’’سیاسی سموگ‘‘

’’سیاسی سموگ‘‘
 ’’سیاسی سموگ‘‘

  


لاہور میں ماحولیاتی’’ سموگ ‘‘نے لوگوں کو گھیرے میں لیا ہو اہے تو وفاقی دارالحکومت میں لاک ڈاؤن پھر’’ناک ڈاؤن‘‘اوراس کے بعد پاناما پیپرز کا معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچنے سے حکومت بھی’’سیاسی سموگ‘‘ میں گھری ہوئی ہے اگرچہ حکومت کی جانب سے یہ تاثر دیا جارہاہے کہ دھرنا پارٹ ٹو کے بعد سب اچھا ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں دوسری جانب ابھی تک لاک ڈاؤن کی ناکامی کے اسباب دارالحکومت میں زیر بحث ہیں، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء تو لاک ڈاؤن کال کے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی وجوہات سے بخوبی آگاہ ہیں لیکن ان کے پرجوش حامی اور برگر کلچر کے دلدادہ کارکن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگ بھی کپتان عمران خان کی لاک ڈاؤن کال ، اس کے انجام اور مضمرات کے اسباب جاننے کے لئے متجسس ضرور ہیں، اسلام آباد کی جس سماجی تقریب یا ریستوران پر جائیں وہاں دو سوال ہی پوچھے جارہے ہیں ، لاک ڈاؤن کی کال کیوں ناکامی سے دوچار ہوئی ؟پانامہ پیپرز کا انجام کیا ہوگا؟درحقیقت یہ دونوں سوالات بالترتیب پاکستان کے مجموعی سیاسی منظر نامے کے تناظر میں دیکھے جائیں تو ایک پس منظر ہے اور دوسرا پیش منظر ،جہاں تک پس منظر کا تعلق ہے اس کی کھوج لگائیں تو کئی دلچسپ امکانات اور اتفاقات بالکل سامنے سینہ پھیلائے کھڑے ہیں، کچھ لوگ سازشی تھیوریاں بھی پیش کررہے ہیں ، کپتان بظاہر تو یہ تاثر دے رہے تھے کہ وہ میچ اپنی مرضی کی سٹریٹجی سے کھیل رہے تھے لیکن دارالحکومت کے واقفان حال کے مطابق جو میچ کپتان کھیل رہے تھے وہ کہیں اور ’’فکس ‘‘تھا ۔کپتان عمران خان کو بھی یہ باور کروادیا گیا تھا کہ 2نومبر کے لاک ڈاؤن کی نوبت نہیںآئے گی ، تاہم کپتان اس صورتحال میں ایک بھر پور احتجاجی کال دے اور اگر لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے تو پاکستان تحریک انصاف کو کوئی غیر متوقع سیاسی کامیابی مل سکتی ہے ،تاہم ایسا لگتا ہے کہ کپتان اوران کی سینئر قیادت نے 2نومبر کے لاک ڈاؤن سے پہلے ہی مطلوبہ نتائج کی یقین دہانی کی بنا پر لوگوں کو سڑکوں پر نکالنے کیلئے ڈھیلی ڈھالی کوشش کی ، جبکہ کپتان کے بعد کے اہم ترین رہنماؤں نے بھی خود انتخابی حلقوں میں جانے کی بجائے فوٹو سیشن پرہی اکتفا کیا جبکہ ناتجربہ کاری کا عنصر تو پہلے سے ہی موجود تھا جبکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی قیادت میں اعلیٰ سطح کے حامل حکومتی وفد کی آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد 28اکتوبر کے افتتاحی میچ میں ہی بری طرح شکست سے دو چار ہوگئے ،اس غیر متوقع پیش رفت کے بعد جن حلقوں سے کپتان کو داد ملنے کی توقع تھی انہیں اندازہ ہوگیا کہ اگر کپتان نے میچ ڈرانہ کیا تو انہیں شکست کا سامنا ہوگا ، کپتان کا دھرنے کا بھرم ٹو ٹ جائے گا ، جس کی بناء پر کپتان کو آگاہ کیا گیا کہ ایک طرف تو ان کے لاکھوں’’ فین ‘‘سڑکوں پر نہیں نکلے تو دوسری جانب ان حالات میں باہر نکلنے سے ان کی سلامتی خطرہ میں پڑ سکتی ہے ، تو بہتر یہی ہے کہ’’ڈنڈ بیٹھکیں ‘‘لگا کر لوگوں کا جذبہ گرم رکھا جائے لیکن لاک ڈاؤن کے بجائے اس کے دباؤ سے ہی کام چلا لیا جائے اسی اثنا میں خطہ میں پاکستان کاایک اہم دوست ملک بھی سرگرم عمل ہوگیا اورکپتان کو رام کرنے کیلئے دوست ملک کے سفیر نے اہم کردار ادا کیا ،کپتان کو سنگین مضمرات سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں تمام ان کے دوستوں نے مشورہ دیا کہ حکومت سپریم کورٹ میں پوری طرح سرنڈر کرنے کیلئے آمادہ ہے ،پاکستان تحریک انصاف کسی فوری ’’بڑی تبدیلی ‘‘کی توقعات کو چھوڑتے ہوئے اس صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے پر ہی اکتفا کرے ، سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران وقفہ میں کپتان نے مکمل یقین دہانی کے بعد مثبت اشارہ دے دیا یہ بڑی خبر سب سے پہلے اپنے سب سے بڑے خریدار سٹاک مارکیٹ کے پاس پہنچی تو اس کا فوری اثر سٹاک مارکیٹ پر نظر آیا ، اگرچہ لاک ڈاؤن کی کال کی منسوخی کا اعلان شام کو ہوا لیکن سٹاک مارکیٹ ہمیشہ خبروں سے آگے ہوتی ہے خبریں بھی ارب پتیوں کے پاس پہلے پہنچتی ہیں سٹاک مارکیٹ اس دن ریکارڈ 16سو پوائنٹ بلند گئی ، جبکہ حکومت نے زیر دباؤ پانامہ پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے آگے اپنا قانونی اور آئینی حق بھی سرنڈر کردیا۔

