پانامہ لیکس کی سماعت آج ہوگی ، سپریم کورٹ کے دائر اختیار پر وکلاء 2حصوں میں تقسیم

پانامہ لیکس کی سماعت آج ہوگی ، سپریم کورٹ کے دائر اختیار پر وکلاء 2حصوں میں ...

لاہور (نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کا لارجر بنچ آج پانامہ لیکس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ فاضل بنچ نے مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کو جواب داخل کرانے کی آج تک مہلت دے رکھی ہے۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کے حوالے سے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اختلافات سامنے آگئے ہیں اس معاملے پر وکلاء دو حصوں میں تقسیم ہوگئے اور موقف اختیار کیا ہے کہ سپر یم کورٹ باروکلاء کا انتظامی ادارہ ہے اس کا کام سیاست کر نا یا سیاسی معاملات میں مداخلت کر نا نہیں۔ دوسری طرف سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کے حوالے سے پاکستان بار کونسل نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کیس میں فریق بننے کا عندیہ دیا ہے تاکہ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کا سوال عدالت میں اٹھایا جاسکے جبکہ سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری آفتاب باجوہ نے اپنے بیان میں پاکستان بار کونسل پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ سپریم کورٹ اپنے دائرہ اختیار کے بارے میں بہتر جانتی ہے پاکستان بار کونسل کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے اور پاکستان بار کونسل میں فوکل پرسن کی نامزدگی بھی ماورائے آئین ہے ۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز، حسن نواز اور حسین نواز کی طرف سے اگر آج جواب داخل کرا دیا گیا تو پھر ٹرمز آف ریفرنس کے تعین اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا امکان ہے۔ تاہم وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی ایک درخواست دائر کر رکھی ہے۔ جس میں پانامہ لیکس کیس میں فریق بننے کی استدعا کی گئی ہے۔ بیرسٹر ظفر اللہ نے بھی عدالت عالیہ سے ٹرمز آف ریفرنس کے متعلق اختیار کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ٹرمز آف ریفرنس کا معاملہ پارلیمنٹ میں ہے اور اس سلسلے میں ایک بل زیر غور ہے۔ اس بل کے فیصلے تک سپریم کورٹ کو کیس کی سماعت روک دینی چاہئے۔

مزید : صفحہ اول


loading...