ہمارے صوبے کا انسداد کرپشن کا محکمہ سیاست کررہا ہے،علی امین گنڈاپور

ہمارے صوبے کا انسداد کرپشن کا محکمہ سیاست کررہا ہے،علی امین گنڈاپور

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے وزیر علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم نے انسداد کرپشن کا محکمہ بنایا اس نے اپنی سیاست شروع کردی،ہم نواز شریف کو گھسیٹ کر عدالت میں لائے ہیں آئندہ بھی گھسیٹنا پڑا تو گھسیٹیں گے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام’’جرگہ‘‘میں خیبرپختونخوا کے وزیر علی امین گنڈاپور نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے پر 24سے25مقدمات ہیں،ہماری حکومت میں صرف ایک مقدمہ ہوا ہے جو بلدیاتی انتخابات کے دوران ہوا ہے،میرے ساتھ گرفتار ہونے والے گارڈز پولیس کے اہلکار تھے ،مجھے آئی جی خیبر پختونخوا پر افسوس ہے کہ انہوں نے کوئی ایکشن نہیں لیا ہے،یہ میڈیا پر زیادہ آتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر کرپشن ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی ہونے چاہیے،ضیاء اللہ آفریدی کے خلاف بھی ابھی تک کرپشن ثابت نہیں ہوسکی ہے،شیر پاؤ کے لوگوں کو حکومت میں واپس لینے کے خلاف تھا،شیر پاؤ کے لوگوں کے خلاف الزامات آنے پر وزارتیں واپس لی گئی ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے صوبے کا احتساب کمیشن بھی نہیں کررہا ہے،میرا احتساب کمیشن کے کسی فرد سے رابطہ نہیں ہیں،ہم نے عوام کی خدمت کی آئندہ بھی عوام عمران خان کوووٹ دیں گے،ہم نے انسداد کرپشن کا محکمہ بنایا اس نے اپنی سیاست شروع کردی،سی پیک میں بہت بڑا مسئلہ ہے،سی پیک میں ہمارا حصہ ہمارا حق ہے،اپنا حق لینے کیلئے آخری حد تک جائیں گے،احتساب جیسا ایکشن لیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے صوبے کے 142ارب واجب الادا ہیں جو نہیں دیے جارہے ہیں ہم اپنے اس حق کیلئے بھی دھرنا دیں گے،اگلی بار دھرنا ہوا تو اپنے ساتھ گارڈز نہیں لاؤں گا،ہم نواز شریف کو گھسیٹ کر عدالت میں لائے ہیں آئندہ بھی گھسیٹنا پڑا تو گھسیٹیں گے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے حسین نواز کی آنکھیں نہیں آنتیں نکالنے کی بات کی تھی،حکمران جب بادشاہت اور ظلم کی انتہا کریں گے تو میں قانون کو ہاتھ میں لینے سے نہیں دریغ کروں گا۔

مزید : علاقائی


loading...