فلوریڈ اور نارتھ کیرولینا میں متوقع کامیابی سے ہیلری کلنٹن صدر بن جائیں گی

فلوریڈ اور نارتھ کیرولینا میں متوقع کامیابی سے ہیلری کلنٹن صدر بن جائیں گی

 واشنگٹن (اظہر زمان، بینا گوئندی) 8 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے آخری مرحلے میں اگرچہ ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اپنی حریف ڈیمو کریٹک امیدوار سے کچھ پیچھے ہیں لیکن یہ فرق زیادہ نہیں ہے۔ دونوں امیدواروں نے اپنی اپنی پارٹیوں کی روایتی جامنی، نیلی اور سرخ ریاستوں میں انتخابی مہم کے ذریعے اپنی پوزیشن مستحکم کرلی ہے اور جھکاؤ والی ریاستوں کو بھی اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے اس لئے فتح کا آخری فیصلہ جامنی، ڈانواں ڈول یا میدان جنگ کی ریاستوں میں ہونے جا رہا ہے۔ ان میں سے تین بڑی ریاستوں میں سے دو فلوریڈا اور نارتھ کیرولینا میں ہیلری کی کامیابی متوقع ہے جن سے وہ صدر بن سکتی ہیں۔ فلوریڈا کے الیکٹورل ووٹ 29 اور نارتھ کیرولینا کے 15 ہیں۔ یہ کل 44 الیکٹورل ووٹ ہیلری کیلئے بہت قیمتی ہیں جو انہیں جتانے کا باعث بنیں گے۔ ایک اور بڑی جامنی ریاست اوہائیو کے الیکٹورل ووٹ 18 ہیں جہاں ٹرمپ کی کامیابی کا زیادہ امکان ہے۔ 8 نومبر کو ہونے والا امریکہ کا صدارتی انتخاب براہ راست نہیں ہوتا کیونکہ تمام پچاس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں عام ووٹر امیدواروں کو براہ راست ووٹ دینے کی بجائے الیکٹورل کالج کے 538 ارکان کا چناؤ کریں گے اور جس امیدوار کے حامی ارکان کی اکثریت ہوگی وہ صدر بن جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیت کیلئے کم از کم 270 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ ہر ریاست میں جس امیدوار کو اکثریت ملے گی اس ریاست کیلئے مخصوص تمام کے تمام الیکٹورل ووٹ اسے مل جائیں گے۔ صرف دو ریاستوں میں الیکٹورل ووٹ عام ووٹوں کے تناسب سے تقسیم ہوتے ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی ٹھوس سرخ ریاستوں اور ری پبلکن پارٹی کی ٹھوس نیلی ریاستوں میں یقیناًبالترتیب ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی ملے گی لیکن کم جھکاؤ والی ریاستوں میں تبدیلی کا امکان موجود ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ تبدیلی درمیان میں لٹکتی جامنی ریاستوں سے زیادہ مشکل ہوتی ہے ری پبلکن پارٹی کی کم جھکاؤ والی نیلی ریاستوں میں اوٹاوہ، اری زونا اور جارجیا بھی شامل ہیں جہاں 2012ء میں مٹ رومنی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اپنی کامیابی کیلئے ٹرمپ کیلئے ان ریاستوں میں استحکام ضروری ہے لیکن ایسا مکمل طور پر نہیں ہو رہا۔ اوٹاوہ کے الیکٹورل ووٹ اگرچہ صرف چھ ہیں جو ٹرمپ کو ملتے نظر نہیں آتے۔ یہ ووٹ ہیلری کو نہ ملے تو تیسری پارٹی کے امیدوار کو مل کر ضائع ہو جائیں گے۔ اری زونا کی ریاست میں ہیلری کلنٹن نے بہت کام کیا ہے جس کے گیارہ الیکٹورل ووٹ اگر انہیں مل گئے تو یہ ٹرمپ کیلئے بہت بڑا نقصان ہوگا کیونکہ سابق انتخابات میں یہ ووٹ رومنی کو ملے تھے۔ اعداد و شمار کے تجزیے کے کہنہ مشق ماہرین کہتے ہیں کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ ٹرمپ کم جھکاؤ والی ریاستوں اری زونا، اوٹاوہ اور جارجیا کے ساتھ ساتھ درمیان میں لٹکتی تین بڑی جامنی ریاستوں فلوریڈا، نارتھ کیرولینا اور اوہائیو میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر بھی انہیں کل 253 الیکٹورل ووٹ ملیں گے جو جیت کیلئے ضروری 270 ووٹوں سے پھر بھی 17 ووٹ کم ہیں۔ انتخابی ماہرین کے مطابق اس مفروضے کا حقیقت میں بدلنے کا امکان بہت کم ہے۔ اس مفروضے کو تسلیم کرکے اگر پنسلوینیا کے 20 ووٹ ٹرمپ کو مل جائیں تو ٹرمپ 273 ووٹ حاصل کرکے صدر بن سکتے ہیں لیکن پنسلوینیا میں ٹرمپ کی جیت محض ایک خواب ہے کیونکہ اس ریاست کے کم از کم 39 پول میں ٹرمپ مسلسل ہیلری سے پیچھے جاتا رہا ہے۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ٹرمپ نے خواتین کے بارے میں جو توہین آمیز رویہ اختیار کر رکھا ہے اس کا خصوصی طور پر پنسلوینیا میں بہت منفی اثر پڑا ہے۔ اس رپورٹ کے فائل کرنے کے وقت جو آخری انتخابی جائزے سامنے آئے ہیں ان کے مطابق ہیلری کلنٹن کو ڈونلڈ ٹرمپ پر 4 پوائنٹ کی برتری حاصل ہے۔ ٹرمپ کی 42 فیصد کے مقابلے میں ہیلری کو 46 فیصد کی حمایت مل رہی ہے۔ اس دوران انتخابی ایشو مسلسل امیدواروں کا پیچھا کر رہے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے سابق سپیکر اور صدارتی ٹکٹ کے سابق امیدوار نیوٹ گنگرچ نے اتوار کے روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگر ہیلری کلنٹن صدر بھی منتخب ہوگئیں تو ای میلز کے بارے میں تحقیقات پھر بھی جاری رہے گی تاہم یہ تحقیقات ہیلری کلنٹن کو زیادہ متاثر نہیں کرے گی کیونکہ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ اس سے ہیلری کا کوئی جرم ثابت ہو اور یہ معاملہ محض خلاف ضابطہ عمل کا ہی رہے گا۔

مزید : صفحہ اول


loading...