مشکل کی گھڑی میں امت مسلمہ خادم الحرمین شریفین کیساتھ ہے ، تحفظ حرمین شریفین سیمینار کا مشترکہ اعلامیہ

مشکل کی گھڑی میں امت مسلمہ خادم الحرمین شریفین کیساتھ ہے ، تحفظ حرمین شریفین ...

لاہور (نمائندہ خصوصی) مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم ذیلی تنظیمات اور تحریک دفاع آل سعود پاکستان کے چیرمین ڈاکٹر عبدالغفور راشد کی زیر صدارت تحفظ حرمین شریفین اور آل سعود کا کردار کے عنوان سے لاہور پریس کلب میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں سیاسی، مذہبی اور سماجی راہنماوں نے شرکت کی سیمینار سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، چیرمین تحریک دفاع آل سعود پاکستان ڈاکٹر عبدالغفور راشد،جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا محمدامجد خان،جے یو پی نورانی کے رہنما مولانا محمد خان لغاری،اہل حدیث یوتھ فورس کے صدر فیصل افضل شیخ، مفتی عاشق حسین بخاری اور دیگر مذہبی سیاسی اور سماجی راہنما وں نے بھی خطاب کیا۔مقررین نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا حجا ز مقدس تمام مسلمانوں کا ایمانی مرکز ہے مسلک و مکتب اورجغرافیائی تفریق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امت مسلمہ کو مقدس مقامات کا تحفظ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی قیادت میں 34۔مسلم ممالک کے دفاعی اتحاد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور زوردیتے ہیں کہ امت کو اقتصادی اور سیاسی معاملات میں بھی اپنے مشترکہ کردار کا تعین کرنا چاہئے، تاکہ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ اور پیچیدہ مسائل کو بھی حل کیا جاسکے نیز او آئی سی کو مسلم نیٹو کا کردا ر ادا کرنا چاہیے۔ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ یمن کے حوثی باغیوں کو اپنے پشتی بانوں کی مدد کے بغیر ارض مقدس پر حملے کی جرات نہیں ہوسکتی تھی حیرانی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خانہ کعبہ میں آل سعود نے چار مصلے ختم کرکے ایک ہی اما م کے پیچھے نماز ادا کرنے کی روایت قائم کرکے اتحاد امت کا بیت اللہ سے پیغام دیا ،حرم مقدس کے خلاف کوئی مرحلہ آیا تو فقہی اختلافات کے باوجود تما م مکاتب فکر اپنے مرکزایمانی کا تحفظ کریں گے۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر بھی چکا ہے حجاز مقد س مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہے، سعودی عرب کی امت مسلمہ میں مرکزی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے اسے عدم استحکام سے دوچار کیا جارہا ہے تاکہ امت مسلمہ کو نیوورلڈ آرڈر کے مطابق مزید تقسیم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اتحاد امت کے لئے ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل کے تجربے سے فائد ہ اٹھانا چاہیے۔ان کا کہنا تھاکہ یمن کے ساتھ تنازع پر پارلیمنٹ کی غیر جانبدار رہنے کی قرارداد سے سعودی عرب کو منفی پیغام دیا گیا اب اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں اسلامی مراکز کا قیام اور قرآن مجید کی اشاعت آل سعود کی بڑی خدمات ہیں سعودی عرب نے سیلاب ، زلزلے اور ایٹمی دھماکوں کے بعد اقتصادی پابندیوں کے دور میں پاکستان کی بڑی مدد کی، اسے نہیں بھلا سکتے۔سیمینار کے شرکانے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکمران عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے سعودی حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں تاکہ ارض مقدس کادفاع یقینی بنایا جاسکے یہ بھی واضح کیا گیا کہ مقدس مقامات کے خلاف صہیونی اور یہودی ریشہ دوانیاں کامیاب نہیں ہوں گی اللہ تعالیٰ ابابیل پیدا کرے گا جو دور حاضرکے کسی بھی ابرہاکو اس کے منطقی انجام تک پہنچائے گااور بیت اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔سیمینار کے شرکا نے تحریک دفاع آل سعود پاکستان کے قیام کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ آل سعود کی حرمین شریفین کی خدمت ، تحفظ اور عالم اسلام کو متحد رکھنے کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں ان کی جرات مندانہ پالیسیاں اور عوام کو انصاف کی فراہمی اقوام عالم کے لئے قابل تقلید ہیں ۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ناظم ذیلی تنظیمات اور تحریک دفاع آل سعود پاکستان کے زیر اہتمام تحفظ حرمین شریفین اور آل سعود کے کردار کے عنوان سے لاہور پریس کلب میں منعقد ہونیو الے سیمینار میں منظور کئے گئے مشترکہ علامیہ میں ضرب عضب آپریشن کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستانی افواج ،حکمرانوں اور عوام کے دل سعودی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ اعلامیے میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور مکہ مکرمہ پر یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے میزائل حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ امت مسلمہ مشکل کی ہر گھڑی میں خادم الحرمین شریفین اور سعودی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں، ہم حرمین پر جان قربان کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔مشترکہ اعلامیہ میں حوثی باغیوں اور ان کے پشتیبانوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن مقدس مقامات پر حملے کر کے امت میں مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں مگرامت مسلمہ، حرمین شریفین کے محا فظ شاہی خاندان کے ساتھ ہیں، کسی باغی کی کوئی شازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سیمینار

مزید : صفحہ اول


loading...