2017کے لیے جرمن فوج میں 60جنگجوؤں کی بھرتی ،تحقیقات شروع

2017کے لیے جرمن فوج میں 60جنگجوؤں کی بھرتی ،تحقیقات شروع

برلن(این این آئی)جرمن حکومت نے 2017کے لیے فوج میں بھرتی کیے جانے والے تمام فوجی کیڈٹس کی چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ جرمن فوجی انٹیلیجنس ادارے کی فوج میں ممکنہ اسلام پسندوں کی نشاندہی پرکیا گیا ۔ جرمن میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ جرمن فوجی انٹیلیجنس ایجنسی ایم اے ڈی کی جانب سے جرمن مسلح افواج میں بیس ممکنہ اسلام پسندوں کی نشان دہی پر کیا گیا ۔ ترجمان نے اِس تعداد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مزید ساٹھ ممکنہ مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اِس حوالے سے قانون سازی کے مسودے پر آنے والے ہفتوں میں جرمن پارلیمنٹ میں غور کیا جائے گا جس کے بعد تمام کیڈٹس کے بارے میں چھان بین کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے عسکریت پسند گروہ اسلامک اسٹیٹ کی جرمن فوج میں در اندازی اور ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرنے کی کوششوں کا سّدباب کیا جاسکے گا۔جرمن فوجی انٹیلیجنس ادارے ’ایم اے ڈی‘ کے ترجمان کے مطابق فوج کے بھرتی مراکز کو ایسے افراد کی جانب سے متعدد سوالات موصول ہوئے ہیں جو محض چند ماہ کے لیے فوج میں بھرتی ہونا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں اِن افراد نے فوجی اسلحے کی تربیت میں گہری دل چسپی کا اظہار کیا تھا۔ جرمن خفیہ ایجنسی کی جانب سے دیے گئے ایک بیان کے مطابق 2014میں انٹر نیٹ پر شایع کی گئی اسلامک اسٹیٹ کی ایک پوسٹ میں گروپ نے فوجی تربیت رکھنے والے افراد کو اپنی صفوں میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی اور دیگر کو اسلحے کے استعمال کی تربیت حاصل کرنے کے لیے زور دیا تھا۔

اِس تناظر میں، اور رواں برس موسمِ گرما میں اسلامی عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے دو حملوں کے بعد جرمن سکیورٹی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔ گزشتہ برس ایک ملین کے قریب تارکینِ وطن کی جرمنی آمد کے بعد سے یہاں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے جرمن پولیس نے برلن میں ایک شامی فرد کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم سے تعلق ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا

مزید : عالمی منظر


loading...