سی پیک منصوبے میں نظر انداز کیا گیا، عدالت جائیں گے: کے پی کے حکومت، اقدام حیرت انگیز ہو گا: امیر مقام

سی پیک منصوبے میں نظر انداز کیا گیا، عدالت جائیں گے: کے پی کے حکومت، اقدام ...

پشاور(اے این این) خیبر پختونخوا حکومت نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں صوبے کو نظر انداز کرنے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی صوبے کی طرف سے(آج) عدالت عالیہ میں رٹ دائر کریں گے۔خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق احمد غنی نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ وفاق نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا مغربی روٹ تعمیر کرنے اور خیبر پختونخوا کا اس کا جائز حصہ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ایک رابطہ سڑک کے سوا صوبے کا سی پیک میں کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔ نہ ہی وفاقی حکومت سی پیک معاہدے کی دستاویزات فراہم کی گئیں۔ مشتاق غنی نے بتایا کہ صوبائی اسمبلی نے سی پیک میں صوبے کو اس کا جائز حق دینے کے لئے متفقہ قرار داد کی منظوری بھی دے چکی ہے۔ تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں نے اسپیکر کو اختیار دیا ہے کہ وہ صوبے کے حقوق کے لئے قانونی راستہ اختیار کریں۔ اسی فیصلے کی رو سے اسپیکر(آج) پیر کو وفاقی حکومت کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔ دوسری جانب وزیر اعظم کے سیاسی مشیر انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ اس فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی 29اگست کو وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے سی پیک پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اب کیا ہو گیا ہے جو صوبائی حکومت عدالت جا رہی ہے ،اب عدالت جانا سیاست کو چمکانے کے مترادف ہے۔قوم کو بتایا جائے کہ اس اقدام کے مقاصد اور عزائم کیا ہیں۔سمجھ سے بالاتر ہے کہ کے پی کے سپیکر سی پیک کے حوالے سے کیوں ہائیکورٹ جا رہے ہیں۔وہ پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔امیر مقام نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار دیکھا کہ صوبے کا منتخب وزیر اعلی اور سپیکر فیڈریشن پر حملہ کرنے جا رہے تھے، خیبر پختونخوا میں گررنر راج لگانے کی کوئی نیت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اسلام اباد جانے کے لئے سرکاری وسائل کا استعمال کیا، سرکاری پیلی کاپٹر کا ایک گھنٹے کا خرچہ لاکھوں روپے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو سی ایم ہاؤس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سی ایم ہاس عوام کا ہے، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے عزائم کو خیبرپختونخوا کی عوام نے مسترد کر دیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...