بھارتی سفارتکاروں کے طالبان اور دہشتگردوں سے رابطے تھے،طارق فاطمی

بھارتی سفارتکاروں کے طالبان اور دہشتگردوں سے رابطے تھے،طارق فاطمی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے کہا ہے کہ پاکستان میں تعینات بھارتی سفارتکاروں کی منفی سرگرمیاں حد سے بڑھ گئی ہیں اس لئے انہیں واپس جانے کا کہہ دیا ہے، ان سفارتکاروں کے دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے رابطے تھے، پیپلزپارٹی کا یہ مطالبہ بچگانہ ہے کہ ملک وزیر خارجہ کے بغیر چل رہا ہے،پرویز رشید نیوز سکینڈل معاملے میں ملوث نہیں تھے۔نجی ٹی وی چینل ’’آج نیوز ‘‘ کے پروگرام ’’روبرو‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ بھارت میں پاکستانی سفارتکاروں کو گرفتار کرکے اس کے بعد ان کے نام ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ غلط پراپیگنڈہ کررہے تھے، سفارتکاروں کی شناخت کے ساتھ پروپیگنڈہ درست بات نہیں۔ بھارت نے ہمارے سفارتکاروں کو بے جا حراساں کیا۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سفارتکاروں کی منفی سرگرمیاں پاکستان کیلئے خطرہ تھیں،بھارتی سفارتکاروں کی دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے ساتھ تعلقات اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے رابطے تھے، بھارتی سفارتکار واپس نہ گئے تو پھر انہیں نکال دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک عظیم لیڈر تھے ، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور اقتدار میں خارجہ اور دفاع کی وزارتیں اپنی پاس رکھی تھیں، 1972 ء میں ماسکو کے دورے کے دوران ان کے پاس کوئی وزیر خارجہ نہیں تھا،لہذا پیپلز پارٹی کا یہ بچگانہ سوال ہے کہ ملک بغیر وزیر خارجہ کے چل رہا ہے ، بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے پاس بھی وزارت خارجہ نہیں تھی وہ خود ہی چلا رہے تھے۔انہوں نے کہاکہ قومی مفادات پر سیاست نہیں کرنی چاہیے،وزیراعظم کی ہدایت پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور ہم عملدرآمد کرتے رہے ہیں، سرتاج عزیز کے میرے ساتھ تعلقات مثالی ہیں بہت سے لوگوں کا شوق ہے کہ ہم آپس میں لڑ پڑیں۔ انہوں نے کہا کہ پرویز رشید بے حدشریف اور ذمہ دار انسان ہیں ،وہ خبر لیکس معاملے میں ملوث نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیوز گیٹ کی تحقیقات کیلئے ایک جج کی سربراہی میں کمیٹی کی تشکیل پر تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں کو اعتراض ہے تو اس بارے حکومت مزید غور و خوض کرے گی، تاہم تحقیقات پرویز رشید کے خلاف نہیں ہورہی ، تحقیقات واقعے کے خلاف ہورہی ہیں کہ یہ خبر کیسے اور کہاں سے لیک ہوئی؟ انہوں نے کہاکہ سی پیک منصوبہ پر جہاں پاک چین لیڈران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو اس وقت اعلان کیا گیا کہ یہ منصوبہ صرف پاکستان کیلئے نہیں اس منصوبے میں خطے کے تمام ممالک شامل ہوسکتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...