ڈیرہ‘ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے‘ علامہ رمضان توقیر

ڈیرہ‘ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے‘ علامہ رمضان توقیر

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورو رپورٹ) ڈیرہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے تعلیمی اداروں کو سیاست سے پاک ہونا چاہئے اس وقت گومل یونیورسٹی میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے اسکی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں کرپشن کھلے عام ہورہی ہے اور ایکٹ 2016کی کھلم کھلا خلاف کی وجہ سے شدید بد نظمی ہوچکی ہے جبکہ زرعی یونیورسٹی کے قیام میں بھی سازش کے تحت روکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں اور وائس چانسلر سرور چوہدری مخصوص لابی کے اشاروں پر یونیورسٹی کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے ۔ یونیورسٹی میں کسی خٹک لابی کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے جبکہ ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جائے اگر پندرہ دن کے اندر ضلع انتظامیہ اور وی سی گومل یونیورسٹی نے مسائل حل نہ کئے تو مسائل کے حل تک احتجاج اور دھرنا ہوگا۔ان خیالا ت کا اظہار آل پارٹیز کانفرنس میں مذہبی ، سیاسی ،ڈاکٹرز اور تجارتی تنظمیوں کے ذمہ داران نے کیا کانفرنس کے مہمان خصوصی سابق صوبائی مشیر اعلی خیبر پختونخواہ علامہ رمضان توقیر تھے ۔ اس موقع پر تین قراردایں منظور کی گئی جسمیں موٹر سائیکل ڈبل سواری پر عائد پابندی ہٹانے اورتھانہ کینٹ کے ایل ایچ سی عطاء الرحمن کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ضلع بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا کہ علاوہ اے پی سی کے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دینے کے مطالبے کو بھی اتفاق رائے سے منظور کیا گیا ۔اس موقع پر ضلع ممبر پی ٹی آئی ضلع ممبر ہارون اعوان ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفادات سے بالا تر ہوکر ہمیں ڈیرہ کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنا ہوگی گومل یونیورسٹی کے مسائل پر میں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرایا ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر توجہ دینی چاہئے کہ اس وقت شہر میں قبضہ مافیا سرگرم ہے اور جعلی چیک کے ذریعے نوسرباز شریف شہریوں کو لوٹ رہے ہیں اور بوگس ایف آئی آر کراکر شہریوں کو لوٹا جارہا ہے جبکہ جے یو آئی کے رہنما عارف جلیل کا کہنا تھا کہ گومل یونیورسٹی اس وقت چند ہاتھوں میں یرغمال نظر آتی ہے اور وی سی سرور چوہدری ایک ایجنڈے کے تحت نہ صرف یونیورسٹی ایکٹ کا جنازہ نکال رہے ہیں بلکہ مفتی محمود زرعی یونیورسٹی کے قیام میں بھی بڑی روکاوٹ ثابت ہو رہے ہیں اور ساتھ ساتھ خٹک لابی کے ساتھ ملکر یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور گومل کالج آف ویٹرنری میں ہونے والی کرپشن پر مٹی پاؤ کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں جو کہ قابل برداشت ہے اے پی سی میں شریک سابق امیدوار این اے 47اشفاق خان بیٹنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایف آر ٹانک میں گومل یونیورسٹی کیمپس منظور ہونے کے باوجود تاحال یونیورسٹی کی موجودہ انتظامیہ تاخیری حربے استعمال کررہی ہے جبکہ زرعی یونیورسٹی کی منظوری کے باوجود عملدرآمد نہ ہونا بھی یونیورسٹی انتظامیہ کی ناپاک ارادوں کو ظاہر کررہا ہے قومی وطن پارٹی کے رہنما امان اللہ خان نے کہا کہ ایک فورم پر اکٹھا ہوکر ناچاہتے اور یونیورسٹی کی کالی بھیڑوں کو مار بھگانا ہوگا پی ڈے کے صدر ڈاکٹر فاروق گل نے کہا کہ ہسپتال کا یہ عالم ہے کہ جب سے سٹی سکین لگا ہے تب سے اب تک ناکارہ پڑا ہے جبکہ کسی قسم کے ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں ہے MTIکے حوالے سے ہمارے سارھے13سو ملازمین نے NTIکی مخالف کی ہے مگر پھر بھی MTIلاگو کی جارہی ہے جبکہ یونیورسٹی میں ہونے والی زیادتیوں اور خلاف ورزیوں پر فوری نوٹس لیتے ہوئے اسے ضلع بدر کریں جسے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا گیا اور یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ APCکے ایجنڈا کے مطابق کمشنر ڈیرہ سے وفد کی صورت میں ملاقات کی جائیگی جسمیں وائس چانسلر کو بھی بلایا جائے اے پی سی میں شریک تمام سیاسی مذہبی اور تاجر تنظیموں کے نمائندگان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اگر پندرہ دن کے اندر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو احتجاج اور دھرنا ہوگا یونیورسٹی کی تالا بندی بھی ہوگی۔آل پارٹیز کانفرنس میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض چوہدری شفیق نے سرانجام دیئے جبکہ ضلع ممبر محمد حنیف پیپا ایڈوکیٹ ، چوہدری جمیل احمد اور پیپلزپارٹی کے ممبر ضلع کونسل انعام اللہ تاجو خیل بھی کافی متحرک نظر آئے جبکہ آل پارٹیز کانفرنس میں پیپلزپارٹی کی ضلعی صدارت کے امیدوار ملک اقبال ایسر ،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار سردار قیضار خان میانخیل ،مرکزی انجمن تاجران کے جنرل سیکرٹری حاجی محمد رمضان ،قاری خلیل احمد سراج ،سعید اختر بلوچ ،حاجی بشیر بلوچ ،ملک خضر ڈیال،کونسلر حکیم خان استرانہ ، سابق ایم پی اے شائستہ بلوچ اور محمد ایوب عرف لعل بادشاہ نے بھی اظہار خیال کیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...