت کئی اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس ہوئے ‘ غور و خوض کے بعد وزیر داخلہ کو تمام ذمہ داریاں سونپی گئیں ، اجلاسوں میں بعض رہنماؤں نے دھرنے کے شرکاء کو اسلام آباد آنے کی تجاویز دیں‘ چوہدری نثار نے سخت مخالفت کرتے ہوئے 2014ء کی تاریخ نہ دہرانے کا عزم کیا اور ایک مربوط اور جامع حکمت عملی مرتب کی جو پہلے یوتھ کنونشن اور پھر دھرنے کو ناممکن بنانے میں کلیدی ثابت ہوئی ‘ حکومت نے پہلے ہی سے عمران خان اور شیخ رشید کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تاہم ان کی گرفتاری کیلئے وزیر داخلہ کوانتہائی دباؤ کا سامنا رہا اور بعض رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہوں اور دیگر رہنماؤں کوہر صورت گرفتار کیاجائے جسے چوہدری نثار نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا‘ یوتھ کنونشن نہ ہونے دینے اور پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کی گرفتاری پر ایک وزیر مملکت سمیت بعض رہنماؤں نے بھی تحفظات کااظہار کیا،پنجاب انتظامیہ کو وزیر داخلہ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کی خصوصی ہدایت کی گئی ‘ایک موقع پر ایف سی اور پولیس کے پاس آنسو گیس کے شیل ختم ہو گئے جس پر انہیں پیچھے ہٹنے کی تاکید کی گئی ‘وزیر اعظم کی جانب سے چوہدری نثار کو کامیاب حکمت عملی اپنانے پر ستائش کی گئی ‘ تمام فیصلوں میں وزیرا عظم کے ساتھ ساتھ وزیر داخلہ کو اسحاق ڈار اور سعد رفیق کی مکمل تائیدو حمایت حاصل رہی۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے 2 نومبر کو ناکام بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے منعقد کئے گئے مختلف اجلاسوں میں مشاورت اور حکمت عملی طے کرنے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے 30 ستمبر کو عمران خان کی جانب سے دھرنے کے اعلان کے ساتھ ہی اس سے نمٹنے کیلئے مشاورت اور حکمت عملی طے کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ عمران خان کے اعلان کے اگلے روز ہی وزیر اعظم نواز شریف نے اعلیٰ سطحی اجلاس بلا لیا جس میں ساری ممکنہ صورتحال کے حوالے سے تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور وفاقی و زیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے خصوصی طور پر مشاورت کی گئی جسکے بعد دھرنے سے نمٹنے کیلئے تمام تر ٹاسک چوہدری نثار علی خان کو سونپ دیا گیا جنہوں نے اپنی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اس دوران کئی نازک مراحل بھی آئے اور مشاورتی عمل میں کئی مرتبہ بعض رہنماؤں نے یہ تجویز دی کہ تحریک انصاف کے دھرنے کے شرکاء کو اسلام آباد آنے دیا جائے اور پھر انہیں منتشر کر دیا جائے تاہم وفاقی وزیر داخلہ نے اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم 2014ء کی تاریخ دھرانے نہیں دیں گے او راس وعدہ خلافی کے بعد یہ ممکن نہیں رہا کہ ہم تحریک انصاف کے مظاہرین کو اسلام آباد آنے دیں۔ ذرائع کے مطابق تمام حکومتی بند کمرہ اجلاسوں میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے وزیر داخلہ کے موقف کی بھرپور تائید و حمایت کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب انتظامیہ کا ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں وفاقی وزراء کے علاوہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف‘ چیف سیکرٹری پنجاب ‘ آئی جی اور دیگر نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں واضح طو رپر ہدایت کی کہ وفاقی وزیر داخلہ جو بھی حکم دیں اس پر من و عن عمل کیا جائے اور پنجاب کے کسی بھی علاقے میں لوگوں کا اجتماع نہ بننے دیا جائے۔ پی ٹی آئی اے کے مقامی رہنماؤں و کارکنوں کی فہرستیں مرتب کی جائیں اور جس کے بعد اسی طرح کی ہی حکمت عملی اپنائی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے کئی رہنما روپوش ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق بعض اضلاع کے ڈی پی اوز نمبر بڑھانے کے چکر میں زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ایسا کچھ بھی کرنے سے سختی سے منع کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ای الیون میں پی ٹی آئی کا یوتھ کنونشن چوہدری نثار کی ہدایت پر ناکام بنایا گیا اور دفعہ 144 نافذ کر کے گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں تاہم جب میڈیا میں یہ ایشو بننے لگا تو بعض رہنماؤں نے اس کی مخالفت شروع کر دی اور کہا کہ اس سے مخالف جماعت کو فائدہ ہو رہا ہے اور گرفتاریاں نہ کی جائیں لیکن اس مرتبہ بھی چوہدری نثار اپنے فیصلے پر ڈٹ گئے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی ایک مرتبہ انہیں بتایا کہ ایک وزیر مملکت کو اس پر تحفظات ہیں تاہم اسحاق ڈار نے چوہدری نثار کے اس اقدام کو سراہا۔ وزیر داخلہ وزارت کے دفتر سے سفر کر کے پنجاب ہاؤس پہنچے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کی جانب سے بھی ایک پیغام میں چوہدری نثار کی یوتھ کنونشن کو ناکام بنانے کی حکمت عملی کی تعریف کی گئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک وقت میں وزیر داخلہ انتہائی دباؤ میں تھے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو گرفتار کر لیا جائے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تاہم چوہدری نثار اپنی بنائی گئی حکمت عملی پر عمل پیرا رہے اور انہوں نے ایسے ہر قسم کے موقف کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اس کی ضرورت نہیں کیونکہ اس وقت تک عمران خان بنی گالہ تک محدود ہو چکے تھے او رکئی کارکنان کو گرفتار کر کر لیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی گرفتاری کی بھی تجاویز سامنے آئیں تاہم وزیر داخلہ نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں اور پنجاب پولیس کو واضح ہدایت کی گئی کہ اسے کسی صورت گرفتار نہ کیا جائے بلکہ لال حویلی کا جلسہ ناکام بنایا جائے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت چکمہ دینے کے لئے پولیس وائرلیس پر یہ پیغامات چلائے گئے کہ اگر شیخ رشید نظر آئے تو اسے فوری طور پر گرفتار کرلیا جائے لیکن اوپر سے انہیں گرفتار نہ کرنے کے احکامات تھے۔ حکومت نے طاہر القادری کی آمد پر بھی ممکنہ حکمت عملی طے کر رکھی تھی تاہم جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ نہیں آ رہے تو تب حکومت عوامی تحریک کے معاملے پر مطمئن ہو گئی لیکن آنے کی صورت میں ہر قسم کے پلان تیار تھے۔ ذرائع کے مطابق صورتحال کی مانیٹرنگ کیلئے 5 ہیلی کاپٹر منگوائے گئے تھے جو بنی گالہ اور اٹک کے علاقوں کے اوپر نگرانی کرتے رہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک موقع ایسا آیا کہ اٹک میں ایک پل کے قریب مظاہرین کو روکنے کے دوران حضرو پل کے قریب ایف سی اور پولیس کے پاس شیل ختم ہو گئے تو وزیر داخلہ نے ان کو وہاں سے ہٹنے کی تاکید کی جس کے بعد مظاہرین کنٹینرز ہٹاکر آگے آگئے ،بعد میں پھر جب موقع ملا تو وہاں شیل بھجوائے گئے۔ وزیر داخلہ نے واضح ہدایات دے رکھی تھیں کہ مظاہرین پر آنسوگیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملہ پر ڈی پی او اٹک کو شاباش دی گئی۔

مزید : علاقائی


loading...