شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: دفاع پاکستان کونسل

شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے: دفاع پاکستان کونسل

لاہور(نمائندہ خصوصی)مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین نے دفاع پاکستان کونسل کی شہدائے جموں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کشمیریوں کی عملی مدد کریں دھرنوں اور پانامہ لیکس جیسے مسائل سے جان چھوٹ جائے گی۔سیز فائر لائن کو کنٹرول لائن نہیں مانتے۔ شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ نریندر مودی نے سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ کیا‘ اب کشمیری مجاہدین تمہیں بتائیں گے سرجیکل سٹرائیک کسے کہتے ہیں۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی سبوتاژ کرنے کیلئے ملک میں سیاسی انتشار کو ہوا دی جارہی ہے۔ اسلام آباد میں ہندوستانی سفارتخانہ را کا ہیڈکوارٹر بن چکا ہے۔بھارتی ایجنٹ یہاں سے بیٹھ کر کوئٹہ، پشاور اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کروارہے ہیں۔اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام بنانے کیلئے بلوچستان، گلگت بلتستان میں سازشیں کی جارہی ہیں۔ حکمران مسئلہ کشمیر کو کو ر ایشو سمجھتے ہیں تو منافقت چھوڑ دیں۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ والے قائد کے فرمان کو قومی پالیسی بنایا جائے۔ پانامہ لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ پر چھوڑ دیا جائے۔ سیاستدان و حکمران کشمیر کو اپنا مسئلہ سمجھیں اور مل کر تحریک کی شکل میں مظلوم کشمیریوں کی مدد کریں۔ وزیر اعظم کشمیریوں کیلئے راشن کے ٹرک بھجوائیں پوری قوم ان کے ساتھ ہو گی۔ ہندوستان سے آلو پیاز کی تجارت بند کی جائے۔ آزاد کشمیر کو بیس کیمپ بنائیں۔ 15نومبر نیلم آزاد کشمیر میں کانفرنس ہو گی۔ جموں کشمیر کے شہداء کا انتقام لیں گے۔قائد اعظم سٹیڈیم میر پورمیں ہونے والی کانفرنس سے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، سردار عتیق احمد خاں، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر،عبداللہ گل،مولانا عبدالعزیز علوی، قاری یعقوب شیخ،مولانا سیف اللہ خالد، عتیق الرحمان،مفتی محمد روئیس خان، مرزا ہمایوں زمان، چوہدری محمد محمود،محمد آصف ڈار،مولانامحمد طلعت مدنی،مولانا محمد اقبال فاروقی، انجینئر محمد حارث ڈار،عبدالوحید شاہ نے خطاب کیا۔ اس موقع پرسٹیڈیم میں تل دھرنے کا جگہ نہ تھی۔ میر پور اور اس کے گردونواح سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مقررین کے خطابات کے دوران کشمیریوں پر مظالم کے تذکرہ پر زبردست جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔ شرکاء کی طرف سے کشمیریوں سے رشتہ کیالاالہ الااللہ، تیر ا نگر میرا نگر ‘ سری نگر سری نگر اور کشمیر بنے گا پاکستان کے فلک شگاف نعرے لگائے جاتے رہے۔ کانفرنس کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہزاروں افراد کو مکمل جامہ تلاشی کے بعد سٹیڈیم میں جانے کی اجازت دی گئی۔ شہداء جموں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے ظلم کا بازار گرم رکھا ہے۔میر پور میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لئے آئے ہیں۔دفاع ایک وسیع لفظ ہے۔پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا بھی دفاع کریں گے۔پہلے صرف مشرقی سرحد سے خطرہ تھا اب مغربی سرحد بھی بھارت کا اڈہ بن چکی ہے۔بھارت کے قونصل خانے بن چکے ہیں ۔مغربی سرحد پاکستان کا بہترین حصار تھی لیکن غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج دونوں اطراف سے ملک کو خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والا نظریاتی ملک ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ نظریاتی تشخص پر بھی ڈرون حملے کئے جا رہے ہیں۔کلمہ کے نام پر بننے والے ملک کو لبرل و سیکولر بنانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جو کامیاب نہیں ہوں گی۔امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ وزیر اعظم نواز شریف، پارلیمنٹ اور کابینہ ممبران سے کہتاہوں کہ جہاں آپ نے کشمیر کو شہ رگ قراردینا ہے اسی طرح یہ طے کریں کہ ہم کنٹرول لائن نہیں مانتے۔ مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک بڑی رکاوٹ شملہ معاہدہ ہے۔ ہمیں اس کا انکار کرنا چاہیے۔ شملہ معاہدہ میں لکھا ہے کہ یہ دوطرفہ مسئلہ ہے۔ جب آپ یواین کی قراردادوں کی بات کرتے ہیں تو انڈیا کہتا ہے کہ اس مسئلہ پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان بات ہو گی۔ وہ کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر بھی چھوڑ دو اس پر تم نے قبضہ کیا ہے۔ یہ کمزور پالیسیوں کو نتیجہ ہے کہ امریکہ نے سرکاری طور پر جو بات کہی وہ یہ تھی کہ یہ مسئلہ انڈیا کا اندرونی مسئلہ ہے۔ آپ اس مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ انتشار کا جو ماحول بنایا گیا ہے وہ کشمیر کیخلاف سازش ہے تاکہ میڈیا سے کشمیر غائب ہو جائے اور پاکستانیوں کو اندرونی سیاست میں الجھا دیا جائے۔ کشمیر ی قربانیاں دے رہے۔ اللہ کی پکڑ سے ڈر جاؤ۔انہوں نے کہاکہ نریندر مودی کہتا ہے کہ ہم نے سرجیکل سٹرائیک کیا ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انڈیا کے اندر اتنی ہمت نہیں ہے ۔ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ تم نے جو کرنا تھا کر لیا اب کشمیری مجاہدین تمہیں سرجیکل سٹرائیک کر کے دکھائیں گے۔آئندہ تمہاری رائل اکیڈمی کے لوگ تمہیں وہ سرجیکل سٹرائیک پڑھائیں گے جو کشمیری مجاہدین کر کے دکھائیں گے۔مسئلہ کشمیر پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ کشمیر کی آزادی یقینی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سینک کالونیاں آباد کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ یہ فوجی چھاؤنیاں ہیں۔کشمیری اس کا بدلہ لیں گے۔ہم انڈیا سے کہتے ہیں کہ کشمیر چھوڑ دو اس کے علاوہ تمہارے لئے راستہ نہیں ہے۔ اگر کشمیر نہ چھوڑا تو پھر مسئلہ آگے جائے گا۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ پانامہ لیکس جیسے مسائل اللہ کی پکڑ ہیں۔ کشمیر یوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔وزیر اعظم نواز شریف کشمیریوں کی مدد کیلئے کھڑے ہوجائیں یہ مسائل حل ہو جائیں گے وگرنہ جب اللہ کی طرف سے پکڑ آتی ہے تو پھر کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ آپ کہتے ہیں کہ یو این میں آپ نے کشمیر یوں کیلئے آواز بلند کی ۔ یہ اچھی بات لیکن لاکھوں کشمیریوں کی شہادت کا انتقام پاکستانی وزیر اعظم پر فرض ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے نمائندے بیرونی دنیا میں کشمیر کی نمائندگی نہیں کر سکے۔یہ انڈیا کے پروپیگنڈا سے متاثر ہو کرہمارے خلاف ہی بولنے لگے۔ یہ نمائندگی انڈیا کی کر رہے ہیں۔ ان مسائل پر غوروفکر کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم، سینٹ اور قومی اسمبلی کے ذمہ داران مسئلہ کشمیر کو اگر کور ایشو کہتے ہیں تو منافقت بند کرو۔ کشمیر پالیسی واضح کرو۔ ابھی تک یہ دوٹوک اور واضح نہیں ہے۔ قائداعظم نے کشمیر کا جو موقف بیان کیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ پاکستان کا قومی موقف ہونا چاہیے۔ اس کے بعد ہر پروپیگنڈا کا توڑ آسان ہو گا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے یہ قومی پالیسی بنائی جائے۔ اس کا اعلان کیا جائے اور اس کے بعد تمام ملکوں میں جا کر واضح کر دیجئے ۔نواز شریف واضح طور پر کہہ دیں کہ کہ اگر آپ کو یو این کی قراردادیں منظور نہیں ہیں اور دستخط کرنے سے پھر گئے ہو تو پھر کشمیر تو ہمارا مسئلہ ہے ۔ سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق ، یٰسین ملک، آسیہ اندرابی،شبیر شاہ جہاں کھڑے ہیں نواز شریف بھی وہیں کھڑا ہو گا۔ چکوٹھی سے ٹرک آجارہے ہیں واہگہ سے آلو پیاز کی تجارت چل رہی ہے۔ نواز شریف چار ماہ کی اس تحریک میں کرفیو میں جس طرح راشن کا مسئلہ پیدا ہوا۔ لوگ بھوک کی کیفیت میں ہیں۔ آپ نے چکوٹھی کے راستے ٹرک کیوں نہیں بھجوائے۔ آپ پاکستان اور آزاد کشمیر سے کشمیریوں کو راشن پہنچانے کیلئے نکلیں پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں نے کہاکہ بھارتی فوج کشمیر میں ناکام ہو چکی ہے،کشمیری پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں،مسلمانوں کے ساتھ سکھ اور ہندو بھی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔جماعۃ الدعوہ کو کشمیریوں کی مدد و حمایت پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈیا پاکستان کو میدان جنگ بنانا چاہتا ہے تو ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہو گا ،کشمیر میں بھی بھارت کو مار پڑ چکی ہے،آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان مذاکرات سے نہیں جہاد سے آزاد ہوئے تھے۔آج بھی ان مجاہدین کے وارث موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ انڈیا نے تیرہ فٹ باڑ لگائی،خندق کھودی،آٹھ لاکھ فوج کشمیر میں ہے اور اس کے باوجود بھارت واویلا کرتا ہے کہ حافظ سعید کے بندے مقبوضہ کشمیر پہنچ جاتے ہیں یہ بھارت کی ناکامی ہے۔حافظ محمد سعید اسلام اور پاکستان کی بات کرتے ہیں،کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ کہتے ہیں بانی پاکستان نے بھی شہہ رگ کہا تھاانجمن نوجوانان پاکستان کے چیئرمین عبداللہ گل نے کہاکہ کشمیر یوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور ہماری حکومتیں مفادات کی خاطر مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال رہی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...