مقبوضہ کشمیر، کمسن طلاب علم کی شہادت کے بعد حالات مزید کشیدہ، شہر شہر، گلی گلی احتجاجی مظاہرے

مقبوضہ کشمیر، کمسن طلاب علم کی شہادت کے بعد حالات مزید کشیدہ، شہر شہر، گلی ...

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کمسن طالب علم کی شہادت کے بعد حالات مزید کشیدہ ٗ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ٗ حریت کانفرنس نے احتجاج کا دائرہ کار 15 نومبر تک بڑھا دیا ٗ سکیورٹی فورسز کی جانب سے وادی کے مختلف علاقوں کی سخت ناکہ بندی ٗ خار دار تاریں لگا کر داخلی و خارجی راستوں کو بند کردیاگیا ٗ پائین شہر میں احتجاجی مظاہروں کے دوران بھارتی فوج کا پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کا استعمال ٗ تین درجن سے زائد کشمیری زخمی ٗ ایک درجن سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ٗ وادی میں مسلسل 120 ویں روز بھی کرفیو نافذ ٗ عوام گھروں میں محصور ٗ کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت ٗ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون تاحال معطل ۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں 10 سالہ طالب علم کی شہادت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں سری نگر شہر کے بیشتر علاقوں میں سنگین اور کشیدہ ماحول دیکھنے کو ملا ،علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ ہوئے اور فورسز نے ٹیر گیس شل داغے اور ہوائی فائرنگ کی جب جمعہ شام کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں8دنوں سے موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا ایک16برس کا طالب علم موت کی آغوش میں سو گیا۔جمعہ رات12بجے کے قریب قیصر کی میت کو کو اپنے آبائی علاقے گندر پورہ پہنچایا گیااور رات بھر علاقے میں ماتم کی لہر جاری رہی۔عینی شاہدین کے مطابق سنیچر کی صبح کو علاقے میں فورسز اور پولیس کے سینکڑوں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد قیصر حمید کے آخری سفر میں شرکت کرنے کیلئے گند پورہ پہنچے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جب قیصر حمید کو سپرد لحد کرنے کیلئے مزار شہدا کی طرف لیا جا رہا تھا،تو فورسز اور پولیس نے میت کے جلوس میں شامل لوگوں کو تتر بتر کرنے کیلئے نہ صرف درجنوں اشک آوار گولے داغے بلکہ ہوئی فائرینگ بھی کی جس کی وجہ سے علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں کوئی بھی سنگبازی نہیں ہو رہی تھی بلکہ مساجد میں صرف تحریکی نغمے اور ترانے بجائے جا رہے تھے،تاہم اس کے باوجود فورسز اہلکاروں نے نہ صرف اشک آوار گولوں کی برسات کی بلکہ گھروں میں داخل ہوکر توڑ پھوڑ بھی کی۔عینی شاہدین کے مطابق اس کے باوجود لوگوں نے قیصر حمید کے جنازے کا رخ مزار شہدا کی طرف کیا اور پیش جبکہ فورسز اور پولیس نے ایک مرتبہ پھر جلوس میت میں شامل لوگوں پر ٹیر گیس شلنگ کی اور پیلٹ بندوق کا استعمال کیا جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔اس دوران پورے علاقے میں ٹیر گیس گولوں کی گونج اور دھویں کی وجہ سے یہ علاقہ میدان جنگ میں تبدیل ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق لوگوں نے سفر جاری رکھا اور تیسرے مرتبہ پھر فورسز اور پولیس نے میت کا راستہ روکتے ہوئے اشک آوار گولے داغے۔مجموعی طور پر پولیس کی کاروائی میں36افراد زخمی ہوئے

مظفرآباد( اے این این ) آزادکشمیر‘ مقبوضہ کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم شہدائے جموں عقیدت و احترام سے منایا‘ یوم شہدائے جموں کے موقع پر کشمیری عوام نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جلسے جلوس‘ ریلیوں‘ سیمینارز کا انعقاد کیا ‘ دارالحکومت مظفرآباد کے مقامی ہوٹل میں جموں وکشمیر مسلم لیگ کے زیر اہتمام کشمیر کانفرنس کا انعقادکیا گیا ‘ڈوگرہ حکمرانوں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام انسانی تاریخ کے دامن کا سیاہ ترین دھبہ ہے۔ آج بھی بھارتی افواج کے ہاتھ بے گناہ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔شہداء جموں 1947 ‘ شہداء کشمیر‘ شہداء 2016انتفادہ اور شہید برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عزم کا اظہار ‘ بھارتی تسلط سے کشمیریوں کو آزادی مل کر رہے گی۔ کشمیر کانفرنس سے مقررین کا خطاب۔ کشمیر کانفرنس میں سابق کنونیئر آل پارٹیز حریت کانفرنس محمد فاروق رحمانی‘ ممبر قانون سازاسمبلی محترمہ نسیمہ وانی‘ کنونیئر جمو ں کشمیر مسلم لیگ اور نمائندہ حریت کانفرنس اشتیاق حمید‘ عبدالعزیز علوی ‘ شعیب شاہ‘ سینئر صحافی‘ کالم نگار عارف بہار‘ طارق نقاش‘ محمد اسلم میر‘ شوکت جاوید میر‘ عبدالواجد خان ‘عزیر غزالی‘ مشتاق الاسلام‘ بشارت نوری‘ ڈاکٹر محمد یونس میر‘ حمزہ شاہین‘ راجہ اظہار خان‘ شوکت کشمیری‘ محمد رفیق کشمیری‘ اقبال اعوان‘ شیخ سراج منیر ‘ عثمان اعوان ‘ عاشق بٹ و دیگر نے شرکت کی۔ کشمیر کانفرنس کی صدارت سابق کنونیئر آل پارٹیز حریت کانفرنس محمد فاروق رحمانی نے کی ۔ کشمیر کانفرنس کے موقع پر منتظم تقریب اشتیاق حمید نے اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ کانفرنس شہداء جموں 1947 ‘ شہداء کشمیر‘ شہداء 2016انتقادہ اور شہید برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے آزادی کے جملہ شہداء کیلئے مغفرت اور لواحقین کیلئے جمیل کی دعا ہے۔ تحریک آزاد ی جموں وکشمیر کی فتح و نصرت کیلئے جہا د کرنے والے غازیوں اور جملہ کشمیری عوام کی استقامت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...