یہ تو تھا پس منظر اور پیش منظر حکومت کو سپریم کورٹ میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے پاناما پیپرز میں حقائق جو بھی ہوں لیکن جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور ٹرمز آف ریفرنس بنانے کا اختیار پاکستان کمیشنز آف انکوائری ایکٹ1956کے تحت صرف حکومت کو حاصل ہے لیکن حکومت نے اپنا یہ اختیار سپریم کورٹ کے آگے سرنڈر کردیا لیکن اس پربعض قانونی و آئینی ماہرین سوالات بھی اٹھارہے ہیں ، اب حکومت ایک دفعہ اپنے اس اختیار کو سرنڈ ر کرنے کے بعد اخلاقی ،سیاسی اور شائد قانونی طورپر نظر ثانی کے حق سے تومحروم ہوچکی ہے تاہم ایک تیسرے فریق کی جانب سے سپر یم کورٹ میں اس ضمن میں اپیل دائر کردی گئی ہے ، اب دیکھنا ہے کہ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعت اور اپوزیشن لیڈر سپریم کورٹ میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں کیونکہ اپوزیشن ایک اہم سٹیک ہولڈر ہے اسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے ، پانامہ پیپرز کا کیس پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان کی سیاست کے مستقبل کے حوالے سے دور رس نتائج کا حامل ہوگا ، اس کیس کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے حامد خان اور حکومتی اٹارنی سلمان بٹ دونوں کا تعلق ایک ہی چیمبر سے ہے ، تاہم پانامہ پیپپرز کا معاملہ عدالت میں چلنے سے سیاست میں نومبر کے مہینے میں متوقع عسکری تبدیلیوں کے تناظر میں جن جوہری تبدیلیوں کی پیش گوئیاں ہورہی تھیں وہ شاید اب پوری نہ ہوسکیں پارلیمنٹ کے اپنی مدت پورے کرنے کے امکانات مضبوط ہوگئے ہیں نظام کو درپیش خطرہ ٹل گیا ہے ، لگتا ہے اب پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے مابین حتمی میچ تو2018ء کے انتخابات میں ہی ہوگا لیکن پانامہ پیپرز کیس کے مضمرات کے تناظر میں وزیر داخلہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے مابین اہم ملاقاتوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے شائد بہت حد تک ’’ڈان لیکس ‘‘کا بندباندھنے اور ’’لاک ڈاؤن ‘‘کو ’’ان لاک‘‘ کرنے میں تو کلیدی کردار ادا کیا ہے لیکن ابھی حکومتی جماعت کوپانامہ لیکس کے کٹھن چیلنج کا سامنا ہے جس کی وجہ سے حکومتی جماعت’’ سیاسی سموگ ‘‘کا شکار نظر آتی ہے ۔

مزید : کالم


loading...