ڈیرہ،پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی سے قبل اختلافات شدت اختیار کر گئے

ڈیرہ،پیپلز پارٹی کی تنظیم سازی سے قبل اختلافات شدت اختیار کر گئے

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورو رپورٹ) ڈیرہ میں پی پی پی کی نئی تنظیم سازی سے قبل جیالوں کے اختلافات شدت اختیار کر گئے نظریاتی ورکروں کی رائے کو نظر انداز کیاگیا تو نہ صرف کنڈی برادران بلکہ اس کے ہمنواؤں کیخلاف پیپلزورکر ز الائینس نے دما دم مست قلندر ہونے کااعلان کردیا پارٹی کیساتھ بہت کھیل کھیلا جاچکا ہے اب پارٹی کو کندھا شہید بابا کے نظریاتی جیالے دیں گے نواب خان ملک ازم کو پارٹی سے بھگا کر دم لیں گے ،پیپلزورکر زالائینس کا انتباہ تفصیلات کے مطابق انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ آئندہ چند روز میں پی پی ڈیرہ کی تنظیم سازی ہونے کو جارہی ہے اس اہم ایشو پر پیپلزورکر زالائینس کا اکٹھ ہوا جس میں کثیر تعداد میں بھٹو شہید کی پارٹی کے متوالوں نے شرکت کی اجلاس میں تمام جیالوں کا ایک ہی بات پر اتفاق ہوا کہ ڈیرہ پیپلز پارٹی میں تنظیمی عہدے خود جیالے باہمی مشاورت سے طے کریں گے کنڈی برادران کی ہم ایک ہی نہیں چلنے دیں گے فیصل اور احمد کنڈی پیپلزپارٹی ڈیرہ کی تباہی کے براہ راست ذمہ دار ہیں فیصل اور احمد کنڈی نے ملکر جہاں پارٹی کا بیٹرا غرق کیا ہے تو وہی پر ان دونوں بھائیوں نے بے پناہ کرپشن کرکے خوب تجوڑیاں بھریں ایک وقت تھا فیصل کنڈی ڈسٹرکٹ کونسل کی کٹھارہ گاڑی پر پھیر تا تھا اب اربوں روپے کی جائیداد یں ہتھیالیں ہیں ورکروں کے ساتھ اپنے دور اقتدار میں نارواسلوک کیا جسکی وجہ سے نظریاتی ورکر اب دلبرداشتہ ہوکر گھروں میں جابیٹھے ہیں پارٹی پر برا وقت ہے اوراب فیصل پھر چور دروازے سے انٹری کرنا چاہتا ہے لیکن پیپلزورکرز الائینس کنڈی اور اس کے متوالوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریگی ان جیالوں نے یہ بھی کہا کہ ہم ایسی تنظیم سازی کو ہر گز قبول نہیں کرینگے کہ جو ہماری مشاورت سے بغیر تشکیل دی گئی ہو گئی عہد ے اب نظریاتی جیالوں کے پاس ہوں گے نواب ‘ ملک ‘خان پارٹی کے غدار ہیں اور ہم ان کی ایک بھی نہیں چلنے دیں گے انہوں نے اس اجلاس میں قائدین کو یہ بھی عندیہ دیا کہ ڈیرہ ہمارا ہے اور عہدے بھی ہم مشاورت سے تقسیم کریں گے اسلام آباد ‘پشوری اور چارسدہ مردان والوں کو کیا خاک پتہ ہے کہ اصل ورکر جیالا کون ہے اور چوری کے مجنوں کون ہیں پیپلزورکرز الائینس نے قیادت کو اسی اجلاس کے توسط سے مطالبہ کیا ہے کہ خدارا اب پارٹی ڈیرہ کیساتھ بہت کھیل کھیلا جاچکا ہے نظریاتی ورکر گھروں میں بیٹھ گئے ہیں پارٹی پر بڑا مشکل وقت ہے جمعیت اور پی ٹی آئی کا ہمارے ساتھ مقابلہ ہے اس لئے تنظیمی عہدے نظریاتی جیالوں کو باہمی مشاورت سے دیئے جائیں کارکنان پارٹی کا اثاثہ ہوتے ہیں الیکشن کی ٹیکٹس لینے والوں کو تنظیمی عہدے ہرگز نہ دئیے جائیں اگر ان فیصلوں کے بعد بھی قیادت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا اور ساتھ ساتھ آئندہ الیکشن میں پارٹی کا جو شیرازہ بکھیر جائے گا اور نامزد امیدواروں ہار گئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری مرکزی وصوبائی قائدین پر ہوگی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...