’’ پانامہ لیکس‘‘ سے زیادہ ’’نیوز لیکس‘‘ خطرناک ہے، حافظ حسین احمد

’’ پانامہ لیکس‘‘ سے زیادہ ’’نیوز لیکس‘‘ خطرناک ہے، حافظ حسین احمد

جیکب آباد(نامہ نگار ) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ حکومت کے لیے’’ پانامہ لیکس‘‘ سے زیادہ ’’نیوز لیکس‘‘ خطرناک ہے، پرویز رشید کی قربانی سے دیگر قربانیوں کی راہ ہموار ہوئی ہے، تیر سے شیر کا شکار ممکن نہیں، شیر کے شکار کے لیے تیر کون چلائے گا بلاول یا زرداری یہ دیکھا جائے گا، بلاول کے 4مطالبات فیس سیونگ ہے، لگتا ہے بلاول سے پہلے ان کے والد ’’زرداری‘‘ نہ شادی کرلیں، دھرنے کی کامیابی یا ناکامی نتائج کے حوالے سے دیکھی جائے گی۔ اتوار کے روز ڈسٹرکٹ پریس کلب جیکب آباد کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ حسین احمد نے مزید کہا کہ حکومت کے لیے پانامہ لیکس سے زیادہ ڈان لیکس خطرناک ثابت ہوسکتی ہے دونوں میں قدر مشترک ایک بات ہے کہ دونوں کے حقائق کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے، پانامہ لیکس میں ملک کے وسائل کا مسئلہ ہے اور ڈان لیکس میں ملک کی سالمیت کی بات ہے، انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس پر پرویز رشید کی قربانی سے دیگر قربانیوں کی راہ ہموار ہوگی، انہوں نے کہا کہ شیر کے شکار کی باتیں کی جارہی ہیں شاید شیر کے شکار کے لیے تیر نہ کافی ہواور تیر سے شایدشیر کا شکار بھی ممکن نہ ہو، اب دیکھا جائے کہ پیپلز پارٹی میں تیر چلانے والا بلاول ہے یا زرداری اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اصل ’’تیر انداز‘‘ کون ہے، حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کے 4مطالبات فیس سیونگ کے لیے ہے ان کا خیال ہے کہ عدلیہ کسی منطقی انجام تک پہنچے گی اس لیے مطالبہ کرنے میں نقصان کیا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ بلاول کو ابھی خوف ہے کہ ان کا والد ’’زرداری‘‘ ان سے پہلے شادی نہ کرلیں، بلاول بھٹو زرداری کو غریب خاندان سے شادی کرنی چائیے اگر وہ واقعی غریبوں کا ہاتھ تھامنے والا ہے تو غریب خاندان کی لڑکی کا ہاتھ تھام لیں گے، انہوں نے عمران خان کے دھرنے کے حوالے کہا کہ دھرنے کی کامیابی یا ناکامی نتائج کے حوالے سے دیکھی جائے گی ابھی ٹیسٹ سیریز ختم نہیں ہوئی امپائر کا فیصلہ ابھی باقی ہے انگلی اٹھتی ہے کہ نہیں اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ تحریک کامیاب ہوئی یا ناکام، انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک چھپے رستم نکلے جس کے نام کے ساتھ ’’پرویز‘‘ ہوگا اس سے یہی توقع رکھی جاسکتی ہے جو انہوں نے دھرنے کے وقت کیا تھا، انہوں نے کہا کہ کوشش ہورہی ہے کہ ڈاکٹر عاصم سمیت زرداری شرجیل میمن اور دیگرکے خلاف کیسز ختم ہو اور کوئی نیا این آر او ہو لیکن اب تک اس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...